جنگ سے بے گھر فلسطینی بچوں کے لیے ’’Little Wings Cinema‘‘ کے تحت خیمہ بستیوں اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان موبائل کارٹون اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا؛ منتظمین کا کہنا ہے کہ مقصد بچوں کو خوف اور تباہی سے چند لمحوں کے لیے دور کرنا ہے۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 5:01 PM IST | Gaza
جنگ سے بے گھر فلسطینی بچوں کے لیے ’’Little Wings Cinema‘‘ کے تحت خیمہ بستیوں اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان موبائل کارٹون اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا؛ منتظمین کا کہنا ہے کہ مقصد بچوں کو خوف اور تباہی سے چند لمحوں کے لیے دور کرنا ہے۔
اسرائیل کی غزہ پر جنگ اور تباہی کے درمیان غزہ کے بچوں کو چند لمحوں کی خوشی دینے کے لیے موبائل سنیما کا انتظام کیا گیا، جہاں بچے خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان بیٹھ کر کارٹون دیکھتے رہے۔ یہ سرگرمی ’’Little Wings Cinema‘‘ منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت بے گھر بچوں تک فلمیں اور تفریحی سرگرمیاں پہنچائی جارہی ہیں۔ ۲؍ ستمبر کو غزہ سٹی کے شیخ رضوان علاقے میں درجنوں بچوں نے کھلے صحن میں قائم عارضی اسکرین پر کارٹون دیکھے۔ بچوں کے لیے صرف فلم کی نمائش نہیں کی گئی بلکہ کھیل، موسیقی اور دیگر تفریحی سرگرمیوں پر مشتمل تقریب بھی منعقد ہوئی۔ بعض بچوں کے چہرے بھی پینٹ کیے گئے اور روایتی لباس پہنے بچوں نے رقص میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھئے: اگر مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی نہ کی تو سرپلس ممالک سے تجارت روک دیں گے: ٹرمپ
Homeless children in Gaza gather together to watch cartoons to take their minds off of everyday atrocities committed by israel. pic.twitter.com/ZjoT2uZjy2
— 𝓙𝓲𝓶𝓶𝔂 𝓙 (@JimmyJ4thewin) September 4, 2026
یہ منصوبہ ’’Gaza International Children’s Cinema‘‘ کے تحت رضاکاروں کی مدد سے چلایا جارہا ہے۔ منتظمین بجلی کی شدید قلت کے باوجود شمسی پینل اور قابلِ حمل بیٹریوں جیسے متبادل ذرائع استعمال کرکے مختلف خیمہ بستیوں میں عارضی سنیما قائم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ میں موجود بے گھر بچوں تک تفریحی سرگرمیاں پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ منصوبے سے وابستہ اسما دبابیش کے مطابق بچوں کو جنگ، خوف اور مسلسل بے گھر ہونے کے نفسیاتی دباؤ سے عارضی طور پر باہر نکالنا اس سرگرمی کا بنیادی مقصد ہے۔ ان کے مطابق بچوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے جہاں وہ کچھ دیر کے لیے جنگ کے بجائے کھیل اور تفریح پر توجہ دے سکیں۔ تاہم منتظمین کو ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ تک پہنچنے میں نقل و حرکت کی پابندیوں، ایندھن کی قلت اور سیکوریٹی کے مسائل کا سامنا ہے۔
موبائل سنیما کا یہ سلسلہ ایسے ماحول میں جاری ہے جہاں غزہ کے بچوں کی بنیادی ضروریات بھی شدید متاثر ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق ۲۰۲۶ء کے وسط تک غزہ کی ۱ء۲؍ ملین آبادی میں سے تقریباً ۹ء۱؍ ملین افراد بے گھر تھے۔ بنیادی صحت، پانی، صفائی اور تحفظ کی خدمات بدستور شدید دباؤ کا شکار تھیں، جبکہ تقریباً ۹۰؍ فیصد پانی اور صفائی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ یا متاثر ہوچکا تھا۔ یونیسیف کی ایک اور حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے بعد شدید غذائی قلت کے بعض اعداد میں بہتری آئی ہے، لیکن طویل مدتی غذائی کمی کا اثر بچوں کی نشوونما پر برقرار ہے۔ سروے میں تقریباً ۱۳۳۵؍ بچوں اور ۲؍ ہزار سے زیادہ گھرانوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں ۲ء۱۲؍ بچوں میں دائمی غذائی کمی یا قد میں کمی پائی گئی۔
بچوں پر جنگ کے نفسیاتی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ یونیسیف کی جنوری تا جون ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ۱۰؍ میں سے ۹؍ بچوں نے نفسیاتی مدد کی ضرورت ظاہر کی۔ اسی عرصے میں تنظیم نے غزہ میں ۱۷۳؍ تعلیمی مراکز کے ذریعے ۲۶۵؍ ہزار سے زیادہ بچوں تک تعلیمی اور نفسیاتی معاونت پہنچائی۔تاہم حالیہ دنوں میں بھی غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ۴؍ ستمبر کو بتایا کہ ۲۸؍ اگست سے یکم ستمبر کے درمیان اسرائیلی حملوں میں ۲۴؍ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں ۴؍ بچے اور ایک خاتون شامل تھیں۔ دفتر نے کہا کہ غزہ میں تقریباً ایک سال قبل جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ’’کوئی جگہ اور کوئی شخص محفوظ نہیں۔‘‘ ایسے حالات میں خیموں کے درمیان روشن اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھے بچوں کے لیے کارٹون کی یہ مختصر محفل محض تفریح نہیں بلکہ معمول کی زندگی کے ان چھوٹے لمحوں کی واپسی کی کوشش بھی ہے، جو مسلسل جنگ اور بے گھری کے باعث ان سے چھین لیے گئے ہیں۔