حضرت عبد اللہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرماتھے کہ میری والدہ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا: ادھر آئو میں تمہیں چیز دیتی ہوں۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 5:21 PM IST | Maulana Abdul Malik | Mumbai
حضرت عبد اللہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرماتھے کہ میری والدہ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا: ادھر آئو میں تمہیں چیز دیتی ہوں۔
حضرت عبد اللہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرماتھے کہ میری والدہ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا: ادھر آئو میں تمہیں چیز دیتی ہوں۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: تم نے اسے کیا چیز دینے کا ارادہ کیا تھا، انہوں نے عرض کیا: کھجورکا دانہ۔ نبیؐ نے فرمایا: سنو! اگر تم اسے کوئی چیزنہ دیتیں توتمہارے کھاتے میں جھوٹ لکھا جاتا۔ (ابوداؤد،احمد)
یہ بھی پڑھئے: شخصیت سازی کے چند اصول جن کے ذریعے خود میں تبدیلی لا سکتے ہیں
بچوں کی تربیت ماں باپ کی ذمہ داری ہے اوربچپن سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں بچہ جو کچھ سیکھتا ہے، جس سے سیکھتا ہے،وہ ماں باپ ہیں۔ماں باپ سے اسے اسلامی عقیدہ،اسلامی اخلاق، اسلامی آداب، اسلامی احکام کا ایسا درس ملنا چاہیے جو اسے دین کے رنگ میں رنگ دے۔نبیؐ نے بچوں کی تربیت کے لئے بہترین نمونہ پیش کیا۔ بچوں کو درس دیا کہ جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ اللہ کی کبریائی،اس کے احکام اور اس کے دین کی حفاظت ہے۔ساری دنیا مخالفت کرے تب بھی اس کے دین پر ڈٹ جاؤ۔ ساری دنیا مل کر تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گی۔آسودہ حالی میں اللہ کو نہ بھول جاؤ، عافیت اور آسودگی تمہیں غفلت میں مبتلا نہ کردے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بچے تھے۔ آپ نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں انہیں نظرانداز نہیں کیا،بلکہ انہیں ایسی ہدایات دیں جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لئے نسخۂ کیمیا ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی والدہ کے ذریعے ماں باپ کو تعلیم دی کہ ’اولاد‘ کو جھوٹا لالچ نہ دو، اس سے ان کی سیرت جھوٹ پر استوار ہوگی۔بچوں کی تربیت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے یہ بطور نمونہ چند جھلکیاں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مساجد و مدارس کی تعمیر میں غیر مسلم کے پیسے لگانے کا شرعی حکم
آج گھروں کو اسلامی اخلاق وآداب اور تہذیب و ثقافت میںرنگنے، اہل خانہ اوربچوں، بچیوں کو دینی تربیت دینے سے عموماً غفلت برتی جاتی ہے۔ توجہ صرف اس پر ہے کہ انہیں دنیا کمانے کے قابل بنادیا جائے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ گھر میں دین کی تعلیم وتربیت دی جائے۔ عقیدہ، اخلاق، آداب اور احکام پر مشتمل ایک ’نصاب‘ ہر گھر میں رائج ہو۔ نئی نسل میں کردار اور کریئر کے ساتھ اُمتِ مسلمہ کے منصب کے حوالے سے بھی فرائض کا شعور بیدار کیا جائے۔ جن گھرانوں میں اس کی کوشش کی جاتی ہے،وہ لائق صد ستائش ہیں۔ جب ہر گھر میں اس کی فکر کی جائے گی تب مجموعی حالات کے بہتر ہونے میں کافی مدد ملے گی۔ اسکی منظم کوشش ہر مسلمان مرد وعورت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔