Updated: February 06, 2026, 10:00 PM IST
| Mumbai
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کو ’’اچھا آغاز‘‘ قرار دیا ہے، تاہم کہا کہ یہ بات چیت محدود اور ابتدائی نوعیت کی تھی۔ ان کے مطابق کسی حتمی نتیجے یا معاہدے پر پہنچنے سے قبل مزید مشاورت اور وقت درکار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ عمان میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد محتاط انداز میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات چیت ایک ’’اچھا آغاز‘‘ تھی، تاہم اسے کسی بڑی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ عمان میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں۔ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت سنجیدہ اور باہمی احترام پر مبنی رہی، لیکن یہ مذاکرات ابتدائی نوعیت کے تھے اور ان کا دائرہ محدود رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ یروشلم میں اسرائیل نے انروا کے ہیڈ کوارٹرس کی بجلی، پانی سپلائی معطل کردی
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اس دور میں ہونے والی گفتگو بنیادی طور پر اعتماد سازی اور مؤقف کے تبادلے تک محدود رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کسی معاہدے، سمجھوتے یا ٹھوس پیش رفت کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔ عراقچی نے کہا کہ ’’یہ ایک آغاز ہے، مگر راستہ طویل اور پیچیدہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے بعد فریقین اپنے اپنے دارالحکومتوں میں واپس جا کر مشاورت کریں گے، جس کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ آیا بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کے مراحل کا انحصار اسی داخلی مشاورت اور سیاسی فیصلوں پر ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران نے مذاکرات میں اپنے قومی مفادات اور سرخ خطوط کو واضح رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کسی دباؤ کے تحت بات چیت نہیں کر رہا بلکہ سفارت کاری کو مسئلے کے حل کا ذریعہ سمجھتا ہے، بشرطیکہ یہ برابری اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد، پاکستان: نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکہ، ۳۰؍ ہلاک، کئی زخمی
عمان نے ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا، جو ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ عراقچی نے عمانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسقط نے ایک بار پھر بات چیت کے لیے غیر جانبدار اور محفوظ ماحول فراہم کیا۔ ادھر امریکی حکام کی جانب سے مذاکرات پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے بھی بات چیت کو تعمیری قرار دیا ہے، لیکن کسی قسم کے فوری نتائج یا اگلے مرحلے کی تفصیلات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے محتاط بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعتماد کی بحالی ایک تدریجی اور مشکل عمل ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران اس مرحلے پر امید اور احتیاط کے درمیان توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق بات چیت کا تسلسل ممکن ہے، مگر اس کا دارومدار آئندہ سفارتی اور سیاسی فیصلوں پر ہوگا۔