اداکارہ مدھوبالا نے اپنی دلکش اداؤں سے پردۂ سیمیں کو سجایا

Updated: February 14, 2020, 4:01 PM IST | Agency | Mumbai

مدھوبالا کو بالی ووڈ میں ایک ایسی اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً ۴؍ عشرے تک اپنی دلکش اداؤں اور بااثر اداکاری سے فلمی مداحوں کا دل جیتا۔ مدھوبالا(اصل نام ممتاز بیگم دہلوی) کی پیدائش دہلی میں ۱۴؍ فروری ۱۹۳۳ء کو ہوئی تھی۔

 اداکارہ مدھوبالا نے اپنی دلکش اداؤں سے پردۂ سیمیں کو سجایا
اداکارہ مدھو بالا ۔ تصویر : آئی این این

مدھوبالا کو بالی ووڈ میں ایک ایسی اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً ۴؍ عشرے تک اپنی دلکش اداؤں اور بااثر اداکاری سے فلمی مداحوں کا دل جیتا۔ مدھوبالا(اصل نام ممتاز بیگم دہلوی) کی پیدائش دہلی میں ۱۴؍ فروری ۱۹۳۳ء کو ہوئی تھی۔ ان کے والد عطاء اللہ خان رکشا چلایا کرتے تھے۔ تبھی ان کی ملاقات ایک نجومی، کشمیر والے بابا سے ہوئی جنہوں نے پیشین گوئی کی کہ مدھوبالا بڑی ہو کر بہت شہرت حاصل کرے گی۔ اس کی پیشین گوئی پر عطاء اللہ خان نے سنجیدگی اختیار کی اور وہ مدھوبالا کو لے کر ممبئی آ گئے۔ ۱۹۴۲ء میں مدھوبالا کو بطور چائلڈ آرٹسٹ ’بے بی ممتاز‘ کے نام سے فلم ’ بسنت‘ میں اداکاری دکھانے کا موقع ملا۔ بے بی ممتاز کی خوبصورتی سے اداکارہ دیویکا رانی کافی متاثر ہوئیں اور انہوں نے ان کا نام ’مدھوبالا‘ رکھ دیا۔ انہوں نے مدھوبالا سے ’بامبے ٹاکیز‘ کی فلم’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی کر دی لیکن مدھوبالا اس فلم میں کسی وجہ سے کام نہیں کر سکیں۔ ’جواربھاٹا‘ بالی ووڈ کی اہم فلموں میں سے ایک ہے۔ اسی فلم سے اداکار دليپ كمار نے اپنے فلمی کریئر کی شروعات کی تھی۔
  مدھوبالا کی ہیروئن کی حیثیت سے پہلی فلم ہدایتکار کیدار شرما کی ۱۹۴۷ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’نيل كمل‘ تھی۔ اس فلم میں ان کے ہیرو تھے راج كپور۔ ’ نیل کمل‘ بطور ہیرو راج کپور کی بھی پہلی فلم تھی۔ حالانکہ ’نيل كمل‘ کامیاب نہیں رہی لیکن اس سے مدھوبالا نے بطور اداکارہ اپنے فلمی کریئر کا آغاز کر دیا۔ ۱۹۴۹ء میں ’بامبے ٹاکیز‘ کے بینر تلے بنائی گئی اشوک کمار کی اداکاری سے سجی فلم ’محل مدھوبالا‘ کے فلمی کریئر میں اہم فلم ثابت ہوئی۔ راز اور رومانس سے بھرپور یہ فلم سپرہٹ رہی اور اسی کے ساتھ بالی ووڈ میں ’ہارَر اور سسپنس‘ فلموں کا سلسلہ شروع ہوا۔ فلم کی زبردست کامیابی نے مدھوبالا کے ساتھ ہدایتکار کمال امروہی اور گلوکارہ لتا منگیشکر کو بھی فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جمانے کا موقع دیا۔ 
 ۱۹۵۰ء تا  ۱۹۵۷ء کا وقت مدھوبالا کے فلمی کریئر کیلئے مایوس کن ثابت ہوا۔ اس دوران ان کی کئی فلمیں ناکام رہی لیکن ۱۹۵۸ء میں ’پھاگن‘، ’هاؤڑہ بریج‘، ’كالاپاني‘ اور ’چلتی کا نام گاڑی‘ جیسی فلموں کی کامیابی کے بعد مدھوبالا ایک بار پھر شہرت کی بلنديوں تک جا پہنچیں۔ 
 ’ہاؤڑہ بریج‘ میں مدھوبالا نے کلب ڈانسر کے عین مطابق کردار ادا کرکے ناظرین کا دل جیت ليا۔ اسی كے ساتھ ۱۹۵۸ء میں فلم `’چلتی کا نام گاڑی‘ میں انہوں نے اپنی اداکاری سے ناظرین کو هنساتے هنساتے لوٹ پوٹ کر دیا۔
 مدھوبالا کے فلمی کریئر میں ان کی جوڑی اداکار دلیپ کمار کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ فلم ’ترانہ‘ میں مدھوبالا دلیپ کمار سے محبت کرنے لگیں۔ انہوں نے اپنےڈریس ڈیزائنر کو گلاب کا پھول اور ایک خط دے کر دلیپ کمار کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اگر وہ بھی ان سے محبت کرتے ہیں تو اسے اپنے پاس رکھ لیں۔ دلیپ کمار نے پھول اور خط دونوں بخوشی قبول کر لئے۔ بی آر چوپڑہ کی فلم ’نیا دور‘ میں دلیپ کمار کے مقابل پہلے مدھوبالا کو منتخب کیا گیا تھا اور اس فلم کی شوٹنگ ممبئی میں کی جانی تھی لیکن بعد میں فلم کے ہدایتکار کو محسوس ہوا کہ اس کی شوٹنگ بھوپال میں بھی ضروری ہے۔ مدھوبالا کے والد عطاء اللہ خان نے بیٹی کو ممبئی سے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، ان کا خیال تھا کہ ممبئی سے باہر جانے پر مدھوبالا اور دلیپ کمار کے درمیان محبت پروان چڑھے گی جس کیلئے وہ راضی نہیں تھے۔بعد میں بی آر چوپڑہ کوان کی جگہ وجینتی مالا کو لینا پڑا۔ اس معاملے کو عطاء اللہ خان عدالت میں لے گئے اور اس کے بعد انہوں نے مدھوبالا کو دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا۔ یہیں سے دلیپ کمار اور مدھوبالا کی جوڑی ٹوٹ گئی۔
 ۵۰ء کے عشرے میں طبی معائنہ کے دوران مدھوبالا کی بیماری کا انکشاف ہوا۔ اس دوران ان کی کئی فلمیں فلور پر تھیں، انہیں محسوس ہوا کہ اگر ان کی بیماری کے بارے میں فلم انڈسٹری کو پتہ چلے گا تو اس سے فلمساز کو نقصان ہوگا۔اس لئے انہوں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔
 انہی دنوں مدھوبالا کے آصف کی فلم ’مغلِ اعظم‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھیں اور ان کی طبیعت بھی کافی خراب رہا کرتی تھی، اپنی شائستگی اور نزاکت کو قائم رکھنے کیلئے وہ گھر میں اُبلے پانی کے سوائے کچھ نہیں پیتی تھیں لیکن فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں جیسلمیر کے ریگستان میں کنویں اور تالاب کا گندا پانی تک پینا پڑا، یہی نہیں ان کے جسم پر اصلی لوہے کی زنجیر بھی لادی گئی لیکن انهوں نے اُف تک نہیں کی اور فلم کی شوٹنگ جاری رکھی۔ مدھوبالا کا خیال تھا کہ اناركلي کا کردار نبھانے کا موقع بار بار نہیں ملتا۔
 ۱۹۶۰ء میں جب ’مغلِ اعظم‘ ریلیز ہوئی تو فلم میں مدھوبالا کی اداکاری سے ناظرین مسحور ہو گئے۔
 ۶۰ء کے عشرے میں مدھوبالا نے فلموں میں کام کرنا کافی کم کر دیا تھا۔ ’چلتی کا نام گاڑی‘ اور ’جھمرو‘ `کی شوٹنگ کے دوران کشور کمار اور مدھوبالا کافی قریب آ گئے تھے۔ ان کے والد نے کشور کمار کو آگاہ کیا کہ مدھوبالا علاج کیلئے لندن جا رہی ہیں اور وہاں سے واپس آنے کے بعد ہی ان سے شادی ہو پائے گی لیکن مدھوبالا کو احساس ہوا کہ شاید لندن میں آپریشن ہونے کے بعد وہ زندہ نہ رہ پائیں اور یہ بات انہوں نے کشور کمار کو بتائی۔ اس کے بعد مدھوبالا کی خواہش کے مطابق کشور کمار نے مدھوبالا سے شادی کر لی۔ شادی کے بعد مدھوبالا کی طبیعت اور زیادہ خراب رہنے لگی۔اسی درمیان ان کی `’پاسپورٹ‘، ’جھمرو‘، ’بوائے فرینڈ‘، ’ہاف ٹکٹ‘ اور ’شرابی‘ جیسی چند فلمیں جلوہ گر ہوئیں۔ ۱۹۶۴ء میں ایک بار پھر مدھوبالا نے فلم انڈسٹری کی جانب رُخ کیا لیکن فلم ’چالاک‘ کے پہلے ہی دن کی شوٹنگ میں مدھوبالا بیہوش ہو گئیں اور بعد میں یہ فلم بند کر دینی پڑی۔ اپنی دلکش اداؤں سےسامعین کے دلوں میں خاص پہچان بنانے والی مدھوبالا ۲۳؍ فروری ۱۹۶۹ء کو اس دُنیا کو الوداع کہہ گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK