Sylvia Plathنے خواتین پرمعاشرتی دباؤ اوران کی ذہنی صحت جیسے موضوعات کو ادب کے مرکزی دھارے میں جگہ دی اور اسے مقبول عام بنایا۔
EPAPER
Updated: July 03, 2026, 8:58 PM IST | Mumbai
Sylvia Plathنے خواتین پرمعاشرتی دباؤ اوران کی ذہنی صحت جیسے موضوعات کو ادب کے مرکزی دھارے میں جگہ دی اور اسے مقبول عام بنایا۔
سلویا پلاتھ امریکی شاعرہ، ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ انہیں اعترافی شاعری ( Confessional Poetry)کی صنف کے فروغ کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے دو شعری مجموعوں، ’’دی کولاسس اینڈ اَدر پوئمز‘‘ (۱۹۶۰ء) اور’’ ایریل‘‘ (۱۹۶۵ء) کے ساتھ ایک نیم سوانحی ناول ’’ دی بیل جار‘‘( The Bell Jar ) کیلئے مشہور ہیں۔
سلویا پلاتھ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۳۲ء بوسٹن، امریکہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد اوٹو پلاتھ جرمن نژاد ماہر حیاتیات اور یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ سلویا بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت کی مالک تھیں۔ انہوں نے آٹھ برس کی عمر میں اپنی پہلی نظم شائع کرائی۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ صرف آٹھ سال کی تھیں۔ والد کی وفات نے ان کی شخصیت پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالاجس کی بازگشت بعد میں ان کی مشہور نظم ’’ڈیڈی‘‘میں نمایاں طور پر سنائی دیتی ہے۔ والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے بڑی محنت سے بچوں کی پرورش کی۔ اسکول کے زمانے ہی سے وہ ادبی رسائل میں نظمیں، مضامین اور کہانیاں بھیجتی رہیں جن میں سے متعدد شائع بھی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے: لیونہارڈ یولر سوئس ریاضی داں، ماہر فلکیات، مصنف اور انجینئر تھے
سلویا نے ۱۹۵۰ءمیں امریکہ کے ممتاز ادارے’ اسمتھ کالج ‘میں داخلہ لیا۔ یہاں انہوں نے انگریزی ادب میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وہ کالج میگزین کی مدیرہ بھی رہیں اور مسلسل لکھتی رہیں۔ ۱۹۵۳ء میں انہیں معروف رسالے’’میڈموسیل‘‘ میں مہمان مدیر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ سلویا پلاتھ بنیادی طور پر شاعرہ تھیں، اگرچہ انہوں نے ناول، مختصر کہانیاں، ڈائریاں، خطوط اور بچوں کیلئے بھی تحریریں لکھیں۔ ان کی شاعری کو اعترافی شاعری کی سب سے نمایاں مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس اسلوب میں شاعر اپنی ذاتی زندگی، جذبات، ذہنی کشمکش، خاندانی مسائل اور داخلی احساسات کو بے حد ایمانداری اور شدت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ ان کی نظموں میں علامت، استعارہ، صوتی حسن، نفسیاتی گہرائی اور جذباتی شدت ایک ساتھ ملتے ہیں۔ ان کی شاعری ذاتی دکھ کو آفاقی تجربہ بنا دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے قارئین خود کو ان کے کلام سے وابستہ محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ماریا مونٹیسوری: اٹلی کی ممتاز ڈاکٹر، ماہر تعلیم اور کئی کتابوں کی مصنفہ
ان کی پہلی شعری کتاب’’دی کولاسس اینڈ اَدر پوئمز‘‘ نے انہیں سنجیدہ شاعرہ کے طور پر متعارف کرایا۔ ان کا واحد نیم سوانحی ناول’’دی بیل جار‘‘میں ایک ذہین نوجوان لڑکی کی ذہنی بیماری، معاشرتی دباؤ اور شناخت کے بحران کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ آج یہ جدید انگریزی ادب کے کلاسیکی ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا مشہور شعری مجموعہ’’ ایریل‘‘( Ariel) شائع ہوا جسے ان کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ سلویا پلاتھ کا انتقال ۱۱؍ فروری ۱۹۶۳ء کو محض ۳۰؍ سال کی عمر میں لندن، برطانیہ میں ہوا تھا۔
وفات کے بعد سلویا پلاتھ کی شہرت میں اضافہ ہوا اور ان کی ادبی عظمت کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا۔ ۱۹۸۲ء میں انہیں ان کے مجموعۂ کلام پر شاعری کے شعبے میں پلٹزر پرائزسے نوازا گیا۔
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام )