امیت دتّہ نے بِٹس میسرا سے بی ٹیک کیا، سافٹ ویئر ڈیولپنگ میںمہارت حاصل کی اور اپنے ہنر سے بڑی ٹیک کمپنیوں کو متاثر کیا۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 4:33 PM IST | Mumbai
امیت دتّہ نے بِٹس میسرا سے بی ٹیک کیا، سافٹ ویئر ڈیولپنگ میںمہارت حاصل کی اور اپنے ہنر سے بڑی ٹیک کمپنیوں کو متاثر کیا۔
امیت دتّہ نے بِٹس میسرا سے بی ٹیک کیا، سافٹ ویئر ڈیولپنگ میںمہارت حاصل کی اور اپنے ہنر سے بڑی ٹیک کمپنیوں کو متاثر کیا۔کئی بار زندگی میں ’ ریجیکشن‘ ہی انسان کیلئے سب سے بڑا سبق بن جاتے ہیں۔ یہ انسان کو مزید مضبوط اور پختہ بنا دیتے ہیں۔ سافٹ ویئر انجینئر امیت دتہ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ آئی آئی ٹی کے داخلہ امتحان میں ناکامی سے لے کر گوگل میں ملازمت حاصل کرنے اور پھر لندن میں میٹا سے۱ء۷؍کروڑ روپے سالانہ پیکیج پانے تک کا ان کا سفر کسی تحریک سے کم نہیں۔ اکثر لوگ ریجیکشن کو ناکامی سمجھ لیتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ایک بار مسترد ہونے کے بعد زندگی میں آگے بڑھنا ممکن نہیں رہے گا۔ لیکن امیت دتہ کے لیے یہی ناکامی ایک نئے راستے کی شروعات ثابت ہوئی۔ آئی آئی ٹی کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنی محنت اور لگن کے ذریعے دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی گوگل میں جگہ بنائی، اور آج وہ لندن میں میٹا کے ساتھ۱ء۷؍ کروڑ روپے سالانہ پیکیج پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ صرف ڈگری نہیں بلکہ صلاحیت، محنت اور ہار نہ ماننے کا جذبہ کامیابی دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : روسی جوہری طاقت میں بڑا اضافہ، سرمت میزائل کا کامیاب تجربہ
امیت دتہ نے حال ہی میں انسٹاگرام ویڈیو کے ذریعے اپنے کریئر کا یہ سفر شیئر کیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے۲۰۱۸ء میں آئی آئی ٹی داخلہ امتحان میں ناکامی، پھر گوگل میں نوکری حاصل کرنے اور بعد میں میٹا کے آفر کے بعد لندن منتقل ہونے تک کا سفر بیان کیا۔ ان کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔آئی آئی ٹی میں ناکامی کے بعد کیا ہوا؟
امیت دتہ کے مطابق آئی آئی ٹی کا امتحان پاس نہ کر پانا ان کیلئے ذہنی طور پر بہت تکلیف دہ تھا، خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے دوستوں کو بڑے انجینئرنگ اداروں میں داخلہ ملنے کی خوشیاں مناتے دیکھتے تھے۔ لیکن انہوں نے مایوسی میں ڈوبنے کے بجائے اپنی سوچ بدل لی۔ انہوں نے یہ افسوس کرنا چھوڑ دیا کہ انہیں آئی آئی ٹی نہیں ملا، اور اس کے بجائے خود کو ایک بہترین سافٹ ویئر انجینئر بنانے پر پوری توجہ دی۔ انہوں نے سخت روٹین اپنایا اور اپنی اسکلز بہتر بنانے پر بھرپور محنت کی۔ امیت کا ماننا ہے کہ ناکامی کو قبول کرکے آگے بڑھنے کا فیصلہ ہی ان کی کامیابی کی اصل شروعات تھی۔دوسرے ریجیکشن نے مزید مضبوط بنایا۔
یہ بھی پڑھئے : کانز فلم فیسٹیول میں عالیہ بھٹ نے اپنے دلکش انداز میں سبھی کو متاثر کیا
اگلا چیلنج ۲۰۲۱ء میں سامنے آیا، جب انہوں نے مائیکروسافٹ میں انٹرن شپ کیلئے درخواست دی۔ کئی ہفتوں کی تیاری کے باوجود ان کا انتخاب نہیں ہو سکا۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’دوسرے ریجیکشن نے مجھے اندر سے توڑ دیا، لیکن اسی نے دوبارہ کھڑا ہونے کی طاقت بھی دی۔‘‘ اس ناکامی نے ان کے حوصلے اور ارادے کو مزید مضبوط کر دیا۔ ۲۰۲۲ء میں ان کی محنت رنگ لائی اور انہیں گوگل جیسی عالمی کمپنی میں فل ٹائم ملازمت کا آفر ملا۔ دنیا بھر کے انجینئرز کیلئے گوگل میں کام کرنا ایک خواب سمجھا جاتا ہے، لیکن امیت کے لیے یہ صرف شروعات تھی۔انہوں نے تجربے کے ساتھ مزید مہارت حاصل کی۔میٹا میں ملا۱ء۷؍کروڑ روپے کا پیکیج۔
امیت کی کامیابی کا اگلا باب اس وقت شروع ہوا جب میٹا نے لندن آفس کے لیے خود ان سے رابطہ کیا۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، کیونکہ انہیں انٹرویو کے چھ مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ کامیابی کے بعد وہ لندن منتقل ہوگئے، جہاں ان کا سالانہ پیکیج۱ء۷؍ کروڑ روپے ہے۔ امیت اپنی اس پوری جدوجہد کو زندگی کے ایک بڑے بدلاؤ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ایسے کالج سے نکل کر، جسے کوئی جانتا تک نہیں تھا، لندن کے عالمی دفتر تک پہنچنا۲۰۱۸ء میں ان کے لئے صرف ایک خواب تھا۔ یقیناً امیت دتہ کی یہ کہانی نوجوانوں کیلئے ایک روشن مثال ہے کہ کریئر میں آگے بڑھتے وقت کوئی ایک دروازہ بند ہوجائے تو دوسراضرور کھل جاتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آپ دُھن کے پکے ہوں اور مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کریں۔