Inquilab Logo

آصفہ کا طوطا

Updated: June 15, 2024, 1:12 PM IST | Abdul Wahid Sindhi | Mumbai

ہمارے پڑوس میں ایک لڑکی رہتی تھی۔ اس کا نام آصفہ تھا۔ آصفہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ اسے جانور پالنے کا شوق تھا۔ ایک دن طوطوں والا آیا۔ آصفہ نے ایک چھوٹا طوطا خریدا۔ وہ ابھی بچہ تھا۔ بڑا خوبصورت۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

ہمارے پڑوس میں ایک لڑکی رہتی تھی۔ اس کا نام آصفہ تھا۔ آصفہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ اسے جانور پالنے کا شوق تھا۔ ایک دن طوطوں والا آیا۔ آصفہ نے ایک چھوٹا طوطا خریدا۔ وہ ابھی بچہ تھا۔ بڑا خوبصورت۔ اس کے ہرے ہرے پر تھے۔ اس کی گردن پر لال لال دھاری تھی۔ اس کی چونچ بھی لال تھی۔ اُس کے پاؤں مضبوط تھے۔  پنجوں سے چیزیں پکڑتا اور چونچ سے کترتا۔ کھاتا کم خراب زیادہ کرتا۔  آصفہ نے اُس کے لئے پنجرا خریدا۔ اُس میں ایک صاف پیالی تھی۔ ایک چھوٹی تشتری تھی۔ پیالی میں طوطے میاں پانی پیتے۔ تشتری   میں روٹی کھاتے۔ پھل کھاتے۔ مٹھائی بھی کھاتے۔ ایک منّا سا جھولا بھی تھا۔ طوطے میاں اس پر جھولتے جاتے اور ٹیں ٹیں کرتے جاتے۔
 آصفہ نے سوچا، طوطے میاں کو پڑھانا چاہئے۔ ایک دن اُس کی بسم اللہ ہوئی۔  سارے محلے کے طوطوں کو پھل  ملے۔ مٹھائی ملی۔ آصفہ  نے پہلے اُسے ’’اللہ اللہ ‘‘ سکھایا۔ پھر ’’نبی جی ۔نبی جی‘‘ سکھایا۔ پھر سارے گھر والوں کے نام سکھائے۔
آصفہ کا طوطا روز صبح سویرے اٹھتا۔ سب کو پکار پکار کر جگاتا۔ جب بھوک لگتی تو زور زور سے چیختا ’’بی بی بھوک لگی ہے۔‘‘ جب آصفہ کا بھائی آصف مدرسے لوٹتا تو خوش ہوکر چلاتا ’’بھائی جان آگئے۔ بھائی جان آگئے۔
ایک دن طوطے میاں نے بہت ہوشیاری کا  کام کیا۔ آصفہ کے پاس ایک چھوٹی سی سونے کی انگوٹھی تھی۔ وہ گم ہوگئی۔ سب نے گھر میں تلاش کیا مگر کہیں نہ ملی۔
 تھوڑی دیر کے بعد نوکر نے میاں طوطے کا پنجرا باہر باغ میں لٹکا دیا۔ اِسی باغ میں ایک مزدور کام کررہا تھا۔ طوطے میاں کو شرارت سوجھی، وہ چیخنے اور چلانے لگا ’’چو ر! آپا ! چور‘‘
انگوٹھی مزدور نے چرائی تھی۔ وہ سمجھا میرا بھید کھل گیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ لوگ طوطے کی  آواز سن کر باہر نکلے۔ کیا دیکھتے ہیں میاں طوطے چلائے جارہے ہیں اور مزدور بھاگا جارہا ہے۔  اب سب سمجھ گئے کہ آصفہ کی انگوٹھی مزدور نے چرائی ہے۔ لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس کی جیب ٹٹولی تو انگوٹھی نکلی۔ پھر بتاؤ بھلا کیا ہوا ہوگا۔
  اب سارے لوگ میاں طوطے کو پیار کرتے اور اُس کو اچھی اچھی چیزیں لاکر دیتے۔ اُس نے اچھی اچھی باتیں سیکھ لی تھیں۔ بہت دنوں تک وہ آصفہ کے پاس رہا۔ پھر اُس نے اپنی چھوٹی بہن کو دے دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK