• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جاں نثاری

Updated: October 17, 2026, 1:32 PM IST | Rahat Malhan | Mumbai

کتیا کی وفاداری کو بیان کرتی جذباتی کہانی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

رات انتہائی سرد تھی۔ تمام رات برفیلی ہوائیں چلتی رہیں۔ کیپٹن سُریندر موہن اور اس کی ماں کو پونے آئے ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا تھا۔ اتنی سردی انہوں نے یہاں رہتے ہوئے کبھی محسوس نہیں کی تھی بلکہ اس کی ماں کہا کرتی کہ جب اس کا تبادلہ شمالی ہندوستان کی کسی چھاؤنی میں ہو جائے گا تو وہ سردیوں کا موسم پونے میں ہی گزارا کرے گی۔

اگلے دن جب سُریندر اپنے دفتر جانے لگا اس نے دیکھا کہ ان کے بنگلے سے لان میں درخت کے نیچے کسی آوارہ سیاہ کتیا نے ایک سیاہ اور ایک چتکبرے بچّے کو جنم دیا تھا۔ سردی سے ٹھٹھری ہوئی کتیا اس کی جانب التجا بھری نظروں سے یوں دیکھنے لگی گویا کہہ رہی ہو ’’بھیّا کل شام سے میرے منہ میں کھانا تو کیا پانی کی ایک بوند تک نہیں گئی۔ مجھ پر رحم کرو۔ مَیں اور میرے ننھے ننھے بچّے تمہارے در پر پڑے ہیں۔‘‘

سُریندر اُلٹے پاؤں بنگلے میں واپس لوٹ آیا اور آتے ہی بولا، ’’امّاں جی، امّاں جی! آپ کہاں ہیں؟ باہر آئیے مَیں آپ کو کچھ دکھاؤں۔‘‘

’’کیا بات ہے بیٹا؟ تم واپس کیوں چلے آئے؟‘‘ اماں جی نے حیرانی سے پوچھا۔

سُریندر نے چند لفظوں میں تمام ماجرا ماں کو سنا دیا۔ اس کی ماں پرندوں اور جانوروں اور درویشوں پر بہت رحم کیا کرتی تھی۔ وہ اکثر پنجابی زبان میں ایک مصرع گنگنا یا کرتی تھی:

پلّے رزق نہ بن دے پنچھی تے درویش

وہ ساڑی سنبھالتی ہوئی فوراً لان میں گئی۔ اس کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کتیا نے ایک بار پھر رحم کی بھیک مانگی۔ اماں کچھ کہے بغیر سیدھی باورچی گھر میں گئی۔ تھوڑا سا دودھ لیا ایک روٹی کے ٹکڑے کرکے اس میں ڈالے اور ان چیزوں کو ایک پلیٹ میں ڈال کر کتیا کے سامنے رکھا۔ اس نے سانس لئے بغیر سب کچھ کھا لیا۔ پھر خالی پلیٹ کو چاٹنے لگی۔ یہ دیکھ کر اماں اندر جا کر گلاس میں اور دودھ لائی اور پلیٹ میں ڈال دیا۔ اب کی بار کتیا نے آہستہ آہستہ دودھ پیا۔ دودھ پیتے وقت وہ کبھی کبھی سَر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھتی جیسے ماں کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: مغرور تتلی اور نیک کوّا

اس دن کے بعد ماں اس کتیا کا بہت خیال رکھتی۔ کتیا کے بچوں کو دیکھ کر روحانی خوشی ہوتی۔ صبح شام خدا سے دعا کرتی کہ اس سردی کے موسم میں اس کے بچے سلامت رہیں۔ وہ اکثر بڑے فخر سے اپنے ملنے والوں سے کہتی کہ کتیا کو کتنی عقل اور ہوشیاری عطا ہوئی کہ اس نازک وقت میں اس نے بچوں کو جنم دینے کے لئے لان میں ٹھکانا بنایا اور نہ اگر کسی اُجاڑ اور ویران جگہ میں بچے پیدا ہوتے تو ان کی ماں کو کہاں سے دودھ اور روٹی ملتی۔

دن گزرتے گئے۔ ماں معمول کے مطابق صبح، دوپہر اور رات کو دودھ میں روٹی ڈال کر کتیا کو کھلاتی رہی۔ حالانکہ نوکرانی نے کئی بار اس کو ٹوک کر کہا ’’اماں جی! آپ اس بدصورت اور آوارہ جنگلی کتیا اور اس کے بچوں کا اس قدر کیوں خیال رکھتی ہیں؟ کیا وہ بڑے ہو کر آپ کی خدمت کریں گے؟ آپ یہ روٹی اور دودھ ہمارے کتّے روکی کو کیوں نہیں ڈالتیں جبکہ وہ چوبیس گھنٹے آپ کے بنگلے کے پیچھے بیٹھا رہتا ہے۔‘‘

نوکرانی کی باتیں سن کر ماں مسکرا کر کہتی ’’سنو! مَیں نے آج تک کتیا کی شکل و صورت کی طرف دھیان نہیں دیا اور نہ ایسا کرنے کی مجھے ضرورت ہے۔ مجھے خیال تو اس کے ننھے بچوں کا۔ اگر ان کی ماں کو کھانے کے لئے کچھ نہ ملا تو وہ اس سے دودھ کہاں سے حاصل کریں گے؟‘‘

کتیا کو بچے دیئے پندرہ روز کے قریب ہوچکے تھے۔ کیپٹن سُریندر موہن کے بنگلے کے پڑوس میں سرکاری ملازموں کا ایک کلب تھا۔ اس کلب میں ہر جمعرات کو مفت فلم شو ہوا کرتا تھا۔ جب شام کے ساڑھے چھ بج گئے تو ماں نے اپنے معمول سے پہلے ہی کتیا کو دودھ اور روٹی ڈال دی، کیونکہ فلم شو ساڑھے نو بجے ختم ہوتا تھا۔

بنگلے کے صدر دروازے میں تالا لگا کر جب ماں کلب کو جانے لگی تو اس کی نگاہ کتیا پر پڑی جو اپنے بچوں کے پاس لیٹی ہوئی تھی۔ ماں کو باہر جاتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر پھاٹک تک آئی گویا وہ ماں سے کہنے سے آئی ہو، ’’آپ لوگ باہر جا رہے ہیں۔ آپ جائیے۔ مَیں آپ کے بنگلے کی رکھوالی کروں گی۔‘‘

فلم زیادہ دلچسپ نہ تھی۔ ماں کا دل دو تین ریل چلنے کے بعد اُکتا گیا۔ انٹرول ہونے پر اس نے سُریند ر سے کہا، ’’بیٹا! آؤ گھر چلیں۔ فلم دلچسپ نہیں۔‘‘

’’میرا بھی یہی ارادہ ہے۔ آپ نے تو گویا میرے منہ سے بات چھین لی امّاں جی۔‘‘ یہ کہہ کر دونوں ہال سے اُٹھ کر واپس چلنے لگے۔

ابھی وہ اپنے بنگلے سے ذرا فاصلے پر ہی تھے کہ انہوں نے اپنے بنگلے کے پھاٹک کے پاس لوگوں کی بھیڑ دیکھی۔ سُریندر کے پوچھنے پر ان کے پڑوسی میجر شیرگل نے کہا، ’’آپ لوگ فلم دیکھنے چلے گئے تھے۔ روشنی بند کرکے مَیں اپنے برآمدے میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں، مَیں نے دیکھا کہ ہاتھوں میں ہاکیاں پکڑے ہوئے دو شخص آپ کے بنگلے کے لان میں داخل ہوئے۔ مَیں نے سوچا کہ شاید وہ کہیں سے ہاکی کھیل کر آپ سے ملنے آئے ہوں گے۔ اس کے بعد آپ کے دروازے پر لگے ہوئے تالے پر چوٹیں پڑتی سنائی دیں۔ پھر کتّے کے بھونکنے کا شور ہوا۔ وقت ضائع کئے بغیر مَیں برآمدے سے باہر نکل آیا اور ایک سیاہ کتیا کو بھونکتے اور ان اجنبیوں پر جھپٹتے دیکھا۔ وہ فوراً اندھیرے میں چپ چاپ کھڑے ہوگئے۔ لیکن شاباش اس کتیا کو اس نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ جب وہ بھاگنے لگے تو وہ پھاٹک کے قریب اچھل اچھل کر ان پر حملے کرنے لگی۔ یہاں تک کہ اس نے ایک شخص کی ٹانگ کو اپنے منہ میں پکڑ لیا۔ وہ ’’ہائے!‘‘کہہ کر زمین پر گر پڑا۔ یہ دیکھ کر مَیں نے چور! چور! کا شور مچایا۔ میری آواز سن کر سامنے کے مکانوں میں رہنے والے سڑک پر نکل آئے۔ چوروں نے اپنے آپ کو جب لوگوں سے گھرے ہوئے پایا تو الٹے پاؤں بھاگے۔ لیکن کتیا نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ایک چور نے ہاکی کا ہاتھ اس زور سے مارا کہ کتیا کا سَر پھٹ گیا اور زمین پر گرتے ہی اس نے دم توڑ دیا۔ کس دلیری، ہمت اور جانفشانی سے اس نے چوروں کا مقابلہ کیا یہ بیان سے باہر ہے۔‘‘

ماں کو کتیا کی موت کا انتہائی افسوس ہوا۔ اس نے ٹارپ کی روشنی کتیا پر پھینکی۔ چور کی پھٹی ہوئی پتلون کا ٹکڑا کتیا کے منہ میں تھا اور آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، گویا کہہ رہی ہوں،

’’امّاں جی! مصیبت کے وقت آپ نے میری مدد کی تھی۔ خدا آپ کا بھلا کرے۔ اب میرے معصوم بچے آپ کے سپرد ہیں؟‘‘

یہ دیکھ کر امّاں جی کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK