گزشتہ سال نومبر میں گیارہویں جماعت کی ایک ۱۷؍ سالہ طالبہ کو پیٹ کے درد کی شکایت تھی جو بڑھتی رہی اور دواؤں سے افاقہ نہیں ہوا۔ اسے ایمس (دہلی) لے جایا گیا جہاں طبی معائنوں کے بعد پتہ چلا کہ اُس کی آنتیں چپک گئی ہیں اور ہاضمے کا نظام مجروح ہوچکا ہے۔
فاسٹ فوڈ۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ سال نومبر میں گیارہویں جماعت کی ایک ۱۷؍ سالہ طالبہ کو پیٹ کے درد کی شکایت تھی جو بڑھتی رہی اور دواؤں سے افاقہ نہیں ہوا۔ اسے ایمس (دہلی) لے جایا گیا جہاں طبی معائنوں کے بعد پتہ چلا کہ اُس کی آنتیں چپک گئی ہیں اور ہاضمے کا نظام مجروح ہوچکا ہے۔ ایسا کیوں ہوا اس کی وجہ جاننے کی کوشش پر معالجین نے بتایا تھا کہ کئی سال تک فاسٹ فوڈ کے بے محابا استعمال کی وجہ سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بچی کے اہل خانہ سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ وہ بچپن سے پزا، برگر، چاؤمن، فوراً تیار کیا گیا نوڈلز اور پیک کئے ہوئے اسنیکس کی شوقین تھی۔ دہلی لے جائے جانے سے قبل مراد آباد کے اسپتال میں جب اُس کا آپریشن ہوا تب اس کے پیٹ سے ۷؍ لیٹر سیّال(فلوئڈ) بھی نکالا گیا تھا۔ مریضہ جانبر نہیں ہوسکی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسباب مرض پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ فاسٹ فوڈ کا حد سے زیادہ استعمال ہاضمے کے نظام پر بوجھ ڈالتا ہے، ایسی غذاؤں میں ریفائنڈ کارب، فَیٹ، سالٹ اور ایڈیٹیوز کافی مقدار میں ہوتے ہیں مگر فائبر معمولی ہوتا ہے۔ زیادہ عرصہ تک ان کا استعمال ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے، پیٹ کے نظام کو سخت آزمائش سے گزارتا ہے اور اس کے نتیجے میں قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ ایسا، بالخصوص، بچوں اور نوعمروں میں ہوتا ہے۔ امروہہ کے سی ایم او ڈاکٹر ایس پی سنگھ نے چپس، کولڈ ڈرنکس اور فرائیز کو بھی نقصان دہ بتایا تھا کہ ان کی وجہ سے قدرتی بھوک ختم ہوجاتی ہے اور بعض اوقات خطرناک طبی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ ساری باتیں اُس وقت کی میڈیا رپورٹس میں شامل تھیں، ہم ان کی توثیق و تصدیق نہیں کرپائے مگر جہاں تک ہمارا خیال ہے، ان باتوں کو توثیق یا تصدیق کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آپ کسی بھی ڈاکٹر سے تبادلۂ خیال کیجئے، وہ ان تمام باتوں سے متفق ہی دکھائی دے گا۔ وہ یہی کہے گا کہ فاسٹ فوڈ میں میدا، نمک، ایڈیڈ شوگر اور پام آئل استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ غذائیں لذیذ ہوتی ہیں مگر ان میں فائبر، وٹامن اور منرل برائے نام ہوتے ہیں۔ اس لئے ان سے پرہیز بہتر ہے، والدین کو کوشش کرنی چاہئے کہ بچوں اور نوعمروں کو ان کی عادت نہ لگے۔
یہ دورِ جدید کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ چونکہ بچوں اور نوعمروں کو والدین روکتے ٹوکتے نہیں ہیں اس لئے محض پیٹ کے مسائل نہیں بلکہ دیگر طبی مسائل بھی اچھی خاصی صحت کو نقصان پہنچانے پر تل جاتے ہیں۔ آگے چل کر ہائپر ٹینشن، ذیابیطس اور سرطان کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ۸؍ جولائی کو جاری ہونے والی عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ ’’گلوبل اسٹیٹس رپورٹ آن کینسر ۲۰۲۶ء‘‘ کے مطابق قلب اور شریانوں کے امراض (کارڈیوویسکولر) کے بعد سب سے زیادہ اموات کینسر سے ہوتی ہیں۔ ہر سال عالمی سطح پر ۲۶؍ لاکھ کیسیز سامنے آتے ہیں اور ۱۰؍ لاکھ افراد لقمۂ اجل بنتے ہیں۔ سرطان کیلئے جہاں تمباکو کا استعمال، لائف اسٹائل کی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی وغیرہ ذمہ دار ہیں، وہیں جنک فوڈ کا استعمال، جو اِمپراپر ڈائٹری ہیبٹس میں آتا ہے، کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا۔ والدین پر لازم ہے کہ بچوں اور نوعمروں کی صحت پر خاص توجہ دیں اور یہ نہ بھولیں کہ محبت کا ایک تقاضا روک ٹوک بھی ہے۔