Inquilab Logo Happiest Places to Work

توڑ دو ایک اور ادارہ، پھونک دو ساری کتابیں

Updated: July 31, 2026, 10:01 PM IST | Pawan Singh | Mumbai

اگر ضابطے کی بات کی جائے گی تو صرف جوہر یونیورسٹی نہیں، لکھنؤ کے تمام سیاستدانوں کے گھر اور کاروبار بھی نپٹ جائیں گے۔

Will the voices of these students protesting at the gate of Jauhar University be heard in the parliament? Photo: INN
جوہر یونیورسٹی کے گیٹ پر احتجاج کرنے والی ان طالبات کی آواز کیا ایوانوں میں سنی جائے گی۔ تصویر: آئی این این

لگتا ہے کہ کسی ظالم بادشاہ کی روح ملٹی پلائی (کئی گنا) ہو کر اس ملک کے طاقتور لوگوں کے ضمیر کا قتل کر چکی ہے۔ جڑ، جنگل، زمین، کھیت، کھلیان، ندیاں، تالاب، ساحل اور ہوائیں سب کچھ تباہ کرنے کی وحشت میں اب اسکول، کالج، اسپتال تک کا نمبر لگ چکا ہے۔ بستیاں پھونک کر اپنے ہی ملک کے کمزور لوگوں کو تباہ کر دینے کا شوق اس قدر ہے کہ بس ’انسانوں کے سروں کا ہار‘ پہننے کی تمنا ہی باقی رہ گئی ہے۔ 
جس ملک میں اسکولوں، کالجوں اور میڈیکل کالجوں کے بند ہونے پر مٹھائیاں بانٹی جاتی ہوں، زانیوں کے جیل سے چھوٹنے پر ہار پہنا کر استقبال کرنے کی روایت شروع ہو چکی ہو، وہ تعلیم اور تعلیمی اداروں سے نفرت کیوں نہ کرے؟ ایسے ماحول میں ملک کے نامور مجاہدِ آزادی مولانا جوہر کے نام سے بنی یونیورسٹی کے ٹوٹنے کی خبر نے مجھے نہ حیران کیا نہ پریشان کیا۔ کیونکہ جب تباہی کا جشن منایا جانے لگے تو آپ اکیلے کیا کریں گے؟ چپ چاپ تباہی کا جشن دیکھیے۔ بے شک، جیسے جموں کشمیر میں ایک سرکاری میڈیکل کالج کے بند ہونے پر مٹھائیاں بانٹی گئی تھیں، جوہر یونیورسٹی کے زمین دوز ہونے پر بھی بانٹی جانی چاہئیں !
دنیا کی تاریخ اٹھا لیجیے، آپ کو کہیں یہ پڑھنے کو نہیں ملے گا کہ حکومتوں نے اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، سرائے گاہوں کو لوٹا ہو، لیکن آئیے اپنے ملک ہندوستان کی دھرتی پر، آپ کو نالندہ سے لے کر آج تک تعلیمی اداروں کو مسمار کر کے، ان پر خوشیاں منانے والے بیوقوفوں کی بھیڑ یہیں نظر آئے گی۔ قوانین اور ضوابط کا ایسا حوالہ دیا جاتا ہے جیسے ہم اکیلے ایسے ملک میں ہیں جہاں سب کچھ بہت ہی قانون سے، قاعدے سے، معیار سے، جواب دہی سے، شفافیت سے اور پورے شہری شعورکے ساتھ ہو رہا ہے۔ نالندہ کو پھونکنے کا الزام بھی کسی اور پر ڈالا گیا- وہ تو بعد میں مؤرخین نے لکھا کہ بدھ مت سے بیزار اور نفرت سے بھرے لوگوں نے خود ہی آگ لگائی اور کلنک ایک مسلم حملہ آور پر تھوپ دیا۔ اگر یہ ملک اتنے ہی قوانین سے چل رہا ہے تو پورے ملک میں تقریباً ۷۵؍سے ۸۰؍فیصد مکانات اور کالونیاں غیر قانونی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے ایٹمی بموں کا استعمال کر کے سب کچھ نیست و نابود کر دے۔ تمام شہر اور رہائشی علاقے تب بنے تھے جب نام نہاد ترقیاتی اتھارٹی نام کا محکمہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ 
بے شک ۳۰۰؍ ایکڑ میں پھیلی جوہر یونیورسٹی کو نیست و نابود کر دیا جانا چاہئے کیونکہ کیمپس کی ۴۰؍ میں سے صرف ۲؍ بلڈنگ کے نقشے ہی پاس ہیں۔ اس لحاظ سے دارالحکومت لکھنؤ میں لاکھوں عمارتیں بغیر نقشہ پاس ہوئے کھڑی ہیں۔ گومتی نگر سے لے کر’آواس وکاس‘ کی تمام بڑی رہائشی اسکیموں میں ہزاروں مکانات ایسے ہیں جن میں بغیر نقشہ پاس ہوئے یا منظور شدہ نقشے کے برعکس عمارت کی ساخت تبدیل کی گئی ہے۔ ہزاروں موجودہ اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے مکانات میں تجارتی سرگرمیاں چل رہی ہیں۔ معیار طے کیجیے تو سب کیلئے کیجیے۔ 
جوہر یونیورسٹی کو حکومت پوری طرح سے تحویل میں (ٹیک اوور) لے سکتی تھی۔ جوہر نام سمجھ نہیں آ رہا تھا تو اپنے کسی ۱۸۵۷ءسے لے کر ۱۹۴۷ءتک کی تحریکِ آزادی کے کسی مجاہد کو تلاش کر لاتی اور نام بدل کر ایک تعلیمی ادارے کو چلاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مسماری کے اس کھیل سے ووٹوں کی وہ فصل تیار ہوتی ہے، جو انمول ہے۔ 
ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ جنوری ۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کے قومی طبی کمیشن (نیشنل میڈیکل کونسل۔ این ایم سی) نے سنگین خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جموں کے ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو دی گئی ایم بی بی ایس چلانے کی اجازت منسوخ کر دی۔ ان سنگین خامیوں کا قومی طبی کمیشن کو تب پتہ چلا جب ۲۶۔ ۲۰۲۵ءمیں ایم بی بی ایس کی ۵۰؍سیٹوں میں سے ۴۲؍ سیٹوں پر مسلم طلبہ کامیاب ہو کر آئے۔ اس میڈیکل کالج کا یہ پہلا ایم بی بی ایس بیچ تھا۔ اس کے بعد کوئی شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش کمیٹی تھی، اس نے بینر لہرایا اور ہندو تنظیمیں سامنے آئیں۔ نتیجے کے طور پر این ایم سی کو خامیاں دکھ گئیں اور داخلے منسوخ ہو گئے۔ ! ہندو تنظیموں نے جشن منایا۔ 
یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں ایم بی بی ایس میں داخلے کے لئے NEET-UG امتحان پاس کرنا لازمی ہوتا ہے اور یہ امتحان حکومت ہند منعقد کرواتی ہے۔ نیٹ کے مارکس کی بنیاد پر جموں کشمیر پروفیشنل اینٹرنس ایگزامینیشن بورڈ کے ذریعے کونسلنگ منعقد کی جاتی ہے اور میرٹ لسٹ کے مطابق طلبہ کو سیٹیں الاٹ کی جاتی ہیں۔ پھر بھی ایک میڈیکل کالج کا بیڑا غرق کر دیا گیا۔ 
ویسے بھی سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کی آندھی چل رہی ہے۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں ملک بھر میں تقریباً۹۴؍ہزار سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں یا ان کا دوسرے اسکولوں میں انضمام کر دیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے حساب سے ہر دن اوسطاً ۲۵؍ سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں۔ اس پوری مدت میں سرکاری اسکولوں کی تعداد جو پہلے۱۱ء۰۷؍ لاکھ تھی، وہ گھٹ کر ۱۰ء۱۳؍لاکھ پر آ گئی ہے۔ مرکز کی حکومت کی طرف سے لوک سبھا میں دی گئی معلومات کے مطابق، گزشتہ ۱۰؍برسوں میں صرف اتر پردیش میں تقریباً۲۴؍ہزار سے ۲۵؍ ہزار سرکاری اسکول بند کئے گئے ہیں (وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۴؍ہزار ۵۹۰)-اس کے برعکس تعلیم کے تاجروں کا یہ دور سنہری دور رہا ہے جب پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ 
حکومت ہند کی یونیفائڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن( UDISE )کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے تعلق سے آئی UDISE رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال ۲۶۔ ۲۰۲۵ءمیں مدھیہ پردیش میں کُل۲؍ہزار۴۲۶؍ اسکول بند ہوئے ہیں اور اس سے پہلے، گزشتہ۵؍ برسوں میں ریاست میں تقریباً۷؍ہزار اسکول بند ہونے کی معلومات سامنے آئی تھی۔ 
لوٹ کر آتے ہیں جوہر یونیورسٹی کی طرف۔ اس میں عوام کا پیسہ لگا ہے۔ اس یونیورسٹی کے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کر کے، سنگھ کے ہی کسی لیڈر کے نام پر نام تبدیل کر کےاسے چلایا جانا چاہئے نہ کہ مسمار کر دینا چاہیے۔ اگر قوانین کا، ضابطے کا، شفافیت کا حوالہ دیں گے تو لکھنؤ کے تمام سفید پوش سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے گھر اور کاروبار بھی نپٹ جائیں گے۔ جب تعلیمی ادارے کھول نہیں سکتے تو اجاڑو بھی نہیں۔ تعلیم، ریسرچ، سائنس، ٹیکنالوجی، لیب، وائرولوجی، صحت یا دیگر موضوعات پر R&D پر شاید بھروسہ نہیں رہا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK