• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا کی۱۸؍ سالہ فٹبالر رِنشا مریم کا پرتگال میں جلوہ، کرسٹیانو رونالڈو کی مداح ہیں

Updated: October 29, 2026, 7:00 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون فٹبالر رِنشا مریم نے پرتگال کے فٹبال کلب کے انڈر ۱۹؍ خواتین کے دستے میں جگہ بنا کر یورپی فٹبال میں اپنی شناخت قائم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔

Rinsha Mariyam.Photo:X
رِشا مریم۔ تصویر: ایکس

ہندوستان کی ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون فٹبالر رِنشا مریم نے پرتگال کے فٹبال کلب کے انڈر ۱۹؍ خواتین کے دستے میں جگہ بنا کر یورپی فٹبال میں اپنی شناخت قائم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔ 18 سالہ رِنشا پرتگال کے کلب Clube de Albergaria کی جانب سے کھیل رہی ہیں اور ان کا خواب ایک دن دنیا کے معروف فٹبال کلب بارسلونا کی نمائندگی کرنا ہے۔ فٹبال کے لیے ان کا جذبہ اس قدر مضبوط ہے کہ انہوں نے محض  ۱۵؍ سال کی عمر میں گھر سے دور پرتگال جانے کا فیصلہ کیا، جہاں انہیں نئی زبان، مختلف ثقافت، تعلیمی نظام اور یورپی فٹبال کے سخت مقابلوں کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا۔ 
رِنشا کا تعلق کیرالا کے قصبے تری کارپور سے ہے، جو ضلع کاسرگوڈ میں واقع ہے۔ ان کی پرورش بنگلورو میں ہوئی، جہاں انہوں نے فٹبال کی تربیت حاصل کی اور مقامی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے والد ایم پی رشید بنگلورو میں کاروبار کرتے ہیں، جبکہ والدہ مریمبی کا تعلق بھی کیرالہ سے ہے۔ رِنشا کے والد کے مطابق، صرف ۱۵؍ سال کی عمر میں بیٹی کو دوسرے ملک بھیجنا آسان فیصلہ نہیں تھا۔ ایک کم عمر کھلاڑی کے لیے خاندان اور دوستوں سے دور رہنا، نئی زبان سیکھنا، مختلف کھانے اور موسم سے مطابقت پیدا کرنا اور تعلیم کے ساتھ کھیل جاری رکھنا بڑے چیلنج تھے۔ تاہم، رِنشا نے ان مشکلات کا سامنا کیا اور پرتگال میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ فٹبال کی تربیت بھی جاری رکھی۔  
فٹبال رِنشا کا پہلا کھیل نہیں تھا۔ انہوں نے کم عمری میں مارشل آرٹس میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے والد کے مطابق، جب وہ محض نو سال کی تھیں تو نیپال میں منعقدہ ایک دعوتی تائیکوانڈو مقابلے میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے سونے کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے کراٹے میں بلیک بیلٹ بھی حاصل کی اور اسکول کے دوران مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ بعد میں فٹبال ان کا سب سے بڑا جنون بن گیا۔ رِنشا نے بنگلورو ایف سی کے لیے دو سیزن تک کھیلا اور کرناٹک کی اے ڈویژن اور سپر ڈویژن لیگ میں حصہ لیا۔ ان کی کارکردگی کے باعث انہیں کرناٹک کی جونیئر ریاستی ٹیم میں جگہ ملی۔ صرف ۱۴؍ سال کی عمر میں وہ  ہندوستان کی انڈر ۱۷؍ خواتین کی قومی ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کے تربیتی دستے میں بھی شامل ہوئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسکر کے لیے نامزد معروف اداکارہ باربرا بیری ۹۵؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

رِنشا کو پرتگال میں کھیلنے کا موقع بنگلورو میں پرتگال پرو فٹبال اکیڈمی کے انتخابی آزمائشی مقابلوں میں اچھی کارکردگی کے بعد ملا۔ وہاں سے ان کا سفر یورپی فٹبال کی جانب بڑھا اور بالآخر انہیں پرتگال کے کلب کلبے دے البرگاریا کی انڈر ۱۹؍ خواتین کی ٹیم میں جگہ مل گئی۔ وہ پرتگال کی انڈر ۱۹؍ خواتین کی فرسٹ ڈویژن لیگ میں حصہ لے رہی ہیں، جہاں ان کی ٹیم کا مقابلہ بینفیکا اور اسپورٹنگ سی پی جیسے معروف کلبوں کی نوجوان ٹیموں سے بھی ہوتا ہے۔ ۱۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو انہوں نے ایس سی ریو ٹنٹو کے خلاف لیگ میچ میں اپنے کلب کی جانب سے آغاز کیا۔ اس سطح پر کھیلنا ان کے لیے یورپی فٹبال میں قدم جمانے کا اہم مرحلہ ہے۔ 
رِنشا کے لیے پرتگال میں کھیلنے کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ ان کے پسندیدہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کا ملک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہمیشہ فٹبال سے محبت رہی ہے اور جب پرتگال میں کھیلنے کا موقع ملا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں دیر نہیں کی۔تاہم، ان کی منزل صرف پرتگال کی لیگ میں کھیلنا نہیں ہے۔ رِنشا مستقبل میں دنیا کے معروف کلب بارسلونا کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن ایف سی بارسلونا کے لیے کھیلنے کا خواب دیکھتی ہیں۔ یہ خواہش ان کے لیے مزید محنت کرنے اور اپنے کھیل کو بہتر بنانے کی ترغیب ہے۔ 
رِنشا نے بیرون ملک فٹبال کی تربیت کے ساتھ اپنی تعلیم کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ نومبر ۲۰۲۵ء میں پرتگال پرو فٹبال اکیڈمی نے انہیں تعلیمی کارکردگی پر دو اسناد ملنے پر مبارک باد دی تھی۔ یہ اسناد پرتگال کے تعلیمی ادارے کولیجیو دے کالواو میں تعلیمی سال  ۲۵۔۲۰۲۴ءکے دوران ان کے رویے، ثابت قدمی اور تعلیمی کارکردگی کے اعتراف میں دی گئی تھیں۔ ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ کھیل میں آگے بڑھنے کے لیے صرف جسمانی صلاحیت کافی نہیں، بلکہ نظم و ضبط، تعلیم اور مسلسل محنت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائیلو اوپن کے دوسرے دور میں

رِنشا کی کامیابی کے پیچھے ان کے خاندان کا تعاون بھی اہم ہے۔ ان کے بڑے بھائی محمد رِشان کرناٹک سپر ڈویژن میں ایچ اے ایل ایف سی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی چھوٹی بہن منہا مریم بنگلورو ایف سی کی جونیئر لڑکیوں کی ٹیم سے وابستہ ہیں اور کرناٹک کی ریاستی تربیتی کیمپ کے لیے بھی منتخب ہو چکی ہیں۔ سب سے چھوٹے بھائی محمد ریان بنگلورو کے اسپورٹ ہڈ ایف سی کے لیے کھیلتے ہیں۔ اس طرح فٹبال اس خاندان کے لیے محض ایک کھیل نہیں، بلکہ مشترکہ دلچسپی اور روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ والد ایم پی رشید اور والدہ مریمبی نے اپنے چاروں بچوں کو کھیل میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ رِنشا کے والد کا ماننا ہے کہ بیٹیوں کو بھی وہی مواقع اور تعاون ملنا چاہیے جو بیٹوں کو دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، جب والدین اپنی بیٹیوں پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ اس اعتماد کی قدر کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے لیے بھرپور محنت کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK