ابھےدیول ایک پنجابی جٹ خاندان میں اجیت سنگھ دیول اور اوشا دیول کےہاں ۱۵؍مارچ۱۹۷۶ء کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ اداکار دھرمیندرکےبھتیجے اور سنی دیول، بوبی دیول، ایشا دیول اور آہانا دیول کےکزن ہیں۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 9:50 AM IST | Mumbai
ابھےدیول ایک پنجابی جٹ خاندان میں اجیت سنگھ دیول اور اوشا دیول کےہاں ۱۵؍مارچ۱۹۷۶ء کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ اداکار دھرمیندرکےبھتیجے اور سنی دیول، بوبی دیول، ایشا دیول اور آہانا دیول کےکزن ہیں۔
اداکار دھرمیندر کے خاندان کے افراد نے یوں تو کئی سپر ہٹ فلمیں دی ہیں۔ ان کے خاندان کےایک اور اداکار ابھے دیول بھی کئی اچھی فلمیں دے چکے ہیں۔ میڈیانےابھےدیول کو ایک ایسے اداکار کے طورپرپیش کیا ہےجو پیچیدہ کرداروں کو نبھانے کے طریقے کو سمجھتا ہے۔ وہ مینز ورلڈ اور ٹائم آؤٹ ممبئی سمیت کئی میگزین کے سرورق پر نمودارہو چکےہیں، جن میں ’انڈین سنیما کا نیا چہرہ‘جیسے عنوانات دیے گئےہیں۔ ۲۰۰۹ءمیں، دیول کو ’زوم کی ۵۰؍انتہائی مشہور شخصیات‘ کی فہرست میں شامل کیا گیاجس میں وہ ساتویں نمبر پر تھے۔ دیول نےاسرائیلی مارشل آرٹ کراو ماگا سیکھا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر حقوق نسواں کےلئے آواز بلند کی اور ہندوستان میں اقلیتوں اور مہاجرین کے حقوق کے بارے میں بھی آواز اٹھائی ہے۔
ابھےدیول ایک پنجابی جٹ خاندان میں اجیت سنگھ دیول اور اوشا دیول کےہاں ۱۵؍مارچ۱۹۷۶ء کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ اداکار دھرمیندرکےبھتیجے اور سنی دیول، بوبی دیول، ایشا دیول اور آہانا دیول کےکزن ہیں۔ ابھے دیول نےایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اداکاری میں اپنےوالد کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ وہ اسکول کے وقت سے ہی تھیٹرسے وابستہ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ’’۱۸؍سال کی عمر میں، میں نےفیصلہ کرلیا تھا۔ اس میں مجھے ۱۰؍سال لگے کیونکہ میں فلموں میں آنے کے لیے اپنی تعلیم نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: پریہ درشن نے عرفان خان اور شاہ رخ خان کی ’’بلو‘‘ ناکام ہونے کی وجہ بتائی
ابھے دیول نے۲۰۰۵ءمیں امتیاز علی کی رومانوی کامیڈی ’سوچا نہ تھا‘سےاداکاری کے سفر کا آغازکیا۔ اپنی پہلی فلم کی کامیابی کےبعد، دیول کو منورما سکس فٹ انڈر(۲۰۰۷ء)اور اوئے لکی، لکی اوئے(۲۰۰۸ء)جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کے لیے سراہا گیا۔ ان کا اہم کردار۲۰۰۹ءمیں انوراگ کشیپ کی بلیک کامیڈی ’دیو ڈی‘ میں دیو کے مرکزی کردار کے ساتھ آیا۔ دیوڈی، دیوداس کی جدید دور کی موافقت فلم کی کامیابی کے بعد، دیول کو وسیع پیمانےپرپہچان ملی۔ بنیادی طور پر اپنے کریئر کے آغاز میں آزاد فلموں میں نظر آنے کے بعد، انہوں نےزویا اخترکی زندگی نہ ملے گی دوبارہ میں کام کیا، جو ایک روڈ ٹرپ فلم تھی جو بالی ووڈ میں ان کی سب سےزیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں سے ایک بن گئی۔ ان کی اداکاری کو خوب پزیرائی ملی اور اس سے انھیں بہترین معاون اداکارکےفلم فیئر ایوارڈ کیلئےپہلی نامزدگی ملی۔
اس کے بعد دیول دیگر کئی فلموں میں نظر آئے جن میں ڈراما روڈ، مووی(۲۰۱۰ء)اور جنگی فلم چکرویو(۲۰۱۲ء)شامل ہیں۔ اس کےساتھ ہی انہوں رومانوی ڈرامارانجھنا(۲۰۱۳ء)اوررومانٹک کامیڈی فلم’ہیپی بھاگ جائے گی ‘ (۲۰۱۶ء) سمیت تجارتی لحاظ سے کامیاب فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ انھوں نے تمل زبان کی فلم ہیرو سےاپنی شروعات کی۔ دیول کو اسکرین پر پیچیدہ کرداروں کی تصویر کشی کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ ہندوستان میں متوازی سنیما کی حمایت میں آواز بلندکرتےہیں۔ دیول ایک پروڈکشن کمپنی، فاربیڈن فلمزکےمالک ہیں جو انھوں نے۲۰۰۹ء میں قائم کی تھی۔ اپنےاداکاری کے علاوہ، وہ ایک فعال مخیر شخص بھی ہیں اور مختلف این جی اوز کو سپورٹ کرتے ہیں۔