Inquilab Logo Happiest Places to Work

جارج واشنگٹن کارور مشہور امریکی زرعی سائنسداں اور موجد تھے

Updated: July 31, 2026, 9:27 PM IST | Mumbai

George Washington Carverنے کسانوں کو جدید زرعی علوم سے روشناس کرایا اور ثابت کیا کہ سائنسی تحقیق کا اصل مقصد خدمت خلق ہے۔

George Carver is considered a national hero in the United States. Photo: INN
جارج کارور کو امریکہ میں  قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ تصویر: آئی این این

جارج واشنگٹن کارور مشہور امریکی زرعی سائنسداں، معلم، مصنف، مصور، موجد، ماہر حیاتیات، ماہر نباتیات، ماہرکیمیا اور انسان دوست تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریب کسانوں، خصوصاً افریقی نژاد امریکی کسانوں کی فلاح و بہبودکیلئے وقف کر دی۔ 
جارج واشنگٹن کارور یکم جنوری۱۸۶۴ء کو امریکی ریاست مِزوری (Missouri) کے قصبے ڈائمنڈ کے قریب غلامی کے دور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی درست تاریخِ پیدائش معلوم نہیں کیونکہ اس زمانے میں غلاموں کی پیدائش کا باقاعدہ ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ ان کے والد کا انتقال ان کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا جبکہ وہ شیر خوار تھے تو ڈاکوؤں نے ان کی والدہ اور بہن کو اغوا کر لیا جو پھر کبھی واپس نہ آ سکیں۔ اس کے بعد ان کے مالک موسز کارور اور ان کی اہلیہ سوسن کارور نے جارج اور ان کے بھائی جیمز کی پرورش کی اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ اس زمانے میں افریقی نژاد بچوں کیلئے تعلیمی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں، اس لئے جارج کو تعلیم حاصل کرنے کیلئےکئی شہروں کا سفر کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے سمپسن کالج میں داخلہ لیا جہاں ابتدا میں مصوری کی تعلیم حاصل کی لیکن ان کے اساتذہ نے ان کی نباتات میں دلچسپی دیکھ کر انہیں زرعی سائنس کی طرف راغب کیا۔ اس کے بعد وہ آئیوا اسٹیٹ ایگریکلچرل کالج میں داخل ہوئے اور زرعی سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ اس ادارے کے پہلے افریقی نژاد امریکی طالب علم اور پہلے سیاہ فام استاد بھی بنے۔

یہ بھی پڑھئے: معروف امریکی مصنفہ شرلی جیکسن جدید ہارر ادب کی معمار ہیں

۱۸۹۶ء میں ممتاز افریقی نژاد امریکی لیڈر بکر ٹی واشنگٹن نے جارج واشنگٹن کارور کو ٹسکیگی انسٹی ٹیوٹ میں زرعی شعبے کی سربراہی کی دعوت دی۔ کارور نے یہ دعوت قبول کی اور تقریباً۴۷؍ سال تک اسی ادارے میں تدریس، تحقیق اور زرعی اصلاحات کا کام انجام دیتے رہے۔ انہوں نے کسانوں کو جدید زرعی طریقے سکھائے، تجرباتی کھیت قائم کئے اور دیہات میں جا کر عملی تربیت دی۔ 
کارور نے محسوس کیا کہ امریکی جنوب کے کسان مسلسل کپاس کی کاشت کی وجہ سے زمین کی زرخیزی کھو رہے ہیں۔ انہوں نے فصلوں کی گردش (Crop Rotation) کا نظریہ عام کیا جس کے تحت کسانوں کو کپاس کے ساتھ مونگ پھلی، سویابین، مٹر اور شکر قندی جیسی فصلیں اگانے کا مشورہ دیا۔ چونکہ یہ پودے زمین میں نائٹروجن کی مقدار بڑھاتے ہیں، اس لئے مٹی دوبارہ زرخیز ہونے لگی اور فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ طریقہ بعد میں دنیا بھر میں پائیدار زراعت کے اہم اصولوں میں شامل ہو گیا۔ جارج واشنگٹن کارور کو عام طور پر’’مونگ پھلی کا سائنسداں ‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے مونگ پھلی سے تقریباً۳۰۰؍ سے زائد مصنوعات تیار کرنے کے طریقے دریافت کئے۔ ان کی ان تحقیقات کا مقصد مونگ پھلی کی نئی منڈیاں پیدا کرنا تھا تاکہ کسانوں کا فائدہ ہوسکے۔ جارج واشنگٹن کارور کا انتقال ۵؍جنوری ۱۹۴۳ءکو امریکی ریاست الاباما میں ہو ا تھا۔ 
( وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK