اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں،جبکہ اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے۲۷؍ اکتوبر کی ووٹنگ میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 9:04 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں،جبکہ اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے۲۷؍ اکتوبر کی ووٹنگ میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ رعام گیٹ معاملہ ایک زلزلہ ہے اور غیر ملکی اداروں پر انتخابی عمل میں مداخلت اور عرب جماعتوں کے حق میں ووٹرز کو رشوت دینے کا الزام لگایا۔ واضح رہے کہ رعام گیٹ سے مراد اسرائیل کے۲۷؍ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کے دوران عرب پارٹی رعام سے متعلق ووٹ خریدنے کے الزامات ہیں۔بعد ازاں اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے منگل کی ووٹنگ میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔ سی ای سی چیئر جسٹس نعام سولبرگ نے شین بیت کے چیف ڈیوڈ زینی سے منگل کے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کرنے کو کہا۔سولبرگ نے شین بیت کو لکھا، ’’میرے علم میں انتخابات پر غیر مناسب اثر و رسوخ کے بارے میں سنگین شبہات لائے گئے ہیں - جو اسرائیلی مفادات کے خلاف کام کرنے والے غیر ملکی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ فنڈنگ کےذریعے استعمال کیا گیا۔سولبرگ نے شین بیت سے ایک ہفتے کے اندر تحقیقات کے نتائج پیش کرنے کو کہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر انتخابی بد عنوانی کا الزام عائد کیا
انتخابات میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کے بعد نیتن یاہو نے صیہونی جماعتوں سے عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی تعلق کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔نیتن یاہو نےایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’رعام گیٹ معاملہ ایک زلزلہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل میں انتخابات چرائے ہیں! جج سولبرگ کے غیر ملکی اداروں کے ملوث ہونے کے بارے میں بیانات جنہوں نے مداخلت کی اور عرب جماعتوں کے حق میں ووٹرز کو رشوت دی، ایک بے مثال جھٹکا ہے۔ یہ جمہوریت پر حملہ ہے جس کا مقصد کنیسٹ پر غیر ملکی قبضہ، اسرائیل کو اسلامائز کرنا، اور دائیں بازو کی حکمرانی کا تختہ الٹنا ہے تاکہ تمام میدانوں میں اور بنیادی طور پر ایران میں اسرائیلی فوج کی پسپائی اور شکست کا باعث بنے۔‘‘
کوئی صہیونی پارٹی رعام اور جوائنٹ لسٹ کے ساتھ تعاون نہ کرے
نیتن یاہو نے مزید کہا، ’’اس کے بعد جب یہ انکشاف ہوا کہ غیر ملکی اداروں نے کنیسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، یہ واضح ہے کہ کسی بھی صیہونی پارٹی کو رعام اور جوائنٹ لسٹ کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے، نقد رقم کے عوض خریدے گئے ووٹوں کے ذریعے کنیسٹ اسپیکر کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے، اور ایسی حکومت نہیں بنانی چاہیے جو اسرائیل کے لیے خطرناک ہو۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شین بیت اور پولیس کو دستیاب تمام ذرائع سے ان جرائم کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر کارروائی کی جائے۔علاوہ ازیں اسرائیل کے موجودہ وزیر خزانہ اور مذہبی صہیونیت پارٹی کے چیئرمین بیزالیل اسموتریچ نے عرب جماعتوں کے سربراہان سے پوچھ گچھ کا مطالبہ کیا۔ا سموٹریچ نے کہا، ’’غیر ملکی اسلام پسند پیسے سے انتخابات میں مداخلت کا شبہ ریاست اسرائیل کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ ہے۔ عرب جماعتوں کے سربراہان سے آج ہی شین بیت کو پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ ریاست اسرائیل کو دہشت گردوں کے پیسے سے بنیاد پرست اسلام کے ہاتھو ں کو نہیں بیچا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اوباما نے ٹرمپ کی ایران جنگ کو امریکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا
مزید برآں قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بین گویر نے عرب پارٹی لیڈروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور قطر سے رقم کے ملوث ہونے کا الزام لگایا۔اس نے کہا، ’’شین بیت کو آج صبح ہی، قطری رقم میں ملوث ہونے کے شبہ میں عرب جماعتوں کے سربراہان کی گرفتاری کا حکم دینا چاہیے، اور اس معاملے میں دیگر تمام مشتبہ افراد کی بھی، بشمول مسلم برادرہڈ اور اس کی شاخوں کے افراد، جہاں تک ان کی گرفتاری کی قانونی بنیاد ہے۔‘‘
تاہم اپوزیشن بلاک کے لیڈر گاڈی آئزن کوٹ نے تحقیقات کو نئی کنیسٹ کے افتتاح میں تاخیر کے لیے استعمال کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ذہن نشین رہے کہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت والے بلاک کے پاس اپنے طور پر حکومت بنانے کے لیے درکار ووٹ نہیں ہیں، لیکن اگر وہ دو عرب جماعتوں کے ساتھ شراکت کرتا ہے، یا ان کی حمایت سے اقلیتی حکومت بناتا ہے تو وہ مطلوبہ۶۱؍ نشستوں سے اوپر ہوگا۔
ووٹرز کو رشوت دینے کے الزام میں چار گرفتار
پولیس کا کہنا ہے کہ آج صبح چار افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان سے لاہاو۴۳۳؍ میجر کرائم یونٹ ووٹرز کو رشوت دینے کی مبینہ اسکیم میں ملوث ہونے کے شبہ میں پوچھ گچھ کر رہا ہے۔پولیس کے مطابق، یہ اسکیم وہی ہے جس کی وجہ سے پولیس نے منگل کو، انتخابات کے دن، علی الصبح تین جنوبی بدو افراد کو رعام کے لیے ووٹ دینے کے لیے لوگوں کو پیسے دینے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔جبکہ رعام نے ان افراد کی شناخت پارٹی کارکنوں کے طور پر کی ہے اور الزامات کی تردید کی ہے۔جبکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس واقعے کا تعلق غیر ملکی ادارے کی جانب سے مبینہ انتخابی مداخلت کی شین بیت تحقیقات سے ہے۔