جنوبی افریقہ کی معروف مصنفہ اولیو شرائنر کی شہرہ آفاق کہانی’’تھری ڈریمز اِن اے ڈیزرٹ‘‘Three Dreams in a Desertکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: July 03, 2026, 9:01 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
جنوبی افریقہ کی معروف مصنفہ اولیو شرائنر کی شہرہ آفاق کہانی’’تھری ڈریمز اِن اے ڈیزرٹ‘‘Three Dreams in a Desertکا اردو ترجمہ۔
صحرا اپنی وسعت میں ہمیشہ سے انسان کیلئے ایک معمہ رہا ہے۔ وہاں نہ گھنے درختوں کی چھاؤں ہوتی ہے، نہ بہتے ہوئے چشموں کی سرگوشی اور نہ آبادیوں کا شور۔ دور دور تک پھیلی ہوئی ریت، تپتا ہوا آسمان اور افق کے کناروں میں گم ہوتی ہوئی زمین انسان کو اس کی تنہائی کا احساس دلاتی ہے۔ شاید اسی لئے صدیوں سے صوفی، مفکر اور خواب دیکھنے والے لوگ صحرا کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بعض سچائیاں ہجوم میں نہیں ملتیں بلکہ ان کا سراغ اسی خاموشی میں ملتا ہے جہاں انسان اپنی ذات کے سوا کسی اور کی آواز نہیں سنتا۔
ایسے ہی ایک صحرا میں ایک مسافر بھٹک رہا تھا۔ وہ نہ کسی قافلے کا حصہ تھا اور نہ اس کے ساتھ کوئی رہبر تھا۔ اس کے لباس پر سفر کی گرد جمی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر ان سوالوں کی تھکن نمایاں تھی جو مدتوں سے اس کے دل میں پل رہے تھے۔ وہ نہ دولت کی تلاش میں نکلا تھا، نہ شہرت کی اور نہ اقتدار کی۔ اس کی جستجو کسی اور چیز کیلئے تھی، ایسی چیز کیلئے جس کا نام لینا آسان ہے مگر اسے حاصل کرنا پوری زندگی کی مشقت مانگتا ہے۔
وہ حق (سچائی) کی تلاش میں تھا۔ دن بھر سورج اس کے سر پر آگ برساتا رہا۔ ریت کے ذرات گرم انگاروں کی طرح اس کے قدموں کو جلاتے رہے اور ہوا کبھی کبھی ایسے چلتی جیسے صحرا خود اس اجنبی مسافر سے ناراض ہو۔ مگر وہ رُکا نہیں۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ منزل کہاں ہے، لیکن وہ جانتا تھا کہ جب تک چلتا رہے گا، امید زندہ رہے گی۔ شام کے قریب جب سورج آہستہ آہستہ مغرب کی طرف جھکنے لگا تو صحرا کا رنگ بدلنے لگا۔ سنہری ریت پر سرخی مائل روشنی پھیل گئی اور دور افق پر سائے لمبے ہونے لگے۔ مسافر ایک چٹان کے قریب پہنچا اور تھکے ہوئے جسم کے ساتھ اس کے سائے میں بیٹھ گیا۔ دن بھر کی مشقت نے اس کی طاقت نچوڑ لی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں شام کے پہلے ستارے نمودار ہونے لگے تھے۔ کچھ دیر بعد اس کی پلکیں بوجھل ہو گئیں اور وہ گہری نیند میں ڈوب گیا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سخی درخت
نیند اور بیداری کے درمیان ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں حقیقت اور خواب کی سرحدیں دھندلی پڑ جاتی ہیں۔ مسافر جب اس دنیا میں داخل ہوا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ اب بھی صحرا ہی میں موجود ہے، مگر یہ وہی صحرا نہیں تھا جسے وہ دن بھر پار کرتا رہا تھا۔ یہاں فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، ایسی خاموشی جو خوف نہیں بلکہ انتظار کا احساس پیدا کرتی تھی۔ اس نے دیکھا کہ اس کے سامنے ایک لمبا اور دشوار راستہ پھیلا ہوا ہے۔ راستہ پتھریلا تھا، اس میں کانٹے تھے اور جگہ جگہ ایسی رکاوٹیں تھیں جنہیں عبور کرنا آسان نہ تھا۔ راستے کے آغاز پر ایک عورت کھڑی تھی۔ وہ غیر معمولی شخصیت کی مالک تھی۔ اس کا چہرہ تھکا ہوا ضرور تھا، لیکن اس میں ایک عجیب وقار اور مضبوطی جھلکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں دکھ بھی تھا اور عزم بھی۔ اس کے لباس پر سفر کی گرد تھی، جیسے وہ مدتوں سے کسی طویل راہ پر گامزن ہو۔
مسافر نے اس کی طرف دیکھا اور بے اختیار پوچھا ’’تم کون ہو؟‘‘ عورت نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی گہرائی تھی جیسے ان میں صدیوں کی کہانیاں دفن ہوں۔ ’’میرا نام سچائی ہے، ‘‘ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔ یہ سن کر مسافر حیران رہ گیا۔ یہی تو وہ چیز تھی جس کی تلاش میں وہ مدتوں سے سرگرداں تھا۔ یہی وہ منزل تھی جس کیلئے اس نے آرام چھوڑا تھا، یہی وہ راز تھا جسے جاننے کیلئے وہ صحرا کی تنہائیوں میں بھٹک رہا تھا۔
مگر اگلے ہی لمحے اس کی حیرت اور بڑھ گئی۔ اس نے دیکھا کہ سچائی جس راستے پر کھڑی تھی، وہ انتہائی دشوار اور تکلیف دہ تھا۔ اس کے دونوں طرف کانٹے تھے، جگہ جگہ پتھر بکھرے ہوئے تھے اور دور تک اس میں کسی آرام گاہ یا سائے کا نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کے برعکس کچھ فاصلے پر ایک اور راستہ تھا جو ہموار اور دلکش دکھائی دیتا تھا۔ اس کے کناروں پر پھول کھلے تھے، سایہ دار درخت تھے اور وہاں سفر آسان معلوم ہوتا تھا۔ مسافر نے حیرت سے پوچھا ’’اگر تم واقعی سچائی ہو تو تمہارا راستہ اتنا مشکل کیوں ہے؟ لوگ تو آسانی اور راحت کی طرف جانا پسند کرتے ہیں۔ ‘‘
عورت کے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ’’اسی لئے بہت کم لوگ میرے ساتھ چلتے ہیں، ‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’اکثر لوگ آسان راستوں کو منتخب کرتے ہیں۔ وہ ایسی باتوں پر یقین کرنا پسند کرتے ہیں جو انہیں سکون دیں، خواہ وہ حقیقت نہ ہوں۔ سچائی کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ جو شخص میری رفاقت اختیار کرتا ہے، اسے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے۔ کبھی اپنے وہم، کبھی اپنی آسائش اور کبھی اپنی محبوب غلط فہمیاں۔ ‘‘
یہ الفاظ سن کر مسافر خاموش ہو گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ صحرا کی تپش سے زیادہ سخت وہ حقیقت ہے جو اس عورت کی آنکھوں میں جھلک رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردوترجمہ: سپاہی اور رقاصہ
اسی لمحے فضا میں ایک عجیب سی تبدیلی رونما ہوئی۔ ہوا رک گئی، روشنی مدھم پڑنے لگی اور خواب کا منظر دھندلانے لگا۔ سچائی کی صورت آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی، جیسے کوئی سایہ شام کے اندھیرے میں گم ہو رہا ہو۔ مسافر نے اسے روکنا چاہا، اس سے مزید سوال پوچھنا چاہا، لیکن اس کی آواز لبوں سے باہر نہ نکل سکی۔
پھر اچانک سب کچھ تاریکی میں ڈوب گیا۔ وہ چونک کر بیدار ہو گیا۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ صحرا ویسا ہی خاموش تھا جیسا پہلے تھا، لیکن مسافر کے دل میں اب ایک نیا اضطراب جنم لے چکا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے ابھی صرف ایک دروازے کی جھلک دیکھی ہے، جبکہ اس کے پیچھے ابھی کئی راز پوشیدہ ہیں۔
اور اسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ محض پہلا خواب تھا۔
رات کا باقی حصہ مسافر نے جاگتے ہوئے گزارا۔ صحرا کی خاموشی پہلے بھی گہری تھی، مگر اب اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس خاموشی کے اندر کوئی پوشیدہ معنی موجود ہے۔ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا اور دور دور تک پھیلی ہوئی ریت چاندنی میں چاندی کی طرح چمک رہی تھی۔ لیکن اس کے ذہن میں بار بار اسی عورت کا چہرہ ابھر رہا تھا جس نے خود کو ’’سچائی‘‘ کہا تھا۔ وہ سوچتا رہا کہ اگر واقعی سچائی کا راستہ اتنا دشوار ہے تو پھر دنیا کے بیشتر لوگ آسان راستوں کی طرف کیوں نہ جائیں ؟ آخر انسان راحت کو چھوڑ کر تکلیف کا انتخاب کیوں کرے؟
یہ سوالات اس کے ذہن میں گردش کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کی تاریکی مزید گہری ہو گئی اور اس کی آنکھیں دوبارہ بوجھل ہونے لگیں۔ تھکن نے ایک بار پھر اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور وہ نیند کی اس دنیا میں داخل ہو گیا جہاں خواب حقیقت سے زیادہ روشن اور بعض اوقات حقیقت سے زیادہ سچے معلوم ہوتے ہیں۔
اس بار اس نے خود کو ایک مختلف منظر میں پایا۔
وہ پھر صحرا ہی میں تھا، لیکن اب اس کے سامنے ایک بلند و بالا چٹان کھڑی تھی۔ اس چٹان کی چوٹی بادلوں میں گم ہوتی دکھائی دیتی تھی اور اس کی ڈھلوانیں اس قدر کھڑی تھیں کہ ان پر چڑھنے کا تصور ہی خوف پیدا کرتا تھا۔ چٹان کے دامن میں لوگوں کا ایک ہجوم جمع تھا۔ ان کے چہروں پر امید بھی تھی اور بے یقینی بھی۔ کچھ لوگ اوپر کی طرف دیکھ رہے تھے، کچھ مایوسی سے سر جھکائے بیٹھے تھے اور کچھ ایسے تھے جو چڑھنے کی کوشش کرتے کرتے تھک چکے تھے۔ مسافر نے غور سے دیکھا تو اس ہجوم کے درمیان ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔ وہ نہایت سادہ لباس میں ملبوس تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایسی روشنی تھی جو دوسروں سے مختلف محسوس ہوتی تھی۔ اس کے وجود میں ایک خاموش قوت تھی، گویا وہ کسی ایسے مقصد کیلئے زندہ ہو جسے باقی لوگ ابھی پوری طرح سمجھ نہ سکے ہوں۔
مسافر اس کے قریب گیا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔ عورت نے اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا ’’میں آزادی ہوں۔ ‘‘ یہ سن کر مسافر چونک گیا۔ آزادی!
یہ وہ لفظ تھا جس کیلئے انسان صدیوں سے قربانیاں دیتا آیا تھا۔ قومیں جنگیں لڑتی رہی تھیں، مفکر اس پر کتابیں لکھتے رہے تھے اور بے شمار لوگ اس کے خواب میں اپنی زندگیاں گزار دیتے تھے۔ مسافر نے اردگرد نظر دوڑائی۔ ’’اگر تم آزادی ہو تو پھر یہ لوگ یہاں کیوں رکے ہوئے ہیں ؟ یہ تمہارے پاس کیوں نہیں آتے؟‘‘
عورت نے خاموشی سے چٹان کی چوٹی کی طرف اشارہ کیا، ’’کیونکہ میرے پاس پہنچنے کیلئے اوپر چڑھنا پڑتا ہے۔ ‘‘ مسافر نے نظر اٹھا کر چٹان کو دیکھا۔ راستہ واقعی انتہائی دشوار تھا۔ جگہ جگہ گہری دراڑیں تھیں، تیز دھار پتھر تھے اور بعض مقامات ایسے تھے جہاں ایک معمولی لغزش انسان کو گہرائی میں گرا سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: تیر انداز
’’اور جو اوپر پہنچ جاتے ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
عورت کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
’’وہ آزاد ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
’’اور جو راستے میں گر جائیں ؟‘‘
’’وہ بھی ان لوگوں سے بہتر ہیں جو کبھی چڑھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ‘‘
یہ جواب سن کر مسافر خاموش ہو گیا۔
اس نے دیکھا کہ ہجوم میں سے کبھی کوئی شخص ہمت جمع کرتا اور چڑھنا شروع کر دیتا۔ کچھ فاصلے تک پہنچ کر وہ تھک جاتا اور واپس لوٹ آتا۔ کچھ لوگ درمیان راستے میں خوفزدہ ہو جاتے۔ بعض ایسے بھی تھے جو دوسروں کو چڑھتے دیکھ کر ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ چوٹی تک پہنچنا ناممکن ہے۔ لیکن کبھی کبھی کوئی ایسا شخص بھی دکھائی دیتا جو زخمی ہونے، پھسلنے اور بار بار گرنے کے باوجود اپنی کوشش جاری رکھتا تھا۔ مسافر نے محسوس کیا کہ آزادی کسی تحفے کا نام نہیں۔ وہ ایک جدوجہد تھی۔ ایک مسلسل جدوجہد۔ اور شاید اسی لئے اس کی قدر بھی اتنی زیادہ تھی۔ اسی دوران منظر بدلنے لگا۔ چٹان دھند میں لپٹنے لگی، ہجوم کے چہرے مدھم ہونے لگے اور آزادی کی صورت آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ لیکن اس کے آخری الفاظ مسافر کے کانوں میں گونجتے رہے، ’’جو چیز آسانی سے مل جائے، وہ آزادی نہیں ہوتی۔ ‘‘
اگلے ہی لمحے خواب ٹوٹ گیا۔
مسافر نے آنکھیں کھولیں تو صبح کی پہلی روشنی افق پر نمودار ہو رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا ریت کے ذروں کو آہستگی سے ہلا رہی تھی اور صحرا ایک نئے دن کا استقبال کر رہا تھا۔ وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اب اس کے دل میں دو تصویریں تھیں۔ ایک سچائی کی، جو کانٹوں بھرے راستے پر کھڑی تھی۔ اور دوسری آزادی کی، جو ایک دشوار چٹان کی چوٹی پر منتظر تھی۔ لیکن اسے ابھی معلوم نہ تھا کہ تیسرا خواب ان دونوں سے زیادہ گہرا اور زیادہ حیران کن ہونے والا ہے۔ صبح کی روشنی پھیلنے کے باوجود مسافر کے دل میں رات کے خوابوں کا اثر باقی تھا۔ وہ دیر تک ایک چٹان پر بیٹھا افق کی طرف دیکھتا رہا جہاں سورج آہستہ آہستہ ریت کے سمندر پر اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ ان خوابوں میں کوئی ایسا پیغام پوشیدہ ہے جو محض اس کی ذات تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت سے متعلق ہے۔ سچائی اور آزادی کی تصویریں اس کے ذہن میں بار بار ابھر رہی تھیں۔ دونوں دشوار راستوں کے ساتھ وابستہ تھیں، دونوں تک پہنچنے کیلئے قربانی درکار تھی، اور دونوں ہی ایسی چیزیں تھیں جن کی خواہش تو ہر شخص کرتا ہے لیکن جن کے حصول کیلئے بہت کم لوگ تیار ہوتے ہیں۔
سارا دن وہ انہی خیالات میں گم رہا۔ شام ڈھلی، آسمان پر تاریکی چھانے لگی اور صحرا ایک بار پھر اپنی پراسرار خاموشی میں ڈوب گیا۔ تھکن نے آخرکار اس پر غلبہ پا لیا اور وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ اسی نیند میں اسے تیسرا خواب دکھائی دیا۔
اس بار اس نے خود کو ایک وسیع میدان میں کھڑا پایا جو صحرا کے درمیان واقع تھا۔ فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ نہ ہوا چل رہی تھی اور نہ کوئی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میدان کے وسط میں ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کا چہرہ پرسکون تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایسی گہرائی تھی جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ صدیوں کے دکھ اور صدیوں کی امیدوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔ عورت کے قدموں کے قریب ایک ننھا سا بچہ کھڑا تھا۔ بچہ کمزور دکھائی دیتا تھا، اس کے کپڑے سادہ تھے اور چہرے پر معصومیت نمایاں تھی۔ لیکن اس کی آنکھوں میں ایک ایسی روشنی تھی جو عام بچوں میں کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ وہ عورت کا ہاتھ تھامے خاموشی سے کھڑا تھا، جیسے کسی طویل سفر کے آغاز کا انتظار کر رہا ہو۔ مسافر ان دونوں کے قریب گیا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘ اس نے عورت سے پوچھا۔
عورت نے نہایت سکون سے جواب دیا، ’’میں محبت ہوں۔ ‘‘ مسافر نے پھر اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اور یہ کون ہے؟‘‘ عورت نے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’یہ انسانیت ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دادا شام
یہ سن کر مسافر خاموش ہو گیا۔ وہ ان دونوں کو غور سے دیکھنے لگا۔ اسی دوران اس نے محسوس کیا کہ میدان کے دوسرے کنارے پر ایک لمبا اور دشوار راستہ پھیلا ہوا ہے۔ وہ راستہ نہ سچائی کے راستے سے کم دشوار تھا اور نہ آزادی کی چٹان سے کم خوفناک۔ جگہ جگہ پتھر تھے، کانٹے تھے اور ایسی رکاوٹیں تھیں جو ہر قدم پر انسان کو واپس لوٹنے پر مجبور کر سکتی تھیں۔ محبت نے بچے کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور آہستہ آہستہ اس راستے پر چلنا شروع کر دیا۔ شروع میں سفر نسبتاً آسان معلوم ہوا، لیکن کچھ فاصلے کے بعد مشکلات بڑھنے لگیں۔ تیز دھار پتھر بچے کے قدم زخمی کرنے لگے۔ کانٹوں نے اس کے لباس کو چاک کر دیا۔ کئی بار وہ لڑکھڑایا، کئی بار گر پڑا، لیکن ہر مرتبہ محبت نے اسے سہارا دیا اور دوبارہ کھڑا کر دیا۔ مسافر یہ منظر خاموشی سے دیکھتا رہا۔
اسے حیرت ہو رہی تھی کہ محبت خود بھی تکلیف میں ہے، اس کے اپنے قدم بھی زخمی ہو رہے ہیں، لیکن وہ رکنے کے بجائے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ محبت کا چہرہ درد سے خالی نہیں، مگر اس درد میں شکایت نہیں تھی۔ اس کے اندر ایک ایسا عزم تھا جو ہر تکلیف سے بڑا دکھائی دیتا تھا۔
کافی دیر بعد مسافر نے پوچھا، ’’تم اس بچے کو اس قدر مشکل راستے پر کیوں لے جا رہی ہو؟‘‘
محبت نے جواب دیا، ’’کیونکہ اس کے بغیر یہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘
’’اور اگر تم اسے چھوڑ دو؟‘‘
محبت کی آنکھوں میں ایک گہری اداسی اتر آئی۔
’’پھر یہ راستے ہی میں کھو جائے گا۔ ‘‘
مسافر نے بچے کی طرف دیکھا۔ اب وہ پہلے سے زیادہ تھکا ہوا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں امید باقی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید انسانیت ہمیشہ اسی طرح محبت کے سہارے آگے بڑھتی رہی ہے۔ جب بھی دنیا ظلم، نفرت یا مایوسی کے اندھیروں میں گم ہوئی، محبت نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے دوبارہ راستہ دکھایا۔
آہستہ آہستہ خواب کا منظر دھندلانے لگا۔ میدان، راستہ، محبت اور وہ بچہ سب مدھم ہونے لگے۔ لیکن اس سے پہلے کہ سب کچھ نظروں سے اوجھل ہو جاتا، محبت نے ایک آخری بار پلٹ کر مسافر کی طرف دیکھا۔ ’’یاد رکھو، ‘‘ اس نے کہا، ’’سچائی کے بغیر انسان اندھا رہتا ہے، آزادی کے بغیر قیدی رہتا ہے، اور محبت کے بغیر انسان رہ ہی نہیں سکتا۔ ‘‘
یہ الفاظ فضا میں گونجتے رہے۔
اگلے ہی لمحے مسافر کی آنکھ کھل گئی۔
صبح طلوع ہو رہی تھی۔ سورج کی پہلی کرنیں صحرا کی ریت پر پڑ رہی تھیں اور ہوا میں ایک نئی تازگی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اب اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے تینوں خواب ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔
سچائی، آزادی اور محبت تین الگ راستے نہیں بلکہ ایک ہی سفر کے مختلف مرحلے تھے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، گہری سانس لی اور پھر آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔ صحرا اب بھی وہی تھا، راستہ اب بھی طویل تھا، لیکن اس کے دل میں اب ایک ایسی روشنی تھی جو پہلے موجود نہیں تھی۔