۵ء۴۳؍ فیصد طلبہ کاخیال ہے کہ نصاب سے انہیں اس بات پرتوجہ دینےکی درست سمت نہیں ملتی کہ کیا سوچا جائے کے بجائے کیسے سوچا جائے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 7:53 PM IST | Afzal Usmani | Mumbai
۵ء۴۳؍ فیصد طلبہ کاخیال ہے کہ نصاب سے انہیں اس بات پرتوجہ دینےکی درست سمت نہیں ملتی کہ کیا سوچا جائے کے بجائے کیسے سوچا جائے۔
ہر بات کو کیوں، کیسے اور کیا واقعی کی کسوٹی پر پرکھیں۔
مختلف خیالات سنیں اور اپنے مفروضوں پر بھی سوال اٹھائیں۔
اپنی سوچ پر نظرثانی کریں اور بہتر فیصلوں کی مشق کریں۔
سوچنے کا درست طریقہ
اچھی تعلیم کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں کہ ہمیں کیا سوچنا ہے بلکہ یہ سکھانا بھی ہے کہ ہمیں کیسے سوچنا چاہئے۔ ایک باشعور طالب علم کسی بات کو صرف اس لئے درست تسلیم نہیں کرتا کہ اسے سماج میں عام طور پر درست سمجھا جاتا ہے بلکہ وہ اس کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح سوچنے کی عادت انسان کو دوسروں کے خیالات کی اندھی تقلید سے بچاتی ہے۔ جو طالب علم سوچنے کا درست طریقہ سیکھ لیتا ہے وہ نئے مسائل کا سامنا زیادہ اعتماد سے کرسکتا ہے۔
سوال کرنے کی عادت
تنقیدی سوچ کی ابتدا سوال کرنے سے ہوتی ہے۔ جب کوئی طالب علم کسی بات کے بارے میں ’’کیوں ؟‘‘، ’’کیسے؟‘‘ یا’’کیا واقعی ایسا ہے؟‘‘ جیسے سوالات کرتا ہے تو اس کی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر وہ بات درست ہو جسے زیادہ تر لوگ درست سمجھتے ہوں اس لئے کسی بھی دعوے کو سمجھنے کیلئے اس کی وجہ اور بنیاد جاننا ضروری ہے۔ کلاس میں بھی طلبہ کو سوال پوچھنے اور اپنی الجھن کا اظہار کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ سوال علم کی تلاش کا اہم وسیلہ ہے۔
غلطی سے سیکھنے کا فن
اچھی سوچ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی غلط فیصلہ نہ کرےبلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جب کوئی خیال یا فیصلہ غلط ثابت ہوجائے تو اسے ضد کے ساتھ درست ثابت کرنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ غلطی کہاں ہوئی۔ ممکن ہے معلومات نامکمل ہوں، شواہد کو درست طور پر نہ سمجھا گیا ہو یا کسی مفروضے کو بغیر جانچے قبول کرلیا گیا ہو۔ اپنی غلطی کا تجزیہ کرنے سے سوچنے کا طریقہ بہتر ہوتا ہے اور آئندہ ایسے فیصلوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک طالب علم اگر اپنی ناکامی کو صرف شکست سمجھنے کے بجائے سیکھنے کا موقع سمجھے تو وہ زیادہ پراعتماد بن سکتا ہے۔ ضرورت پر رائے بدلنا ذہنی پختگی ہے۔
مختلف زاویوں سے سوچنا
کسی بھی مسئلے کو سمجھنے کیلئے اسے مختلف زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ ایک ہی معاملے پر مختلف لوگوں کی سوچ مختلف ہوسکتی ہے۔ دوسروں کے خیالات سننے کا مقصد یہ نہیں کہ ہر رائے کو درست تسلیم کرلیا جائے بلکہ اس سے مسئلے کی مکمل تصویر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جب ہم کسی معاملے کے حق اور مخالفت میں موجود دلائل پر غور کرتے ہیں تو ہماری سوچ زیادہ وسیع اور متوازن ہوجاتی ہے۔ مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنے سے انسان اپنے خیالات کی کمزوریوں کو بھی پہچان سکتا ہے اور نئے امکانات بھی تلاش کرسکتا ہے۔ یہ رویہ دوسروں کے خیالات کا احترام اور مثبت مکالمہ بھی پیدا کرتا ہے۔ وسیع زاویۂ نظر کا حامل شخص پیچیدہ مسائل کے بہترحل تلاش کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔
آزادانہ اور ذمہ دارانہ فیصلہ
’’کیا سوچا جائے کے بجائے کیسے سوچا جائے‘‘کا اصل مقصد انسان کو آزادانہ، منطقی اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اگر اسے محسوس ہو کہ اس کا فیصلہ درست نہیں تھا تو وہ اپنی سوچ پر نظرثانی کرنے سے بھی نہیں گھبراتا، کیونکہ اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی تنقیدی سوچ کا حصہ ہے۔ ایسی سوچ طالب علم کو صرف امتحانات میں بہتر کارکردگی کے قابل نہیں بناتی بلکہ زندگی کے حقیقی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اس سے خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔ آخرکار تعلیم کا مقصد صرف معلومات سے ذہن بھرنا نہیں بلکہ ایسے ذہن تیار کرنا ہے جو خود سوچ سکیں، سوال اٹھا سکیں اور سمجھ داری سےفیصلے کرسکیں۔
ان نکات پر توجہ دیں
معیاری کتابیں پڑھیں
مختلف موضوعات پر اچھی کتابیں، تحقیقی مضامین اور مستند معلومات حاصل کرنے سے سوچنے کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ دوران مطالعہ مصنف کانقطۂ نظر بھی سمجھیں۔
روزانہ سوچنے کی مشق
دن بھر پیش آنے والے کسی ایک واقعے یا مسئلے پر چند منٹ غور کریں اور اس کے مختلف ممکنہ پہلو تلاش کریں۔ ایسا کرنا آپ کی صلاحیت مضبوط بنائے گا۔
اپنی رائے کو چیلنج کریں
ہم عموماً اپنی پسند اور پہلے سے قائم خیالات کے مطابق معلومات کو دیکھتے ہیں، اس لئے کبھی اپنی ہی رائے پر سوال اٹھائیں۔ مخالف کی بھی دلیل سنیں۔
کئی زاویوں سے دیکھیں
کسی مسئلے کو صرف اپنی نظر سے دیکھنے کے بجائے خود کو دوسرے شخص کی جگہ رکھ کر بھی سوچنے کی کوشش کریں۔ اس مشق سے مسئلے کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔
جذبات کو حاوی نہ کریں
غصے، خوف یا بہت زیادہ خوشی کی حالت میں کئے گئے فیصلے بعض اوقات حقیقت سے دور ہوسکتے ہیں، اس لئے پہلے خود کو پرسکون کریں پھر فیصلہ کریں۔
’’مجھے نہیں معلوم‘‘
ہر سوال کا جواب معلوم ہونا ضروری نہیں، کسی بات یا معلومات کے بارے میں لاعلمی کا اعتراف یا’’مجھے نہیں معلوم‘‘ کہنا بھی اچھی سوچ کی علامت ہے۔