• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: تشدد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے خواہشمندوں کیلئے سرکاری ملازمت نہیں

Updated: October 29, 2026, 9:57 PM IST | Lukhnow

اترپردیش کے پرنسپل سکریٹری نےنئی ہدایات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے ’ریجیم چینج‘ (حکومت کی تبدیلی) چاہنے والوں کو یوپی میں سرکاری نوکری نہیں ملے گی، یہ ریاستی حکومت کے محکموں، کارپوریشن، کونسل اور مقامی اداروں میں براہ راست بھرتی پر عائدہوں گی۔

Uttar Pradesh Chief Minister Yogi Adityanath. Photo: INN
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش حکومت نے سرکاری نوکریوں کے لیے منتخب امیدواروں کے کردار کی تصدیق کے قوانین سخت کر دیے ہیں، جس کے تحت موجودہ سیاسی نظام کو پرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے بدلنےمیں ملوث افراد کو تقرری کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔یہ اقدام حالیہ احتجاج کے دوران ’’ریجیم چینج‘‘ کے نعروں کے درمیان سامنے آیا ہے اور اس پر اپوزیشن سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے تنقید کی ہے۔یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان کے پس منظر میں آیا ہے، جس میں انہوں نے نامعلوم گروہوں کی جانب سے ملک کو غیر مستحکم کرنے اور بنگلہ دیش جیسی سیاسی اتھل پتھل پیدا کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا تھا، جہاں اگست۲۰۲۴ء میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت گر گئی تھی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ جمہوریت میں سیاسی طاقت عوام کی رائے سے حاصل کی جانی چاہیے، نہ کہ افراتفری سے۔

یہ بھی پڑھئے: دو پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور ان کے بیٹے کی سزا معطل، ضمانت منظور

نظرثانی شدہ گائیڈ لائنز کے تحت، کسی ایسی تنظیم کی رکنیت جو پرتشدد ذرائع سے موجودہ نظام کو بدلنے کی وکالت کرتی ہو، نااہلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔امیدوار کے۲۱؍ سال کا ہونے کے بعد، کردار کی تصدیق سے پہلے کے تین سالوں کے اندر ایسی سرگرمیوں میں شرکت کو مسلسل ملوث ہونے کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر امیدوار کے طرز عمل میں تبدیلی کا ٹھوس ثبوت موجود ہو تو اس مفروضے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔بعد ازاں ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ صرف سیاسی نظریہ کی بنیاد پر کسی کو سرکاری نوکری سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی صرف ایف آئی آر کا اندراج یا زیر التوا تفتیش خود بخود امیدوار کو نااہل کرے گی۔
تاہم نظرثانی شدہ قوانین ان امیدواروں کو بھی مستقل طور پر نااہل قرار دیتے ہیں جو سنگین جرائم میں ملوث ہوں، جن میں قتل، ڈکیتی، عصمت دری، بے حیائی، بدعنوانی، دہشت گردی کی کارروائیاں، بھرتی کے امتحانات کے پرچے لیک کرنا اور منظم گروہی جرائم کے ریکیٹ شامل ہیں۔
صرف ایف آئی آر امیدواروں کو نااہل نہیں کرے گی
نظرثانی شدہ قوانین میں کہا گیا ہے کہ امیدواروں کو صرف اس لیے سرکاری ملازمت سے خود بخود نہیں روکا جائے گا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے یا تفتیش زیر التوا ہے۔ بری ہونے، سمجھوتے کے ذریعے طے پانے والے مقدمات اور جوینائل جسٹس قانون کے تحت آنے والے معاملات بھی گائیڈ لائنز کے تحت خود بخود نااہلی کا سبب نہیں بنیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مہاوکاس اگھاڑی نے مہایوتی کو دَم دکھاکر بے دَم کردیا

زیر التوا کردار کی تصدیق رپورٹ کی وجہ سے تقرری نامہ ضروری نہیں کہ روکا جائے
حکام امیدوار کے خود اعلامیہ اور مقررہ دستاویزات حاصل کرنے کے بعد عارضی تقرری جاری کر سکتے ہیں۔ تاہم، اگر تصدیق سے ثابت ہو جائے کہ امیدوار نااہل ہے یا اس نے غلط معلومات جمع کرائی ہیں، تو تقرری منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ساتھ ہی گائیڈ لائنز میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ضلع پولیس اور لوکل انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) کو۳۰؍ دن کے اندر تصدیقی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔تاخیر کی نگرانی محکمہ داخلہ کرے گا۔ پولیس اور ایل آئی یو اہلکاروں کے لیے امیدوار کی رہائش گاہ پر جانا ضروری نہیں ہوگا، اور نہ ہی امیدوار کی ذاتی طور پر موجودگی لازمی ہوگی۔اگر رپورٹ منفی آتی ہے تو ضلع مجسٹریٹ کو سفارش آگے بھیجنے سے پہلے امیدوار کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا ہوگا، چاہے وہ آن لائن ہو یا ذاتی طور پر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK