Updated: April 30, 2026, 9:03 PM IST
| Christchurch
نیوزی لینڈ کے اپیل کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے کرائسٹ چرچ مسجد حملوں کے مجرم Brenton Tarrant کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اس کے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ جیل کے حالات نے اسے مجرمانہ اعتراف پر مجبور کیا تھا۔ فیصلے کے بعد ٹیرنٹ کی بغیر پیرول عمر قید کی سزا برقرار رہے گی، جس سے متاثرہ خاندانوں کو ایک بار پھر قانونی استحکام ملا ہے۔
مجرم برینٹن ٹیرنٹ۔ تصویر: ایکس
نیوزی لینڈ کے اپیل کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے دہشت گرد حملے کے مرکزی مجرم برینٹن ٹیرنٹ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں آیا ہے جسے جدید تاریخ کے سنگین ترین نسلی و مذہبی حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تین ججوں پر مشتمل بینچ نے ٹیرنٹ کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ جیل کے سخت حالات نے اسے جرم قبول کرنے پر مجبور کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ’’وہ کسی ذہنی خرابی یا ایسی معذوری کا شکار نہیں تھا جو اسے رضاکارانہ طور پر جرم قبول کرنے سے روکتی۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’اس نے اپنی ذہنی حالت کے بارے میں عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی… جبکہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اس نے مکمل شعور کے ساتھ جرم قبول کیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب
یہ بھی سامنے آیا کہ اپیل مقررہ قانونی مدت کے ۵۰۵؍ دن بعد دائر کی گئی، جسے عدالت نے غیر معمولی تاخیر قرار دیا۔ یاد رہے کہ مارچ ۲۰۱۹ء میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد، النور مسجد اور لنووڈ اسلامک سینٹر، میں جمعہ کی نماز کے دوران فائرنگ کی گئی تھی۔ اس حملے میں ۵۱؍ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حملہ آور نے نیم خودکار ہتھیار استعمال کیے اور واقعے کو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم بھی کیا، جس نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
برینٹن نے مارچ ۲۰۲۰ء میں دہشت گردی، قتل اور قتل کی کوشش کے تمام الزامات قبول کیے تھے۔ اس اقدام کو متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک بڑی راحت سمجھا گیا کیونکہ اس سے ایک طویل اور تکلیف دہ مقدمے سے بچا جا سکا۔ اگست ۲۰۲۰ ءمیں عدالت نے اسے بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا سنائی، جو نیوزی لینڈ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی سزا تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ، اسرائیل کو سخت انتباہ: معاوضہ نہ ملا تو ’’باہمی کارروائی‘‘ ممکن
تازہ اطلاعات کے مطابق ٹیرنٹ نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ذہنی دباؤ اور جیل کے حالات کی وجہ سے درست فیصلہ نہیں کر سکا تھا۔ تاہم عدالت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جیل عملے، وکلاء اور ماہرینِ نفسیات نے اس کی تائید نہیں کی، اس کے خلاف شواہد ’’انتہائی مضبوط‘‘ تھے اور اس نے منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حملے سے پہلے اس نے ایک دستاویز شائع کی تھی جس میں اپنے نسل پرستانہ نظریات بیان کیے تھے، جو اس کے ارادے کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ سماعت کے دوران ٹیرنٹ نے اپیل واپس لینے کی کوشش کی، تاہم عدالت نے اسے بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ معاملہ اہم عوامی مفاد کا ہے اور اس کا مکمل فیصلہ ہونا ضروری ہے۔‘‘ فیصلے کے بعد برینٹن نیوزی لینڈ کی آکلینڈ جیل میں اپنی عمر قید کی سزا جاری رکھے گا، جس میں پیرول کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف قانونی طور پر کیس کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف نیوزی لینڈ کے سخت مؤقف کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پوتن اور ٹرمپ کی ۹۰ منٹ طویل بات چیت؛ ایران جنگ بندی، یوکرین میں صلح اور سلامتی خدشات پر گفتگو
یہ کیس عالمی سطح پر انتہا پسندی، آن لائن نفرت انگیز مواد اور مذہبی مقامات کی سیکوریٹی سے متعلق مباحثے میں ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔ عدالتی فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں قانونی نظام کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، چاہے اپیل میں کسی بھی بنیاد کو پیش کیا جائے۔