ہمارے معاشرہ میں تربیت کے سوال پر اتنا بڑا خلاء پایا جاتا ہے کہ ایک سے زائد نسلیں اس جانب توجہ دیں تب کہیں جاکر اس خلاء کو پُر کیا جاسکے گا۔ سب سے بڑا مسئلہ اس دور میں لوگوں کی غیر ضروری مصروفیت ہے جو اُنہیں کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں دیتی۔
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
کہتے ہیں زندگی جب تک سمجھ میں آتی ہے تب تک آدھی یا اس سے زیادہ گزر چکی ہوتی ہے۔ ایسا شاید اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو مقصد ِ زندگی کو اوائل عمر میں سمجھ نہیں پاتے یا کوئی اُنہیں سمجھا نہیں پاتا، یا، وہ کچھ سمجھتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھ پاتے یا سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع اپنے تجربات سے ملتا ہے، دوسروں کے تجربات سے ملتا ہے یا اپنے اور دوسروں کے مشاہدات سے ملتا ہے یا مطالعہ سے ملتا ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ سمجھنے اور سیکھنے میں فرق ہے۔ کچھ لوگ سمجھنے کے باوجود سیکھتے نہیں ہیں۔ سمجھنے کا تعلق دماغ سے ہے اور سیکھنے کا تعلق دل سے۔ سیکھنے کا عمل کیا ہوتا ہے یہ بھی سیکھنے کی چیز ہے ورنہ کوئی نوعمر کسی استاذ کے سامنے ادب سے بیٹھے مگر اُس کا دل حاضر نہ ہو تو ’’کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواںہی رہا‘‘ کے مصداق ہوگا۔ یہی بات اُمور زندگی پر صادق آتی ہے کہ دل میں لگن ہی نہ ہو تو دماغ کتنی ہی مشقت کرے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔
سوال یہ ہے کہ زندگی کو سمجھنے کی صلاحیت کیسے پیدا ہو؟ یہ اہم اس لئے ہے کہ دُنیا کے بیشتر لوگ،بالخصوص موجودہ دور میں، زندگی سمجھے بغیر گزار رہے ہیں۔ کل کے اور آج کے انسان میں فرق یہ ہے کہ کل کے انسان کے پاس فراغت تھی،و قت تھا، مشاغل کم اور بہت کم تھے لہٰذا وہ سو چتا تھا، غوروفکر کرتا تھا، پڑھتا تھا اور تحصیل علم کیلئے ہمہ وقت آمادہ و تیار رہتا تھا۔ تب کے لوگ پڑھے لکھے نہ ہوں تب بھی فلسفہ ٔ حیات سے واقف ہوتے تھے۔ اُنہیں علم تھا کہ زندگی مشکلوں میں آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے۔مشکلوں سے گھبرانے، پریشان ہونے، بددل اور مایوس ہونے اور سپر ڈالنے کا نام نہیں ہے۔
اسی لئے اگلے وقتوں میں کسی کی خود کشی کی خبر برسوں میں بھی سنائی نہیں دیتی تھی۔ دورِ حاضر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی کسی کی خود کشی کی خبر آنے سے پہلے بہت سے لوگ بہت سے وقتوں میں اپنے اپنے طور پر چھوٹی چھوٹی کئی خود کشیاں کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسا اس لئے لگتا ہے کہ اِس دور میں زندگی کو سمجھنے کیلئے زندگی کو وقت دینے کا چلن نہیں رہا۔ رموز ِ زندگی کو اپنے علم، تجربات اور مشاہدات کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش عنقا ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے اور غیر ضروری طور پر مشغول اور مصروف رہنے کا رجحان غالب ہے۔ ہر شخص اُدھیڑ بن میں رہتا ہے۔ اگر کچھ وقت پس انداز ہو بھی جاتا ہے تو دوسروں سے موازنے اور مقابلے میں صرف ہوتا ہے۔ موازنہ، مقابلہ اور دوسروں کو دیکھ کر اپنی روش بدلنے کی عادت ترک کردیں تو بہت سے لوگ خود قابل رشک بن سکتے ہیں مگر یہ بات نہ تو اُنہیں کسی نے بتائی نہ ہی وہ خود سمجھ پائے۔اس کی وجہ سے بعض اوقات نفسیاتی اُلجھنیں پیدا ہونے لگتی ہیں اور پھر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ کبھی محسوس کیجئے آس پاس کی دُنیا میں کچھ لوگ عادتاً بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ بنیادی شرط زندگی کو نعمت سمجھنا ہے۔ جو نعمت سمجھتا ہے وہ بوجھ نہیں سمجھتا۔جو بوجھ نہیں سمجھتا وہ قدر کرتا ہے، جو قدر کرتا ہے وہ سوجھ بوجھ کے ساتھ خرچ کرتا ہے اور جو اس طرح خرچ کرتا ہے وہ فائدہ میں رہتا ہے۔
انہی حوالوں سے اس سوال پر بھی غور کیجئے کہ آئے دن ایسی خبریں کیوں آتی ہیں کہ اولاد کو موبائل نہیں دلوایا تو اس نے انتہائی قدم اُٹھا لیا؟ اس لئے کہ والدین نے بچوں کیلئے لاڈ پیار کے دریا بہا دیئے، اُن کی ہر فرمائش پوری کی خواہ اُن کی حیثیت تھی یا نہیں تھی، ہرچند کہ یہ اعتدال سے گریز ہے مگر اس سے زیادہ قابل گرفت یہ ہے کہ اُنہوں نے اولاد کے جذبات کی تنظیم نہیں کی۔ اُنہیں خود پر قابو رکھنا نہیں سکھایا۔ استطاعت ہونے کے باوجود کبھی کبھی اولاد کی فرمائش پوری نہ کرنے اور اُنہیں روکے رکھنے کی حکمت نہ تو اُنہیں آتی تھی نہ ہی وہ اسے بروئے کار لا سکے۔ بچوں کو سکھانا اور سمجھانا والدین کا فرض ہے مگر والدین کو سکھانا سمجھانا کس کا فرض ہے؟ دیگر معاشروں میں لڑکا لڑکی شادی سے پہلے ’’پیرنٹنگ‘‘ کی تربیت لینے لگے ہیں۔ حالانکہ اس کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہئے۔ اگلے وقتوں میں اس کا تصور بھی نہیں تھا مگر چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور موجودہ وقت میں اس کی شدید ضرورت محسوس کی گئی اس لئے ایسی کلاسیز بھی ہونے لگیں۔ ہمارے معاشرہ میں اس کا تصور نہیں۔ جب تک مشترکہ خاندان تھے، تب تک یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ماں باپ اولاد کو جو باتیں نہیں سکھا پاتے تھے وہ دادا، دادی، بڑے ابا، بڑی امی، پھوپھی اور گھر کے دیگر بڑے سکھا دیتے تھے۔مشترکہ خاندان اب نہیں رہا۔ نوکلیئر فیملی کا تصور عام ہوگیا کیونکہ لڑکا لڑکی شادی کے بعد الگ ہوجانا چاہتے ہیں اور ہو جاتے ہیں۔ اس میں اُن کا اِتنا نقصان نہیں جتنا اُن کی اولاد کا ہوتا ہے البتہ وہ اسے سمجھنے سے معذور رہتے ہیں کیونکہ الگ ہونےکا جوش اور جذبہ اُن پر اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ اولاد کی پرورش، نشوونما اور اُس کے جذبات کی تنظیم پیش نظر نہیں رہتی۔ دادا، دادی اور بڑے ابا، بڑی امی کی صحبت کی حرارت مستقبل کی بشارت ہوتی ہے، اس راز کا اُن بے چاروں کو علم ہی نہیں جو بفضل تعالیٰ والدین بننے کا اعزاز پاچکے۔
قصور اُس اولاد کا نہیں ہے جو ذرا سی بات پر بگڑ کر کچھ بھی کرگزرنے کی ذہنی حالت کو پہنچ جائے یا کچھ کر ہی گزرے۔ قصور اُن والدین کا ہے جنہوں نے اُن کی خوشیوں، غموں، آرزوؤں، فرمائشوں، ضد اور ردعمل کی تربیت نہیں کی۔ تربیت خود بھی کی جاتی ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو تربیتی ماحول فراہم کیا جاتا ہے جس میں اپنی جانب سے کوتاہی ہوجائے یا کسر رہ جائے تو کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ مشترکہ خاندان میں یہ ماحول ازخود میسر تھا۔ اسے بنانا یا تیار کرنا نہیں پڑتا تھا۔ نوکلیئر فیملی کے ممی ڈیڈی کم عمری میں اولاد کو پلے اسکول بھیج دیتے ہیں۔ وہاں کھلایا پلایا جاتا ہے، چھوٹے موٹے کھیل کھلائے جاتے ہیں اور تھوڑا بہت پڑھایا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں تربیت کا عنصر کہاں ہے؟ تربیت ہو بھی تو یہ مکمل تربیت کیسے ہوئی جو مسلسل اور مرحلہ وار عمل ہے۔ اُٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور ملنے جلنے کے آداب سکھانا اس کا ایک حصہ ہے جبکہ دوسرا حصہ یہ سکھانا ہے کہ کیسے سوچا سمجھا جائے اور کیسے خود کو اعتدال کے سانچے میں ڈھالا جائے نیز اس کا فائدہ کیا ہے اور اس سے احتراز کا نقصان کیا ہے۔ تربیت کا یہ دوسرا حصہ تو کہیں دکھائی نہیں دیتا۔