Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کو جان کی دھمکی کا الزام،ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹرجیمزکومی کی خود سپردگی

Updated: April 30, 2026, 10:01 PM IST | Washington

ٹرمپ کوانسٹاگرام پوسٹ میںجان کی دھمکی دینے کے الزام میں ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے خودسپردگی کردی،تاہم کومی نے قصوروار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تشدد کے کسی مفہوم کا علم نہیں تھا ستھ ہی انہوں نے اس مقدمے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا۔

Former FBI Director James Comey. Photo: X
سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی۔ تصویر: ایکس

سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی نے بدھ ۲۹؍ اپریل کو حکام کے سامنے خود سپردگی کردی۔ ان پر سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جان کو خطرہ بنانے کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ انسٹاگرام کی ایک تصویر پر مبنی ہے جس میں سمندری گھونگوں کے خولوں کو  ’’۷۴    ۸۶   ‘‘کی شکل میں ترتیب دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ’’ ۸۶؍‘‘ کا مطلب ’’چھٹکارا حاصل کرنا‘‘ ہے اور۴۷؍‘‘ کا اشارہ امریکہ کے ۴۷؍ ویں صدر ٹرمپ کی طرف ہے۔ بعد ازاں کومی نے قصوروار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تشدد کے کسی مفہوم کا علم نہیں تھا  ساتھ ہی انہوں نے اس مقدمے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا۔

سابق ایف بی آئی ڈائرکٹر کے ذریعے انسٹا گرام پر پوسٹ کی گئی تصویر۔ تصویر: ایکس

واضح رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب محکمہ انصاف نے ٹرمپ کے سخت ناقد کومی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ کومی کی عدالت میں پیشی کے دوران جج نے استغاثہ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ضمانت کی کوئی شرط عائد نہیں کی۔جبکہ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ۱۰؍ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سیاسی تعصب کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو دھمکی دینا سنگین جرم ہے۔اس تعلق سے انہوں نے ٹرمپ کی دعوت کے دوان حملے کی بھی مثال دی، جب ایک بندوق بردار شخص نے اس ہال میں گولی باری کی ، جہاں ٹرمپ صحافیوں کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ تاہم بعض قانون سازوں اور ماہرین نے اس مقدمے کو کمزور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر صرف تصویر کی بنیاد پر مقدمہ چلایا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK