Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا ’یونیورسل ایمرجنسی نمبر‘۱۱۲؍ ہے، کیوں؟

Updated: July 03, 2026, 8:49 PM IST | Mumbai

حکومت نے ۱۱۲؍ کو صرف عام ایمرجنسی نمبر ہی نہیں بلکہ خواتین، بچوں، معمرین اور دیگر کمزور طبقات کی حفاظت کیلئےبھی مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔

The implementation of 112 has led to better coordination between various emergency agencies. Photo: INN
۱۱۲؍کے نفاذ سے مختلف ایمرجنسی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوئی۔ تصویر:آئن این این

کسی بھی ملک کی ترقی کا ایک اہم معیار یہ ہوتا ہے کہ وہاں کے شہری ہنگامی حالات میں کتنی جلدی امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ حادثات، جرائم، آتش زدگی، طبی ایمرجنسی یا دیگر ناگہانی واقعات کے دوران بروقت مدد کیلئے ایک مؤثر اور آسان ایمرجنسی نظام بے حد ضروری ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ پہلے ہندوستان میں مختلف ہنگامی خدمات کیلئے الگ الگ ٹیلی فون نمبر استعمال ہوتے تھے مگربعد ازاں حکومتِ ہند نے ان مشکلات کو دور کرنے کیلئے ۱۱۲؍نمبرکو ملک کا یونیورسل ایمرجنسی نمبر قرار دیا، کیوں؟
مختلف ایمرجنسی نمبروں کی پیچیدگی کا خاتمہ 
ماضی میں ہندوستان میں پولیس کیلئے۱۰۰، فائر بریگیڈ کیلئے۱۰۱، ایمبولینس کیلئے۱۰۲ ؍یا ۱۰۸، خواتین کی ہیلپ لائن کیلئے۱۰۹۱؍ اور بچوں کیلئے۱۰۹۸؍جیسے متعدد نمبر رائج تھے۔ اس نظام میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ عام آدمی خصوصاً بزرگ افراد، بچے یا تعلیم سے کم واقف لوگ مختلف نمبروں کو یاد نہیں رکھ پاتے تھے۔ کسی حادثے یا ایمرجنسی کی حالت میں گھبراہٹ کے باعث صحیح نمبر یاد نہ آنے سے قیمتی وقت ضائع ہو جاتا تھا۔ حکومت نے اس پریشانی کو ختم کرنے کیلئے۱۱۲؍کو ایک مشترکہ اور آسان نمبر بنا دیا جس سے تمام بنیادی ہنگامی خدمات تک رسائی ممکن ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’کاک پٹ‘ میں سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں ہوتا، کیوں؟

فوری اور مؤثر امداد کی فراہمی
۱۱۲؍ نمبر متعارف کرانے کا ایک اہم مقصد امدادی کارروائیوں کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانا تھا۔ جب کوئی شہری۱۱۲؍ پر کال کرتا ہے تو اس کی اطلاع ایک مرکزی کنٹرول روم تک پہنچتی ہے جہاں سے ضرورت کے مطابق پولیس، ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کو فوراً روانہ کیا جاتا ہے۔ اس نظام سے مختلف محکموں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہوتا ہے۔ 
خواتین، بچوں اور معمرین کے تحفظ کو مضبوط بنانا
حکومت نے ۱۱۲؍ کو صرف عام ایمرجنسی نمبر ہی نہیں بلکہ خواتین، بچوں، معمرین اور دیگر کمزور طبقات کی حفاظت کیلئےبھی مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔ اگر کسی خاتون کو ہراسانی، تشدد یا کسی خطرے کا سامنا ہو تو وہ صرف ۱۱۲؍ پر رابطہ کرکے فوری مدد حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح بچوں، معذور افراد اور معمر شہریوں کی ہنگامی شکایات بھی اسی کے ذریعے متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بیسٹ‘‘ کی بسوں میں مختلف قسم کے کوڈز ہوتے ہیں، کیوں؟

عالمی معیار سے ہم آہنگی
دنیا کے کئی ممالک میں ایک ہی ایمرجنسی نمبر استعمال کیا جاتا ہے جیسے امریکہ میں ۹۱۱۔ ہندوستان نے بھی ایک واحد قومی ایمرجنسی نمبر اختیار کرکے اپنے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی۔ اس سے غیر ملکی سیاحوں کیلئے بھی ہنگامی خدمات تک رسائی نسبتاً آسان ہو گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK