Updated: September 04, 2026, 8:01 PM IST
| Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ آر ٹی آئی ( معلومات کا حق) ایکٹ، ۲۰۰۵ ءکے تحت سی سی ٹی وی فوٹیج براہِ راست درخواست گزار کو فراہم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ قانون کے تحت مستثنیٰ ہے، تاہم عدالت نے یہ واضح کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عدالت یا متعلقہ کمیشن میں شکایت درج کرائے تو وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور پیش کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ آر ٹی آئی ( معلومات کا حق) ایکٹ، ۲۰۰۵ء کے تحت سی سی ٹی وی فوٹیج براہِ راست درخواست گزار کو فراہم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ قانون کے تحت مستثنیٰ ہے۔ تاہم جسٹس شیکھربی سراف اور جسٹس اودھیش کمار چودھری نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عدالت یا متعلقہ کمیشن میں شکایت درج کرائے تو وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور پیش کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔عدالت نے اپنے یکم ستمبر کے حکم میں کہا کہ ’’ہماری رائے میں درخواست گزار نے اب تک کسی عدالت یا کمیشن میں کوئی شکایت درج نہیں کی اور محض سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ فوٹیج براہِ راست درخواست گزار کو نہیں دی جا سکتی، کیونکہ یہ ایکٹ ۲۰۰۵ء کی دفعہ ۸؍(۱؍)(ج) کے تحت مستثنیٰ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی احتجاج: ملزم سواتنترا بھردواج اتر پردیش سے گرفتار، پولیس کا دعویٰ
واضح رہے کہ یہ حکم اس درخواست پر آیا جو اتر پردیش ریاستی اطلاعاتی کمیشن کے حکم کو چیلنج کرتی تھی اور آر ٹی آئی درخواست کے ذریعے طلب کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی فراہمی اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی تھی۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا تحفظ اس کا حق ہے۔ جبکہ ریاستی اطلاعاتی کمیشن کی جانب سے وکیل نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حساس معلومات ہیں اور یہ آر ٹی آئی ایکٹ ۲۰۰۵ء کے تحت مستثنیٰ زمرے میں آتی ہیں، اور یہ فوٹیج عدالت یا کمیشن کو فراہم کی جا سکتی ہے مگر درخواست گزار کو براہِ راست نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے عدالتوں اور کمیشنوں کو سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کرنے اور اس کے تحفظ کا حکم دینے کا اختیار تسلیم کیا ہے، مگر اس نے پایا کہ درخواست گزار نے کسی عدالت یا کمیشن میں شکایت درج کیے بغیر براہِ راست فوٹیج طلب کی ہے، لہٰذا یہ فوٹیج براہِ راست نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: مسلم صحافیوں پر مبینہ تشدد، صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کی شدید مذمت کی
بعد ازاں عدالت نے درخواست کو یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ اگر درخواست گزار کسی مناسب فورم یا عدالت میں شکایت درج کرتا ہے تو وہ فورم سی سی ٹی وی فوٹیج کے تحفظ اور اسے طلب کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ شکایت میں درج الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ یاد رہے کہ آر ٹی آئی ایکٹ ۲۰۰۵ء کی دفعہ ۸؍ ان معلومات کے زمرے درج کرتی ہے جنہیں عوامی حکام کو ظاہر کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے، جیسے قومی سلامتی، عدالتوں کی ممنوعہ معلومات، تجارتی راز، اور ایسی معلومات جن کے افشاء سے کسی کی جان یا سلامتی کو خطرہ ہو، تحقیقات میں رکاوٹ آئے، یا کسی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہو۔ تاہم چند استثنیٰ کو اس وقت ختم کیا جا سکتا ہے جب متعلقہ حکام کو عوامی مفاد میں اسے افشاء کرناضروری معلوم ہو۔