Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیار کا فیصلہ

Updated: July 11, 2026, 2:07 PM IST | Syed Mahmood Nadvi | Mumbai

ایک دریا کے کنارے دو اُودبلاؤ رہتے تھے۔ دونوں اچھے دوست تھے۔ دونوں ایک ساتھ رہتے تھے اور ہر کام میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ اُن کے تعلقات کافی گہرے اور مخلصانہ تھے، کیونکہ دونوں ہی اپنی ضرورت پر اپنے ساتھی کی ضرورت کو ترجیح دیتے تھے۔

Story.Photo:INN
کہانی۔ تصویر:آئی این این
ایک دریا کے کنارے دو اُودبلاؤ رہتے تھے۔ دونوں اچھے دوست تھے۔ دونوں ایک ساتھ رہتے تھے اور ہر کام میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ اُن کے تعلقات کافی گہرے اور مخلصانہ تھے، کیونکہ دونوں ہی اپنی ضرورت پر اپنے ساتھی کی ضرورت کو ترجیح دیتے تھے۔ عام طور پر وہ اپنی غذا کی تلاش میں بھی ساتھ ہی نکلتے تھے جن دنوں موسم اچھا ہوتا، تیز ہوائیں نہ چلتی ہوتیں اور دریا میں سکون ہوتا تو دونوں کچھ دور تک دریا میں نکل جاتے اور کچھ مچھلیاں اپنے کھانے کے لئے کنارے پر لے آتے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جتنی دیر میں وہ مچھلیاں کنارے پر لا کر خود او پر چڑھتے، مچھلیاں دوبارہ پانی میں کود جاتیں اور ان کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا۔
بار بار اس طرح کی ناکامی کا سامنا ہونے پر انہوں نے ایک دن آپس میں مشورے کرکے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ ان میں سے ایک دریا میں جا کر مچھلیاں پکڑے گا اور دوسرا کنارے ہی پر رہ کر مچھلیوں کو اپنی گرفت میں رکھے گا تاکہ وہ دوبارہ پانی میں کود کر بھاگ نہ جائیں۔
یہ ترکیب کامیاب رہی۔ اگلے روز ایک اُودبلاؤ دریا میں جاکر مچھلیوں کو گھیر گھار کر کنارے پر لاتا رہا اور دوسرا ساحل پر رہ کر انہیں پکڑ پکڑ کر مارتا رہا۔ اس طرح انہوں نے کافی مچھلیاں شکار کرلیں۔
’’اب ہم انہیں آپس میں بانٹ لیں۔‘‘ ایک اُودبلاؤ نے کہا۔ ’’یہ کام تم ہی کرو۔‘‘ یہ دوسرے نے جواب دیا۔
’’نہیں، مَیں نہیں بانٹوں گا۔‘‘ مجھ سے کہیں بانٹنے میں غلطی نہ ہو جائے۔‘‘
اس طرح دونوں میں سے کوئی بھی بانٹنے کے کام کے لئے تیار نہ ہوا۔
اتنے میں ادھر سے ایک سیار کا گزر ہوا۔ اس کی نظر جب مچھلیوں کے بڑے سے ڈھیر پر پڑی تو اس کے منہ میںپانی آگیا۔ وہ قریب آتے ہوئے بولا ’’ارے بھائیو! تم چپ چاپ کیوں بیٹھے ہو؟‘‘ ’’جناب، ہم نے یہ مچھلیاں پکڑی ہیں اور اب انہیں تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے۔‘‘ ایک اُودبلاؤ نے کہا۔
’’تو آدھی آدھی بانٹ کیوں نہیں لیتے؟‘‘ سیار کی آنکھوں میں یہ کہتے ہوئے کچھ اور چمک پیدا ہوئی۔ ’’ارے جناب، ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں تقسیم میں نا انصافی نہ ہوجائے۔‘‘ دوسرے اُودبلاؤ نے وضاحت کی۔
’’یہ بات ہے تو لاؤ میں تقسیم کئے دیتا ہوں۔‘‘ سیار اور آگے بڑھتے ہوئے بولا۔
’’ٹھیک ہے۔ یہ کام آپ ہی کر دیجئے۔‘‘ دونوں اُودبلا ؤ ایک ساتھ بولے۔
’’اتنی ساری مچھلیاں تم دونوں نے پکڑیں کیسے؟‘‘ سیار نے کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا۔ انہوں نے سیار کو تفصیل سے اپنا طریقہ بتایا کہ کس طرح ان میں سے ایک دریا میں مچھلیوں کو خوفزدہ کرکے کنارے پر لاتا رہا اور دوسرا کنارے پر رہ کر ان کو سنبھالتا اور مارتا رہا۔
سیار ساری باتیں سن کر اس اُودبلاؤ کو الگ لے گیا جو پانی میں جا کر مچھلیاں لاتا تھا اور اس سے بڑے راز دارانہ لہجے میں کہا ’’سچ بات تو یہ ہے کہ تمہارا کام ذرا ہلکا ہے۔ دوسرے اُودبلاؤ کو زیادہ محنت بھی کرنا پڑتی ہے اور زیادہ خطروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کنارے پر کنکر، پتھر، کانٹے.... سبھی ہوتے ہیں، جنگلی جانوروں اور آدمیوں کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سوچو کہ اگر وہ مچھلیوں کو مارنے کا کام نہ کرتا تو تمہارا انہیں گھیر کے لانا بیکار ہو جاتا۔ اس لئے تمہیں وہ جتنی بھی مچھلیاں دے دے انہیں غنیمت سمجھ کے لے لینا اور کوئی اعتراض نہ کرنا۔‘‘
بیچارہ اُودبلاؤ سیار کی باتوں سے کچھ ڈر سا گیا اور چپ چاپ گردن جھکا کر اس کی بات مان لی۔
پھر سیار دوسرے کو اُودبلاؤ کو الگ لے گیا اور اس سے سنجیدہ انداز میں بولا ’’میرے دوست، مَیں تمہارے کام کی اہمیت کو گھٹانا نہیں چاہتا۔ لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ دوسرا اُودبلاؤ جوپانی میں جاتا ہے، اسے زیادہ خطروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پانی میں کچھوے، کیکڑے، گھڑیال اور طرح طرح کے جانور ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی سوچو کہ اگر وہ مچھلیوں کو خوفزدہ کرکے کنارے تک نہ لائے تو تم کنارے پر کھڑے رہ کر جھک مارنے کے سوا کیا کرسکتے ہو۔ اس طرح ان ساری مچھلیوں پر اسی کا حق بنتا ہے اور تمہیں وہ جتنی بھی دے دے انہیں بہت سمجھ کر قبول کر لینا۔
سیار نے یہ ساری باتیں اتنا زور دے کر کہیں کہ اُودبلاؤ کو چپ چاپ مان لینا پڑا۔
پھر سیار نے مچھلیوں کے ڈھیر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ دو برابر کے حصے لگائے اور ایک کچھ زیادہ۔ چھوٹے حصے اس نے دونوں کو دیتے ہوئے کہا ’’یہ لو اپنا اپنا حصہ۔ بس اس سے زیادہ تم لوگوں کا حق نہیں بنتا۔‘‘ پھر تیسرا ڈھیر خود اُٹھا کر بولا ’’یہ میرا حصہ ہے.... بانٹنے کا محنتانہ!‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
دونوں اُودبلاؤ حیرت زدہ سیار کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ان کی نگاہوں میں سیار کی زہریلی مسکراہٹ کا عکس صاف جھلک رہا تھا۔
 
دونوں تھوڑی دیر تک ایک دوسرے کو آڑی ترچھی نظروں سے دیکھتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک آگے بڑھا ’’غلطی ہوگئی یار۔ ہمیں اپنا فیصلہ خود کرنا چاہئے تھا۔ ویسے تم سے الگ لے جاکر سیار کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
دونوں نے ایک دوسرے کو سیار سے ہونے والی بات چیت کی تفصیل بتائی تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سیار کی نیت صاف نہیں تھی اور آئندہ انہیں اپنا فیصلہ خود کرنا چاہئے اور کسی تیسرے کو اُن کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK