• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حلوہ چور

Updated: October 31, 2026, 3:44 PM IST | Muzaffar Hanafi | Mumbai

بھائی جان جب اجمیر سے واپس لوٹے تو ان کا ایک بکس طرح طرح کی مٹھائیوں، چاکلیٹوں اور بسکٹوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بھائی جان جب اجمیر سے واپس لوٹے تو ان کا ایک بکس طرح طرح کی مٹھائیوں، چاکلیٹوں اور بسکٹوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ گھر میں آتے ہی سب بچوں نے انہیں گھیر لیا لیکن بھائی جان بھی ایک ہی کائیاں ہیں۔ حلوہ سوہن کا ایک ٹکڑا ایک پیکٹ بسکٹ، کچھ چاکلیٹ اور بس اتنی ہی سی چیزیں نکال کر بچوں میں تقسیم کر دیں اور پورا کا پورا بکس اُٹھا کر اپنے کمرے میں رکھ آئے اوپر سے دروازہ بند کرکے تالا لگا دیا۔

’’اوہو! یہ چاکلیٹ کتنا مزے دار ہے۔ افسوس صرف دو ہی ملے۔‘‘

’’ذرا بسکٹ تو کھا کر دیکھو۔ نہیں.... نہیں.... مَیں نہیں دوں گا۔ اپنے حصے سے کھاؤ۔‘‘

’’کیوں کیسا ہے؟‘‘

’’چاکلیٹ سے ہزار درجہ اچھا۔ بہت ہی نفیس بڑا ہی لذیذ!‘‘

’’اجی بندر کیا جانے ادرک کی قدر؟ بسکٹ لذیذ ہے! کبھی اتنا اچھا چاکلیٹ کھایا بھی ہے زندگی بھر میں؟‘‘

’’تم نے کبھی چکھا ہے اتنا عمدہ بسکٹ؟‘‘

’’مَیں کہتی ہوں چاکلیٹ بسکٹ سے اچھا ہے۔‘‘ ’’مَیں پھر کہوں گا کہ بسکٹ کے مقابلہ پر چاکلیٹ کچھ بھی نہیں۔‘‘

دو مختلف پارٹیاں بن گئی تھیں۔ ایک بسکٹ کی حمایتی اور دوسری چاکلیٹ کی طرف دار۔ بحث بڑھتی ہی جا رہی تھی کہ اشفاق چیخا، ’’بھائیو اور بہنو....‘‘ سب بچّے اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔

’’فیصلہ طلب بات یہ ہے کہ حلوہ سوہن کیا ہے؟‘‘ اس نے جملہ پورا کیا۔

آٹھ ہاتھ ایک ساتھ منہ تک گئے اور سب نے اپنے اپنے حصے کا حلوہ سوہن منہ میں رکھ لیا۔ لیکن حسب ِ دستور اس بار کسی نے بحث نہیں کی۔ سب نے فیصلہ صادر کیا کہ حلوہ سوہن بہت ہی نفیس تھا۔ چاکلیٹ اور بسکٹ اس کے سامنے کچھ نہیں۔ ایسا حلوہ انہوں نے کبھی نہیں کھایا۔ اور جلد ہی معاملہ سنجیدگی کی حد کو پہنچ گیا۔ سب نے محسوس کیا کہ ان کا جتنا حق تھا حلوہ اس سے کم ملا۔ سبھی اپنے حق کو حاصل کرنا جانتے تھے اور ان سب نے یہ طے کر لیا کہ وہ اپنا حق حاصل کرکے رہیں گے۔

برگد کے نیچے اس معاملہ پر بحث کرنے کے لئے ایک میٹنگ بیٹھی۔

’’بھائیو!‘‘

’’بہنوں کو کیوں بھول جاتے ہو؟‘‘

’’بھائیو اور بہنو....! گھی سیدھی انگلی سے نکلنے والا نہیں۔‘‘ ’’گھبراتی کیوں ہو ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا۔‘‘

’’تو وہ کون بہادر ہے جو آج رات کو سب کے لئے حلوہ چرا الائے۔‘‘

چھ ہاتھ ایک ساتھ اُٹھے۔ قرعہ اظہر کے نام نکلا.... اسے مجلس کے سامنے حلف اُٹھانا پڑا۔

اس نے گلی ڈنڈے پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ سارا حلوہ وہ اکیلے نہیں کھائے گا۔ سب کا حصہ برابر لگے گا ورنہ مجلس کو حق حاصل ہوگا کہ وہ سارا معاملہ بھائی جان کے کانوں تک پہنچا دے۔ صدر مجلس نے اسے ہوشیاری سے کام کرنے کی ہدایت کی اور مجلس برخاست ہوگئی۔

یہ بھی پڑھئے: کائنات اور اللہ کی عظمت

اظہر نے اپنی گیند لی، چھت پر پہنچا روشن دان کی کھڑکی کھولی۔ یہ روشن دان بھائی جان کے کمرے ہی کا تھا۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ یہیں سے کمرے میں اتر جاتا لیکن یہ بہت ہی دشوار اور اس کیلئے تو تقریباً ناممکن تھا۔ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس نے گیند کمرے کے اندر پھینک دی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کانپنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا بھائی جان کے مطالعہ کے کمرے میں داخل ہوا۔

’’بھائی جان!‘‘ آواز لرز رہی تھی۔

’’کیا ہے....؟‘‘ بیزاری کے لہجے میں جواب ملا۔

’’میری گیند.... وہ.... جی.... وہ آپ کے کمرے میں چلی گئی۔‘‘ سچ مچ ہی اظہر ہکلا رہا تھا۔

’’تو پھر....؟‘‘ غراتے ہوئے پوچھا گیا۔

’’اچھے بھائی جان؟ کیا آپ اسے نکال نہیں دیں گے؟‘‘ لہجے میں خوشامد، التجا اور انکساری تھی۔

’’اچھا چلو....!‘‘ پتھر دل پگھل چکا تھا۔

دونوں کمرے میں پہنچے۔ اظہر سوچ رہا تھا۔ اسی کمرے میں وہ صندوق رکھا ہے جس میں حلوہ سوہن ہے کاش بھائی جان ساتھ میں نہ ہوتے۔ اس نے للچائی ہوئی نگاہ بکس کی طرف ڈالی اور پھر کھڑکی سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔

’’کہاں ہے گیند....؟‘‘

’’جی وہ صندوق کے پیچھے۔‘‘

’’جاؤ، اُٹھا لو۔ لیکن ٹھہرو مَیں خود اُٹھاتا ہوں!‘‘ اور جب دو گیند اٹھانے کے لئے جھکے تو اظہر کھڑکی کی زنجیر کھول چکا تھا۔

’’یہ لو گیند، خبردار اب چھت پر مت کھیلنا۔ چلو!‘‘ ’’جی شکریہ!‘‘ دونوں باہر نکل آئے دروازہ میں پھر تالا ڈال دیا گیا۔

رات کے تین بجے اظہر چپکے سے اُٹھا شاگرد پیشہ گیلری کی طرف ہو لیا۔ ایک، دو، تین، سات اور یہ آٹھ۔ اس نے آٹھویں کھڑکی کو دھیرے سے دھکا دیا۔ کھڑکی کھل گئی، وہ بمشکل اس پر چڑھ سکا اور اندر کود گیا، یہ بھائی جان کا کمرہ تھا اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اس کی ناک میں سوہن حلوے کی سوندھی خوشبو گھسی جا رہی تھی۔ اور منہ میں پانی بھرا تھا۔ دھیرے دھیرے قدم رکھتا، بے آواز چلتا وہ بکس تک پہنچ گیا۔ پھر آہستہ سے صندوق کھولا اور ہاتھ سے ٹٹولا ٹوکری سب سے اوپر رکھی تھی۔ اس نے اسے کھینچ کر باہر نکال لیا۔ صرف وہی اتنی بھاری تھی کہ کوئی اور چیز نہیں لی جاسکتی تھی۔ صندوق کو بند کرکے وہ پھر کھڑکی پر بڑھا اور نیچے اتر گیا۔

چاروں طرف اندھیرا تھا۔ اس کے منہ میں پانی بھرا چلا آرہا تھا۔ بے اختیار اس کا ہاتھ ٹوکری میں گیا۔ لیکن اسے اپنا حلف یاد آگیا اور اس نے دل پر جبر کرکے اپنا ہاتھ پھر ٹوکری سے نکال لیا۔

گھر کے سامنے برگد کے نیچے ساتوں بچے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ جلد ہی ان کے پاس پہنچ گیا۔

’’کیوں.... لے آئے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: جاں نثاری

اس کا سینہ فخر سے پھول گیا۔

صدر نے بڑھ کر حلوے کے گول گول ٹکڑے آٹھوں ممبروں میں ایمانداری سے تقسیم کر دیئے۔

’’شروع کیجئے۔‘‘

آٹھ بڑے بڑے ٹکڑے ایک ساتھ منہ میں ٹھونس لئے گئے۔

جیسے انہوں نے زہر کھا لیا ہو....! کسی کڑوی کسیلی سی چیز نے ان کے دماغ درست کر دیئے۔

’’اخ تھو.... آخ تھو....‘‘ کی آوازوں سے برگد پر بیٹھے ہوئے پرندے جاگ اُٹھے۔

اور صبح کو بھائی جان نے سب کو بتایا کہ ان کے بند کمرے سے صندوق کے اندر رکھی ہوئی ٹوکری غائب ہوگئی وہ جس میں وہ نوکروں میں بانٹنے کیلئے جڑی بوٹیوں والا صابن لائے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK