Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیخی دَھری رہ گئی

Updated: August 08, 2026, 12:41 PM IST | Idris Siddiqui | Mumbai

شکاریوں میں ایک عادت ضرور پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے شکار کرنے کی کہانی بہت بڑھا چڑھا کر سناتے ہیں۔ کوئی چھوٹی تو کوئی لمبی ہوائی چھوڑتا ہے۔ لیکن ہر ایک لمبی چوڑی سناتا ہے۔ یہی بات مرزا کے لئے بھی کہی جاسکتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

شکاریوں میں ایک عادت ضرور پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے شکار کرنے کی کہانی بہت بڑھا چڑھا کر سناتے ہیں۔ کوئی چھوٹی تو کوئی لمبی ہوائی چھوڑتا ہے۔ لیکن ہر ایک لمبی چوڑی سناتا ہے۔ یہی بات مرزا کے لئے بھی کہی جاسکتی ہے۔ وہ جب اپنے کسی شکار کا قصہ سناتے ہیں تو وہ ہر بار پہلے سے بڑھ چڑھ کر ہوتا ہے۔

’’جب بھیکم پور کے جنگل میں ایک شیر آدم خور ہوگیا تو گاؤں والوں نے افسروں سے فریاد کی۔ پہلے جنگل کے سرکاری افسروں نے خود ہی شیر پکڑنے اور مارنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔‘‘ مرزا اکثر یہ کہانی سناتے۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘ رجّو بھیّا نے بچوں کی طرح سوال کیا، ’’کیا شیر پکڑا گیا؟‘‘ اور فوراً ہی اگلا سوال بھی کر دیا ’’وہ کتنے لوگوں کو کھا چکا تھا؟‘‘

رجّو بھیّا جوان آدمی ہیں لیکن شکار کے قصے، بچّوں کی طرح سنتے ہیں۔ وہ مرزا کے گھر شکار کی کہانیاں سننے آتے رہتے ہیں۔ ان کے علاوہ وہاں جمال، ارشد اور راکیش بھی موجود رہتا ہے۔ ان سبھی کو شکار کی باتیں سننے کا بہت شوق ہے۔

مرزا نے ماحول بناتے ہوئے کہا ’’وہ شیر کئی لوگوں کو کھا چکا تھا؟‘‘ ابھی مرزا اپنی بات کہہ رہے تھے کہ رجّو بھیّا نے ٹوک دیا۔

یہ بھی پڑھئے: جب مَیں گم ہوگیا تھا

’’وہ کتنے لوگوں کو کھا چکا تھا؟‘‘ انہوں نے اپنا پرانا سوال دُہرایا۔ مرزا کو معلوم ہے کہ جب تک رجّو بھیّا کے سوال کا جواب نہیں دیتے وہ کہانی آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔

’’ارے بابا! سنو تو سہی۔‘‘ مرزا نے رجّو بھیّا کو گھورا، ’’آدم خور شیر نے درجن بھر لوگوں کا شکار کیا تھا تبھی تو گاؤں میں ڈر پھیل چکا تھا۔‘‘

’’لیکن مرزا جی!‘‘ اس بار راکیش نے کہا، ’’اخباروں میں تین لوگوں کے شکار ہونے کی خبر چھپی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے۔‘‘

’’ہاں بھائی!‘‘ مرزا جی نے پینترا بدلتے ہوئے کہا، ’’اخباروں میں صحیح خبر نہیں دی گئی تھی تاکہ لوگ گاؤں چھوڑ کر بھاگ نہ جائیں۔‘‘

’’لیکن شیر آدم خور کیوں ہوگیا تھا؟‘‘ ارشد نے وجہ جاننی چاہی۔ مرزا جی کے پاس شکار کے بارے میں ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ وہ بولے، ’’کوئی بھی شیر آدم خور نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ انسانوں سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔‘‘ رجّو بھیّا نے پھر ٹوکا، ’’تو یہ شیر آدم خور کیسے ہوگیا؟‘‘

’’ارے یار! تم سنا بھی کرو۔‘‘ رجّو بھیا کو ڈانٹتے ہوئے مرزا نے اپنی بات پوری کی، ’’کوئی بھی شیر خطرہ محسوس کرتا ہے تبھی آدمی پر حملہ کرتا ہے۔ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے۔‘‘

’’اُسے آدمی سے کیا خطرہ ہوتا ہے؟‘‘ بھلا رجّو بھیّا کیسے چُپ رہتے، ’’اُلٹے آدمی کو شیر سے خطرہ ہوتا ہے۔‘‘ یہ سُن کر مرزا ہنسنے لگے۔’’آدمی سب سے زیادہ خطرناک جانور ہوتا ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے، ’’یہ شیر بھی جانتا ہے وہ ایسی حالت میں انسان پر حملہ کر دیتا ہے۔ پھر ایک بار اُسے آدمی کا خون اور گوشت منہ لگ جائے تو وہ آدم خور ہو جاتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شیخ چلّی مصنف بن گئے

’’بس!‘‘ جمال نے حیرانی سے کہا، ’’یہی آدم خور ہونے کی وجہ ہوتی ہے؟‘‘

’’نہیں! اور بھی کئی وجہیں ہوتی ہیں۔‘‘ تجربہ کار شکاری مرزا بتانے لگے، ’’جنگل صاف ہوتے جا رہے ہیں۔ وہاں جانوروں کی بھی کمی ہو رہی ہے کہ بہت سے جانور دوسرے ٹھکانوں کے لئے چلے جاتے ہیں۔ پھر جب شیر بھوکا ہوتا ہے تو وہ انسانوں پر ٹوٹ پڑتا ہے۔‘‘

ارشد نے آدم خور شیر کے شکار کی طرف دھیان دلاتے ہوئے کہا ’’پھر کیا ہوا مرزا جی جب سرکاری افسر شیر کو پکڑ نہیں سکے؟ کیا انہیں شیر مارنا منع تھا؟‘‘ ’’نہیں بھائی! جنگل کے افسروں نے شیر پکڑنے اور مارنے، دونوں کی بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔‘‘ مرزا جی نے کہانی آگے بڑھائی ’’پھر شکاریوں سے مدد مانگی کہ وہ شیر کا شکار کریں۔‘‘ ’’کتنے شکاریوں سے مدد مانگی گئی مرزا جی؟‘‘ رجّو بھیّا نے نیا سوال کیا۔

’’پہلے تین شکاریوں کو بلایا گیا۔ ان میں مَیں بھی تھا۔ ہر شکاری کو ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا کہ وہ شیر مار ڈالے۔‘‘ مَیں نے دیکھا کہ سبھی بڑے غور سے سن رہے ہیں۔’’پہلا شکاری تیواری تھا لکھیم پور والا۔‘‘ مرزا نے ایسے کہا جیسے کہ سبھی شکاریوں کو جانتے ہوں۔ ’’ہمیں نہر والی کوٹھی میں ٹھہرایا گیا تھا۔ تیواری نے بہت کوشش کی لیکن شیر کا شکار نہیں کر پایا۔ پھر دوسرے شکاری راجا صاحب تھے۔‘‘

’’کون راجا صاحب؟‘‘ رجّو بھیّا نے ٹوکتے ہوئے پوچھا، ’’وہ کہاں کے راجا تھے؟‘‘

’’راجا نعیم اللہ خاں رضا گنج کے راجا تھے اور اچھے شکاری بھی۔ انہوں نے کئی شیروں کا شکار کیا تھا۔ لیکن یہ آدم خور شیر بہت چالاک نکلا۔ پورا ہفتہ گزر گیا لیکن راجا صاحب شیر نہیں مار سکے۔‘‘

’’پھر آپ کو بلایا گیا؟‘‘ جمال نے کہا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اب مرزا کیا کہنے والے ہیں۔

’’ہاں! مَیں نے ایک بکری پیڑ سے باندھی اور اس کے سامنے دوسرے پیڑ کی مچان پر بیٹھ گیا۔ اتفاق سے اُس رات شیر اُدھر سے آنکلا۔ مَیں نے کئی گولیاں چلائیں اور شیر ڈھیر کر دیا۔‘‘ پتا نہیں کیوں مرزا نے کہانی چھوٹی کر دی ’’پھر شیر کو ناپا گیا وہ دُم سے لے کر سر تک بارہ فٹ لمبا تھا۔‘‘

یہ سنتے ہی رجّو بھیّا سے نہیں رہا گیا ’’پچھلی بار لمبائی دس فٹ بتائی تھی۔‘‘ ’’ہاں!‘‘ مرزا بھی کم ہوشیار نہیں، ’’لیکن دُم کے ساتھ بارہ فٹ تھی۔‘‘

اس کے بعد رجّو بھیّا نہیں کہہ پائے کہ شیر کی لمبائی کبھی آٹھ فٹ سے شروع ہوئی تھی اور اب بارہ فٹ تک پہنچ چکی ہے۔

کچھ دنوں بعد محفل پھر جمی۔ اس بار مرزا کے شکاری دوست اکرم بھی موجود تھے۔ رجّو بھیّا نے شکار کا قصہ سننے کی فرمائش کی تو اکرم بولے ’’آج میں ایک قصہ سناؤں گا۔ وہ بھی بہت مزیدار!‘‘ اکرم نے مسکراتے ہوئے مرزا کی طرف دیکھا۔

’’ہاں! تم ہی سناؤ اور اپنی بڑی بڑی ہانکو!‘‘ مرزا سمجھ گئے کہ اکرم کوئی شرارت کریں گے لیکن اکرم نے کہانی شروع کر دی ’’کل کی بات ہے۔ میں اور مرزا تیتروں کا شکار کرنے بیدا گاؤں کے آگے گئے۔‘‘ ’’کیا چڑیوں کا شکار بھی کرتے ہیں؟‘‘ راشد نے حیرانی سے پوچھا۔

’’تم کہانی سنو، بہت مزیدار ہے۔‘‘ اکرم نے راشد کے سوال کو ٹالتے ہوئے کہا، ’’گاؤں کے باہر بہت ریتیلی جگہ ہے جہاں گھاس پھوس کے علاوہ جھاڑیاں اور پیڑ ہیں۔ ہم دونوں ادھر اُدھر جھاڑیوں اور لمبی لمبی گھاس میں تیتروں کو تلاش کر رہے تھے۔‘‘ مرزا نے ٹوکتے ہوئے کہا ’’اکرم کا مطلب ہے کہ تیتروں کی آواز سننے کے لئے جھاڑیوں اور گھاس میں بھٹک رہے تھے۔‘‘

پھر اکرم نے کہانی جاری رکھی ’’مرزا ایک طرف اور میں دوسری طرف چلے گئے تاکہ زیادہ جگہوں میں تلاش کرسکیں۔‘‘ یہ کہہ کر اکرم ہنسنے لگے۔ ’’بتا دو تمہارے پیٹ میں کوئی بات کیسے رہ سکتی ہے۔‘‘ مرزا نے کچھ کھسیاتے ہوئے کہا۔

’’مرزا کو وہیں پیڑ پر طوطے کے بچوں کی آوازیں سنائی دیں۔‘‘ اکرم کی ہنسی رُکنے کا نام نہیں لے رہی، ’’مَیں دور تھا اس لئے مجھے پتا نہیں چلا۔ مرزا نے سوچا کیوں نہ طوطے کے بچوں کو پکڑ کر گھر لے جاؤں۔ اسے طوطے پالنے کا شوق ہوا۔‘‘ اکرم نے پھر ہنسنا شروع کر دیا اور مرزا بُرا سا منہ بنائے بیٹھے رہے۔ ’’ہمارا مرزا بہت پھرتی سے پیڑوں پر چڑھ جاتا ہے۔ مرزا نے وہاں دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو بیٹھے دیکھا تو انہیں پکڑ لیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی زندگی ہر طالبعلم، ہر استاد اور ہر محب ِ وطن کیلئے ایک کھلی کتاب ہے

’’آپ وہاں نہیں تھے؟‘‘ راشد نے پوچھا۔

’’نہیں میں ٹھکنی بندوق لئے دوسری طرف گیا ہوا تھا۔ پھر میں مرزا کو تلاش کرتا ہوا آیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اکرم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔

’’ہمیں بھی بتائیے کہ پھر کیا ہوا؟‘‘ رجّو بھیّا نے بے صبری سے کہا۔

’’ادھر مرزا ہاتھوں میں طوطے پکڑے پیڑ سے نیچے زمین پر اُترا۔ اُدھر میں بندوق لئے ہوئے پہنچ گیا۔ مجھے اچانک سامنے بندوق سیدھی کئے دیکھ نجانے کیوں مرزا گھبرا گیا۔ وہ بھی اتنا زیادہ کہ اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اُٹھا دیئے۔‘‘ اکرم کا قہقہہ گونجا۔ ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ جمال، ارشد اور رجّو بھیّا کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔

’’پھر کیا....! مرزا کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے!‘‘ اس بار اکرم کیساتھ مرزا بھی ہنس رہے تھے۔

’’اب سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہ محاورہ ’’ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے‘‘ کیسے بنا!‘‘ یہ بات اکرم کے بجائے مرزا کے کہنے پر سبھی ہنسنے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK