Inquilab Logo Happiest Places to Work

جارج وٹیٹ: مشہور آرکیٹیکٹ، گیٹ وے آف انڈیا کے ڈیزائنر

Updated: May 08, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

George Wittet ممبئی میں اپنی تعمیراتی خدمات کیلئے مشہور ہیں، ان کا منفرداندازِ تعمیر ’’انڈو-سَرَاسَنِک ‘‘طرزِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔

George Wittet designed many historic buildings in Mumbai. Photo: INN
جارج وٹیٹ نےممبئی کی کئی تاریخی عمارتوں کے ڈیزائن تیار کئے۔ تصویر: آئی این این

جارج وٹیٹ برطانوی دور کے ایک نامور ماہرِ تعمیرات(آرکیٹیکٹ) تھے جنہوں نے ہندوستان، خصوصاً ممبئی کی شہری شناخت کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی پیدائش۱۸۷۸ءمیں برطانیہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے فنِ تعمیر کی تعلیم اسکاٹ لینڈ میں حاصل کی اور ابتدائی طور پر یورپی طرزِ تعمیر میں مہارت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ برطانوی حکومت کے تحت ہندوستان آئے جہاں انہیں سرکاری معمار (Consulting Architect) کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ ان کا شمار ان معماروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندوستانی اور یورپی طرزِ تعمیر کو ملا کر ایک منفرد’’Indo-Saracenic‘‘ طرز تعمیر کو فروغ دیا، جو اس دور کی نمایاں پہچان بن گیا۔ 
جارج وٹیٹ کی سب سے بڑی خدمات ممبئی کی اہم عمارتوں کی تعمیر سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کا سب سے مشہور کارنامہ’ گیٹ وے آف انڈیا‘‘ہے جو ۱۹۱۱ءء میں کنگ جارج پنجم اور ملکہ میری کی ہندوستان آمد کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا۔ یہ یادگار بحر عرب کے کنارے واقع ہے اور آج بھی ممبئی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں اسلامی، ہندو اور مغربی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، جو وٹیٹ کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
اس کے علاوہ جارج وٹیٹ نے پرنس آف ویلز میوزیم(موجودہ چھترپتی شیواجی مہاراج وستو سنگرہالیہ) کی عمارت بھی ڈیزائن کی جو اپنے خوبصورت گنبد اور مغلیہ طرزِ تعمیر کی جھلک کے باعث بے حد مشہور ہے۔ یہ میوزیم نہ صرف فنِ تعمیر کا شاہکار ہے بلکہ تاریخی و ثقافتی نوادرات کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ اسی طرح جنرل پوسٹ آفس ممبئی (جی پی او) کی عمارت بھی ان کے ڈیزائن کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس میں اسلامی گنبد اور مغربی ساخت کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میموریل اسپتال، گرینڈ ہوٹل اور کراچی پورٹ ٹرسٹ( کے پی ٹی ) بھی ڈیزائن کئے۔ 
جارج وٹیٹ کی دیگر اہم تخلیقات میں انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، ممبئی اور کئی سرکاری و عوامی عمارتیں شامل ہیں جنہوں نے ممبئی کو ایک جدید اور خوبصورت شہر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے کام میں نہ صرف جمالیاتی حسن بلکہ عملی افادیت بھی نمایاں تھی جس کی وجہ سے ان کی ڈیزائن کردہ عمارتیں آج بھی قابل استعمال ہیں۔ 
جارج وٹیٹ کی شخصیت صرف ایک ماہرِ تعمیرات تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسے بصیرت افروز منصوبہ ساز تھے جنہوں نے شہری ترقی کے اصولوں کو بھی اپنے کام کا حصہ بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ عمارتیں محض رہائش یا دفتری استعمال کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ وہ کسی شہر کی تہذیب، تاریخ اور شناخت کی عکاس بھی ہوتی ہیں۔ جارج وٹیٹ کا انتقال ۱۹۲۶ء میں ممبئی میں ہوا تھا مگر ان کے تعمیر کردہ شاہکار آج بھی ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ ممبئی کے سیوڑی قبرستان میں دفن ہیں۔ وہ آج بھی برصغیر کے بہترین آرکیٹکچرزمیں شمار کئے جاتے ہیں۔ 
(وکی پیڈیا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK