رواں ہفتے ملک کے تقریباً تمام بڑے انگریزی، ہندی اور مراٹھی اخبارات نے تعلیمی نظام میں بڑھتی بدعنوانی، مسلسل پیپر لیک، دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج، مرکزی حکومت کے اڑیل رویے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حالیہ بیان پر اداریے شائع کیے ہیں۔
نوجوانوں سے بات چیت کے بجائے ان کے خلاف طاقت کااستعمال کرنا حکومت کی بہت بڑی غلطی ہے۔ تصویر: آئی این این
رواں ہفتے ملک کے تقریباً تمام بڑے انگریزی، ہندی اور مراٹھی اخبارات نے تعلیمی نظام میں بڑھتی بدعنوانی، مسلسل پیپر لیک، دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج، مرکزی حکومت کے اڑیل رویے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حالیہ بیان پر اداریے شائع کیے ہیں۔ ان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دہلی سے لے کر ملک کے دور دراز علاقوں تک پھیلنے والا طلبہ کا احتجاج محض امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف وقتی ردِعمل نہیں بلکہ منصفانہ اور قابلِ اعتماد تعلیمی نظام کیلئے نوجوان نسل کی ایک مضبوط اور منظم آواز ہے۔ بیشتر اخبارات نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال یا سیاسی بیان بازی کے بجائے تعلیمی نظام کی خامیوں کو دور کرے۔ پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے اور نوجوانوں کے متزلزل اعتماد کو بحال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
یہ اصلاح کی سمت آغاز ہے یا غصہ سرد کرنے کی کوشش
لوک ستہ( مراٹھی، ۲۴؍جولائی)
’’وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان کہ طلبہ کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے، بلاشبہ ایک مثبت اور حوصلہ افزا بات ہے مگر اس بیان کی معنویت اسی وقت ثابت ہوگی جب یہ محض الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے۔ سوال یہ ہے کہ جب برسوں سے لاکھوں طلبہ پیپر لیک اور غیر شفاف نظام کا شکار ہوتے رہے تب حکومت کی حساسیت کہاں تھی؟اگر یہی احساس وقت پر بیدار ہوتا تو شاید آج نوجوانوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے اور اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف قومی اور ریاستی سطح کے امتحانات کے پیپر لیک ہونے کے کم از کم ۴۵؍ بڑے واقعات سامنے آئے جن سے لاکھوں امیدوار متاثر ہوئے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف دو مقدمات ہی اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکے جبکہ باقی یا تو تفتیش کی گرد میں دبے ہوئے ہیں یا برسوں سے عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں۔ انصاف میں یہ تاخیر درحقیقت انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ ایسے میں اب اگر حکومت فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا اعلان کرتی ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا یہ اقدام حقیقی اصلاح کا آغاز ہے یا عوامی غصے کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کی کوشش؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض پیپر لیک کیس کے ملزمین بعد میں سیاسی سرپرستی حاصل کرتے ہوئے عوامی نمائندے بن گئے مگر ان کے خلاف کارروائی مؤثر انداز میں آگے نہ بڑھ سکی۔ اگر قانون کا شکنجہ کمزور اور احتساب کا نظام سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو جائے تو پھر فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلانات اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ حکومت کو صرف نئے وعدے کرنے کے بجائے یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ ماضی کے درجنوں مقدمات آج تک منطقی انجام سے کیوں محروم ہیں۔ ‘‘
طلبہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ایک فطری امر ہے
پربھات( مراٹھی، ۲۲؍جولائی)
’’دہلی کی فضا میں پھیلا آنسو گیس کا دھواں، جنتر منتر پر گونجتے احتجاجی نعرے اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہزاروں طلبہ کا بے مثال اجتماع اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام ایک گہرے بحران سے دوچار ہے۔ نیٹ سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیاں اور پیپر لیک اب محض امتحانی بے قاعدگیوں کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ یہ کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل ان کے اعتماد اور ریاستی اداروں کی ساکھ کا سوال بن چکی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ذمہ داران نوجوانوں کی اس بے چینی کو سمجھنے کے بجائے اسے معمولی واقعہ قرار دینے یا تحقیر آمیز انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کو طنز و تمسخر کا نشانہ بنانا اور ان کی جدوجہد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا کسی بھی جمہوری نظام کے شایانِ شان نہیں۔ جب نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی برس ایک امتحان کی تیاری میں صرف کریں اور پھر ہر سال پیپر لیک اور بدانتظامی ان کی محنت کو پامال کر دے تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ایک فطری امر ہے۔ آزادی کی تحریک کے دوران’چلو دہلی‘ کا نعرہ قومی بیداری اور تبدیلی کی علامت تھا۔ آج دہلی کی سڑکوں پر جمع ہونے والے نوجوان اسی جذبۂ مزاحمت کی نئی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار ان کے ہاتھوں میں سیاسی جھنڈے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کو بچانے کی فریاد ہے۔ یہ احتجاج کسی پارٹی یا تنظیم کا نہیں بلکہ اس نسل کی بے بسی کی آواز ہے جو انصاف اور شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دارالحکومت کی شاہراہوں پر ٹریفک جام، ایمبولینس کی رکاوٹ، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پولیس کی سخت کارروائیاں یقیناً افسوس ناک ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ افسوس ناک وہ صورتِ حال ہے جس نے لاکھوں نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ ‘‘
طاقت کے استعمال کو آخری راستہ کیوں مان لیا گیا؟
جن ستہ( ہندی، ۲۲؍جولائی)
’’داخلہ امتحانات کے نظام میں اصلاحات اور جوابدہی طے کرنے کا مسئلہ اب سڑک سے لےکر پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن اس مسئلے کو زور و شور سے اٹھا رہی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ملک کا آئین ہر شہری کو اجازت دیتا ہے کہ وہ حکومت و انتظامیہ یا کسی بھی ادارے کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف پرامن طریقے سے اپنے عدم اطمینان اور مطالبات کا اظہارکر سکے۔ ایسے میں کیا وجہ رہی کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے بات چیت کے بجائے ان کے خلاف طاقت کا استعمال ہی آخری راستہ مان لیا گیا۔ کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے کہ احتجاجی نوجوانوں کے مطالبات پر غور کرے اور حل کا کوئی راستہ نکالے؟اتنا ہی نہیں پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر جاری جمود کی وجہ سے جو قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اس کیلئے کون ذمہ دار ہے؟ پارلیمنٹ کا کام عوامی مفاد سے جڑے مسائل پر غور و خوض کرکے انہیں حتمی شکل دینا ہوتا ہے لیکن جب ایوان میں کوئی کام کاج ہی نہیں ہوگا تو پھر اس کے بنیادی مقصد کی تکمیل کیسے ہو پائے گی؟سوال یہ بھی ہے کہ کیانوجوانوں کو مختلف حربوں کے ذریعے احتجاج سے دور رکھنے سے ان کے مسئلے کا حل ہو جائے گا۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں کھڑی ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھائے جانے اور ہنگامے کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں کام کاج نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کی ترجیح یہی ہونی چاہئے کہ جنتر منتر پر ڈیرہ ڈالے نوجوانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور بات چیت کے ذریعے حل کا راستہ نکالا جائے۔ ‘‘
عوام کو اعتماد ہونا چاہئے کہ عدالت ان کی بات سنے گی
دی فری پریس جنرل( انگریزی، ۲۴؍جولائی)
’’سپریم کورٹ خود کو آئین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسبان قرار دیتی رہی ہے۔ اس جلیل القدر مقام کے ساتھ اتنی ہی بھاری ذمہ داری اور توقعات بھی عائد ہوتی ہیں۔ یعنی جب بھی شہریوں کی آزادیوں اور حقوق کی سنگین پامالی کے الزامات سامنے آئیں تو عدالت عظمیٰ کا رویہ اور رویّہ کم از کم ایسا ضرور ہونا چاہیے جس سے مظلوم کو یہ احساس ہو کہ اس کی فریاد سنی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کا وہ مبینہ تبصرہ انتہائی تشویش کا باعث بنا ہے جس میں انہوں نے طالب علم مظاہرین پر پولیس کے مبینہ تشدد کی ویڈیوز دیکھنے کیلئے ’وقت کی کمی‘ کا اظہار کیا۔ یہ سچ ہے کہ عدالتیں سوشل میڈیا کے وائرل کلپ کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر سکتیں مگر عدلیہ کے اعلیٰ ترین ایوان سے ادا ہونے والے الفاظ محض لفظ نہیں ہوتے وہ انتہائی گہرے علامتی اثرات رکھتے ہیں۔ ۲۰؍جولائی کے ’چلو سنسد‘ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف ہونے والے پولیس کریک ڈاؤن کی جو ویڈیوز منظر عام پر آئے ہیں، وہ حد درجہ پریشان کن ہیں۔ ان مناظر میں سیکوریٹی اہلکاروں کو نہتے طلبہ پر بے جا طاقت کا استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پولیس پر قانون کی طرف سے ممنوعہ ہتھکنڈے اپنانے کے سنگین الزامات بھی لگے ہیں جن کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ ان معاملات کو یوں ہی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جدوجہد کی اس لہر کو تقویت دینے میں چیف جسٹس کا وہ سابقہ تبصرہ بھی شامل ہے جس میں ’کاکروچ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا اور جس کی بعد میں صفائی پیش کیے جانے کے باوجود نوجوانوں کے اندر گہرا رنج و غصہ پایا گیا۔ اس رد عمل کے نتیجے میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا وجود میں آنا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقتدار اور اختیار کے ایوانوں سے نکلنے والے الفاظ کے نتائج اکثر توقع سے کہیں زیادہ گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ ‘‘