• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پر حملہ ہوا تو جواب فوری ہوگا: مجتبیٰ خامنہ ای کی امریکہ اسرائیل کو وارننگ

Updated: October 31, 2026, 7:36 PM IST | Tehran

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی اور اسرائیلی حملے کی صورت میں غیر محدود جغرافیائی دائرے میں فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں کو دشمن کے تمام فوجی اور غیر فوجی اہداف کی فہرست تازہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایرانی فوج نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ پہلے سے کہیں وسیع علاقے تک پھیل سکتی ہے۔ دوسری جانب قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، جس سے خطے میں جنگ اور سفارت کاری دونوں کے امکانات بیک وقت موجود ہیں۔

Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei. Photo: INN
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت انتباہ دیتے ہوئے ملک کی مسلح افواج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے فوجی یا دہشت گردانہ حملے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے آزاد جواب دیا جائے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے مطابق خامنہ ای نے ہفتے کو اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ اگر دشمن دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو اس جنگ کے خاتمے کا وقت اور شرائط ایران کی مسلح افواج اور عوام طے کریں گے۔ خامنہ ای نے فوجی قیادت کو ہدایت دی کہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کی فہرست کا جامع جائزہ لے کر اسے تازہ کیا جائے، تاکہ دشمن کے تمام ’’فوجی اور غیر فوجی اثاثے‘‘ ایرانی مسلح افواج کی پہنچ میں رہیں۔ ان کے بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی نوعیت یا سطح کے خطرے کا جواب فوری اور مؤثر ہونا چاہیے۔ انہوں نے فوجی تیاری کو ایران کی دفاعی صلاحیت اور دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ قرار دیا۔ اس پیغام میں جغرافیائی حدود کی پابندی نہ کرنے کا ذکر خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران کسی نئے حملے کی صورت میں جواب کو صرف اپنی سرحدوں یا کسی ایک محاذ تک محدود رکھنے کا پابند نہیں سمجھتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریپبلکن کے وسط مدتی انتخاب میں پیچھے رہنے پر ٹرمپ کا ایران پرحملہ زیرغور: رپورٹ

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فروری ۲۰۲۶ء میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے تھے، جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے تھے۔ ایران نے جواباً اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں ۸؍ اپریل کو دونوں ملکوں کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی ہوئی اور جون میں مذاکرات کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت بھی طے پائی، لیکن مستقل امن معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے بھی سنیچر کو خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں دوبارہ فوجی کارروائی کی تو جنگ کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہوجائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکی صدر ایک بار پھر علاقائی مہم جوئی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو جنگ کے شعلے ایک بڑے جغرافیائی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج اپنے عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گی۔ 
اس دوران قطر کی ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ٹیم جمعہ ۳۰؍ اکتوبر کو تہران پہنچی، جہاں اس نے ایرانی حکام سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کی۔ قطر اور پاکستان دونوں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں شامل ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کی قومی سلامتی کے عہدیدار محسن رضائی کو ایک خط بھی بھیجے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ خط ٹرمپ کی ہدایت پر بھیجا گیا تھا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں اور امریکی حملوں کے ایک نئے مرحلے سے بچا جاسکے۔ ایران نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس پر اپنے ردعمل کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے، تاہم انہوں نے اس کے لیے کوئی واضح مدت یا طریقۂ کار نہیں بتایا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی سلامتی اور خودمختاری کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔ اس طرح دونوں ملکوں کے بیانات میں ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف فوجی تیاری کا پہلو نمایاں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: یورپی فضائی ٹریفک میں ایک لاکھ۱۰؍ ہزار پروازوں کی کمی متوقع

اس کشیدگی کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمز بھی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ جنگ کے بعد ایران نے اس آبی گزرگاہ پر مؤثر پابندیاں عائد کیں، جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور مستقبل کے انتظامات دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے اہم موضوعات ہیں۔ اس راستے میں کسی بھی نئی رکاوٹ سے عالمی توانائی کی رسد، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ساتھ امریکہ میں ۳؍ نومبر کو وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی داخلی سیاست میں بھی اس معاملے کو اہم بنا دیا ہے۔ اسرائیل میں بھی حالیہ انتخابات کے بعد ایران کے خلاف پالیسی پر سیاسی بحث جاری ہے۔ ایسے ماحول میں تہران کا تازہ انتباہ اور قطر کی سفارتی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہے جہاں کسی نئے فوجی حملے کے نتائج صرف ایران اور امریکہ تک محدود رہنے کے بجائے وسیع علاقائی اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK