Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرطوب ہوا میں زیادہ پسینہ آتا ہے، کیوں؟

Updated: May 08, 2026, 4:59 PM IST | Mumbai

جب ہوا میں نمی زیادہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فضا پہلے ہی پانی کے بخارات سے بھری ہوئی ہے۔ ایسی حالت میں پسینے کا بخارات میں تبدیل ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔

High humidity in the air prevents sweat from evaporating. Photo: INN
ہوا میں موجود زیادہ نمی پسینے کو بخارات میں تبدیل ہونے سے روکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی جسم ایک حیرت انگیز نظام ہے جو ہر موسم میں اپنے اندرونی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ موسم سرما میں ہمیں زیادہ پسینہ نہیں آتا مگر جیسے ہی گرمی کا موسم شروع ہوتا ہے یا ہوا میں نمی (رطوبت) بڑھتی ہےتو عام دنوں کی بہ نسبت زیادہ پسینہ آتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جسم کا درجۂ حرارت کنٹرول کرنے کا نظا م
انسانی جسم ایک قدرتی ’’تھرموسٹیٹ‘‘ کی طرح کام کرتا ہے جو اندرونی درجہ حرارت کو تقریباً ۳۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس برقرار رکھتا ہے۔ جب باہر کا موسم گرم ہو جاتا ہے یا جسم کو زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے تو دماغ کے ایک حصے (ہائپوتھیلمس) کو سگنل ملتا ہے کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اس کے جواب میں جسم پسینہ پیدا کرتا ہے تاکہ اضافی حرارت کو کم کیا جا سکے۔ 
پسینے کا بنیادی کام 
پسینہ دراصل پانی اور نمکیات پر مشتمل ایک مائع ہے جو جلد کی سطح پر آ کر بخارات کی صورت میں اُڑ جاتا ہے۔ جب یہ بخارات بنتےہیں تو جسم سے حرارت جذب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی کولنگ سسٹم ہے جو جسم کو زیادہ گرم ہونے سے بچاتا ہے۔ 
نمی (Humidity) کا اثر
جب ہوا میں نمی زیادہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فضا پہلے ہی پانی کے بخارات سے بھری ہوئی ہے۔ ایسی حالت میں پسینے کا بخارات میں تبدیل ہونا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ہوا مزید نمی جذب نہیں کر پاتی۔ نتیجتاً پسینہ جلد سے نہیں اڑ پاتا اور جسم پر چپکا رہتا ہے۔ 
جسم کو زیادہ پسینہ آنے کی وجہ
چونکہ نمی کی وجہ سے پسینہ صحیح طرح بخارات نہیں بنتا، اس لئے جسم کو زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں دماغ مزید پسینہ پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی طرح جسم ٹھنڈا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مرطوب (humid) موسم میں انسان کو معمول سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔ 
مرطوب موسم میں بے آرامی کا احساس
زیادہ نمی کی وجہ سے نہ صرف پسینہ بڑھ جاتا ہے بلکہ جسم کی حرارت کم کرنے کی قدرتی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے انسان کو چپچپاہٹ اور بے آرامی محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے گرم اور مرطوب موسم خشک موسم کے مقابلے میں زیادہ تکلیف دہ لگتا ہے۔ 
خون کی نالیوں کا پھیلاؤ
گرم اور مرطوب موسم میں جسم کی خون کی نالیاں بھی پھیل جاتی ہیں تاکہ زیادہ خون جلد کے قریب آ سکے اور حرارت باہر منتقل ہو سکے۔ اس عمل کے نتیجے میں جلد کی سطح پر حرارت اور نمی دونوں بڑھ جاتے ہیں، جس سے پسینے کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے اور جسم زیادہ گرم محسوس ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK