بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، پولیس کے ذریعے مظاہرین پر قابو پانے کیلئے آنسو گیس، اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 10:01 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، پولیس کے ذریعے مظاہرین پر قابو پانے کیلئے آنسو گیس، اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
ڈھاکہ میں جمعہ کو نویں قومی تنخواہ اسکیل کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازمین اور پولیس کے درمیان چیف ایڈوائزر محمد یونس کی سرکاری رہائش گاہ جمنا کے باہر جھڑپیں ہوئیں۔ یہ واقعہ عام انتخابات سے کچھ دن قبل پیش آیا ہے۔یہ انتخاب اگست ۲۰۲۴ء میں ہونے والی بدامنی کے بعد ہو رہاہے ، انہیں احتجاج کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے استعفیٰ دے کرہندوستان کا رخ کیا تھا۔ بعد میں یونس کی سربراہی میں ایک نگران انتظامیہ قائم کی گئی تھی تاکہ آزاد اور منصفانہ،انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد، پاکستان: نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکہ، ۳۰؍ ہلاک، کئی زخمی
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ملک کے مختلف حصوں سے ملازمین شہید مینار پر جمع ہوئے اور بعد میں جمنا کی طرف مارچ کرتے ہوئے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔احتجاجیوں نے’’ پیٹ میں چاول نہیں، منہ میں ترقی کیسی؟ جیسے نعرے لگاتے ہوئے حکومت پر معاشی مشکلات پر توجہ نہ دینے کا الزام لگایا۔صبح ساڑھے گیارہ بجے مظاہرین نے شہباغ میں پولیس کی بیریکیڈ توڑتے ہوئے جمنا کے داخلی راستے کی طرف پیش قدمی کی۔ جواب میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن، آنسو گیس، ساؤنڈ گرینیڈز کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔مظاہرین کو محمد یونس کی رہائش گاہ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے وردی پوش فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے، جس کے نتیجے میں جھڑپوں میں تیزی کے بعد متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: غزہ امداد روکنے پر دو فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہریوں کے خلاف وارنٹ جاری
بعد ازاں تنازع اس وقت اور بڑھ گیا جب ایک سینئر پولیس افسر ڈپٹی کمشنر مسعود عالم نے ایک احتجاجی افسر سے پوچھا، ’’کیا آپ انتخابات کو ناکام بنانے کے لیے جمنا آئے ہیں؟‘‘تاہم سرکاری ملازمین نے خبردار کیا کہ پولیس کی کارروائی جاری رہنے سے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایک احتجاجی نے کہا، ’’اگر حملے جاری رہے تو ہم انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔‘‘ دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ وہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔عالم نے کہا، ’’ہم اس بات سے ہوشیار ہیں کہ قانون و افراتفری کی صورت حال پیدا نہ ہو۔ ہم مظاہرین سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں۔‘‘دریں اثناء جمعہ کی دوپہر تک شہباغ اور جمنا کے آس پاس کشیدگی برقرار رہی، جہاں بھاری سیکورٹی تعینات تھی اور حکام حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔