• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہزادی ڈائنا آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں: کرسٹن اسٹیورٹ

Updated: February 06, 2026, 10:01 PM IST | Los Angeles

ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے کہا ہے کہ فلم Spencer (اسپنسر) میں Princess Diana (شہزادی ڈائنا) کا کردار ادا کرنے کے بعد وہ آج بھی ذہنی اور جذباتی طور پر اس سے آزاد نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق ڈائنا کی زندگی، تنہائی اور عوامی دباؤ کی یاد انہیں آج بھی متاثر کرتی ہے اور بعض اوقات وہ اس بارے میں سوچ کر رو پڑتی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ فلم ’’اسپنسر‘‘ میں شہزادی ڈائنا کا کردار نبھانے کے برسوں بعد بھی وہ اس تجربے کے اثر سے باہر نہیں نکل سکیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اسٹیورٹ نے کہا کہ ڈائنا کی شخصیت، ان کی تنہائی اور ان پر پڑنے والا مسلسل عوامی دباؤ آج بھی ان کے ذہن پر حاوی ہے۔ کرسٹن اسٹیورٹ نے بتایا کہ وہ بعض اوقات لندن یا پیرس جیسے شہروں میں گاڑی چلاتے ہوئے اچانک ڈائنا کے بارے میں سوچنے لگتی ہیں۔ بقول اداکارہ ’’میں کسی بھی لمحے ان کے (شہزادی ڈائنا) بارے میں سوچ کر رو سکتی ہوں۔ وہ اب بھی میرے ساتھ ہیں۔‘‘ اداکارہ کے مطابق یہ ایک ایسا کردار تھا جس نے انہیں محض پیشہ ورانہ سطح پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر بھی متاثر کیا۔ ’’اسپنسر‘‘ ۲۰۲۱ء میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں ڈائنا کی زندگی کے ایک مختصر مگر نہایت مشکل دور کو دکھایا گیا۔ فلم کی کہانی ۱۹۹۱ء کے کرسمس کے دنوں کے گرد گھومتی ہے، جب ڈائنا شاہی خاندان کے ساتھ اپنی شادی اور ذاتی شناخت کے بحران سے گزر رہی تھیں۔ اس کردار کے لیے کرسٹن اسٹیورٹ کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور انہیں بہترین اداکارہ کے لیے آسکر نامزدگی بھی ملی۔

اسٹیورٹ نے کہا کہ ڈائنا کا کردار ادا کرنا عام بایوپک کرداروں سے مختلف تھا کیونکہ یہ صرف نقل نہیں بلکہ ایک جذباتی اور نفسیاتی تجربہ تھا۔ ان کے مطابق، ڈائنا کی زندگی میں موجود خاموش تکلیف، میڈیا کا دباؤ اور ذاتی آزادی کی جدوجہد کو محسوس کرنا آسان نہیں تھا، اور یہی وجہ ہے کہ یہ کردار آج بھی ان کے اندر زندہ ہے۔ اداکارہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فلم کی شوٹنگ کے بعد انہیں خود کو جذباتی طور پر سنبھالنے میں وقت لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک عرصے تک خود کو خالی اور تھکا ہوا محسوس کرتی رہیں کیونکہ اس کردار نے ان کی حساسیت کو گہرائی تک چھو لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض کردار اداکار کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے اندر کہیں نہ کہیں باقی رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: انوراگ کشیپ کا نام ایپسٹین فائلز میں، کہا ’’فلموں سے زیادہ یہاں کلک بیٹ ہے‘‘

کرسٹن اسٹیورٹ کے مطابق شہزادی ڈائنا صرف ایک شاہی شخصیت نہیں تھیں بلکہ ایک ایسی عورت تھیں جو عوامی محبت کے باوجود شدید تنہائی کا شکار رہیں۔ یہی پہلو انہیں آج بھی متاثر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈائنا کی کہانی نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ شہرت اور طاقت کے باوجود انسان کس قدر کمزور ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ایک بار پھر شہزادی ڈائنا کی عالمی مقبولیت اور ان کی زندگی کے المیے کو اجاگر کرتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اسٹیورٹ کی کارکردگی نے نئی نسل کو ڈائنا کی شخصیت کو ایک انسانی زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا، اور یہی وجہ ہے کہ یہ کردار اداکارہ کے لیے آج بھی ایک زندہ تجربہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK