Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: مساجد و مدارس کی تعمیر میں غیر مسلم کے پیسے لگانے کا شرعی حکم

Updated: May 08, 2026, 5:14 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) مسجد مدارس کی تعمیر اور غیر مسلم کے پیسے۔ (۲) قرآن شریف کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا۔ (۳) بیمہ کی شرعی حیثیت۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کیا مسجد اور مدرسے کی تعمیر  میں غیر مسلم کا پیسہ لگانا جائز ہے؟  ایم ایس قریشی  ،راجستھان 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: بنیادی طور سے اس مسئلے کا تعلق غیر مسلم کے وقف برائے مساجد سے ہے۔ فقہاء نے اس کے متعلق یہ اصول تحریر کیا ہے کہ اگر اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق کوئی غیر مسلم مسجد کے وقف کو کار ثواب جانتا اور مانتا ہے تو اس کا وقف برائے مسجد درست اور معتبر ہوگا۔ اس سلسلے میں بیت المقدس کے لئے یہود ونصاریٰ کے اوقاف کا صحیح ہونا  ان کا مستدل ہے۔ غیر مسلم کا مساجد کی تعمیر میں تعاون اور چندہ وقف سے ملتا جلتا ہے لیکن جداگانہ نوعیت رکھتا ہے۔ اصولی طور پر اس تعاون کی سرے سے نفی نہیں کی جاسکتی لیکن علماء نے کئی پہلوؤں سے اس پر بحث کی ہے مثلاً مسجد میں چندہ دینے والے کا اس کے متعلق کیا نظر یہ ہے، اس تعاون سے اس کا مقصد کیا ہے ، وہ اپنی کس آمدنی سے یہ تعاون کررہا ہے اور اس سلسلے میں اس کی کیا شرائط ہیں، وغیرہ اور کیا یہ تعاون قبول کرکے مسلمان امکانی طور پر کسی طرح پابند تو نہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ دینے والے کا مقصد سیاسی فوائد کا حصول ہو کہ اس کے نتیجے میں مسلمان اس کے سیاسی ہمنوا بن جائیں تو ایسے چندے سے احتراز ضروری ہوگا۔ اگر یہ خطرہ ہو کہ مسلمان بھی ان کے مشرکانہ امورمیں تعاون کریں  تب بھی اس سے احتراز ضروری ہوگا، اس کی آمدنی خالص حرام اور ناجائز مثلا سودی کاروبار وغیرہ کی ہوتو اس صورت میں بھی اجازت نہ ہوگی ،البتہ ایسا کوئی دباؤ اور امکان نہ ہو پھر کوئی غیر مسلم بغیر کسی شرط کے اپنی مرضی سے تعاون کرے تو اس کے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ٹول کا حکم، قربانی کے جانور کی عمر، مطلوبہ مال نہ ملنے پر واپس کرنا

ایک مولانا صاحب  نے اپنے بیان میں ایک بات کہی کہ جو شخص قرآن شریف کو بغیر ترجمے کے پڑھتا ہے اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور قرآن شریف کو سمجھ کر  اور ترجمہ کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ کیا ان کی بات درست ہے؟ محمد احمد ،ممبئی 

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: اسلام ایک مکمل نظام حیات اور قرآن کریم اس کا بنیادی دستور العمل ہے اس لئے قرآن کریم ہر مسلمان کی زندگی کا لازمی جز ہے اس بنا پر اس کے پیغام سے واقفیت اور رہنمائی حاصل کرکے اس پر عمل درآمد ہی مقصد ِ زندگی ہے، لیکن یہ کہنا کہ بغیر ترجمہ جانے قرآن پڑھنے میں کوئی خیر نہیں اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے  سب سے پہلے تلاوت کا ذکر فرمایا ہے،تز کیہ اور تعلیم کتاب وحکمت کا ذکر اس کے بعد ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کو سمجھنا بھی اہم ہے لیکن بغیر ترجمہ سمجھے اس کی تلاوت بھی فائدے سے خالی نہیں۔ ایک روایت میں ہے ،حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے  دس نیکیاں ہیں۔ اس کے بعد مزید وضاحت کی غرض سے ارشاد فرمایا کہ : میں یہ نہیں کہتا کہ الم ٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ،لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے ۔حضرات علماء نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے  لکھا ہے کہ الم حروف مقطعات میں سے ہے جسے متعلق سب یہ مانتے ہیں، بندہ اس کے ترجمہ اور مفہوم کو  جاننے کا مکلف ہی نہیں۔ اس موقع پر یہ مثال دینا ثابت کرتا ہے کہ تلاوت کااجر وثواب ترجمہ اور مفہوم کو جاننے پر موقوف نہیں لہٰذا جہاں قرآن کو سمجھ کر پڑھنا مطلوب ہے وہیں محض تلاوت بھی مطلوب اور خیر سے خالی نہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے

بیمہ کی شرعی حیثیت

اگر کوئی شخص  اپنا بیمہ کرانا چاہے کہ میرے جانے کے بعد  بچوں کے کام آ جائے، تو کیا یہ جائز ہے؟ توفیق انعام ،اترا کھنڈ

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: بیمہ کی رائج الوقت صورت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک  غیر شرعی اور ناجائز امور پر مشتمل معاملہ ہے۔ قرآن کریم سے سود کی حرمت قطعی طور سے ثابت ہے نیز احادیث مبارکہ میں اس کے متعلق سخت وعیدیں موجود ہیں ،قمار (یعنی جوا) کو ناپاکی اور شیطانی عمل قرار دیاگیا ہے جبکہ مروجہ بیمہ ان دونوں مفاسد پر مشتمل ہے چنانچہ بیمہ کی پالیسی لینے  کے بعد اگر چند قسطوں کے بعد ہی انتقال کر جائے تو اسے جمع کردہ رقم سے کئی گنا زائد پالیسی کی پوری رقم مل جائےگی لیکن مقررہ مدت کی تکمیل کے بعد بھی اسے کچھ نہ ہوا تو جمع کردہ رقم ہی ملے گی مگر کچھ اضافے کے ساتھ جو سود ہے۔ پہلی صورت میں اس پر سود اور دوسری صورت میں قمار یعنی جواکی تعریف صادق آتی ہے۔ بیمہ کی مختلف قسمیں ہیں مثلا زندگی کا بیمہ، صحت کا بیمہ، کاروبار کا بیمہ وغیرہ۔ ان میں سے کسی پر بھی غور کرلیں تو یہ دونوں مفاسد نمایاں طور سے موجود نظر آتے ہیں مثلاً صحت کے بیمہ میں پالیسی ہولڈر مقررہ مدت میں بیمار نہ ہوا تو جمع کردہ رقم بھی واپس نہ ملےگی جبکہ ایک دو قسطوں کے بعد ہی بیمار ہوگیا تو بیمہ کمپنی طے شدہ تمام رقم ادا کرنے کی پابند ہوگی، اس صورت حال میں شرعاً بیمہ کے جواز کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی اس لئے کسی مسلمان کو یہ اجازت نہیں کہ سود اور قمار پر مشتمل یہ معاملہ کرے ۔

علماء نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے، بعض نے اس کے جواز کو ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن بر صغیر کے اکابر مفتیان نے اسے ناجائز ہی قرار دیا ہے۔ بعض مرتبہ کچھ لوگوں کے لئے قانوناً پالیسی لینا ضروری ہوتا ہے، کہیں پر حکومتیں خالص عوامی ہمدردی اور تعاون کی نیت سے ایسی اسکیمیں پیش کرتی ہیں ایسی صورت میں مقامی مستند علماء سے رجوع ہوکر رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے اور اسی میں بہتری بھی ہے۔ واللہ اعلم  وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK