Inquilab Logo Happiest Places to Work

عدنان سمیع نے بالی ووڈ کے ری مکس کلچر کی حقیقت بے نقاب کی

Updated: August 31, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai

معروف گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع نے بالی ووڈ میں پرانے مقبول گانوں کے ری مکس اور ری کری ایٹڈ ورژنز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے لیے صرف موسیقاروں یا سامعین کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، بلکہ میوزک لیبلز اور کارپوریٹس کے خطرہ مول نہ لینے کے رویے کو بھی دیکھنا چاہیے۔

Adnan Sami.Photo:INN
عدنان سمیع۔ تصویر:آئی این این

معروف گلوکار اور موسیقار  عدنان سمیع نے بالی ووڈ میں پرانے مقبول گانوں کے ری مکس اور ری کری ایٹڈ ورژنز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے لیے صرف موسیقاروں یا سامعین کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، بلکہ  میوزک لیبلز اور کارپوریٹس کے خطرہ مول نہ لینے کے رویے  کو بھی دیکھنا چاہیے۔ عدنان سمیع نے ’’گیم چینجرز‘‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے میوزک انڈسٹری میں تقریباً ۸۰؍ فیصد اصل گانے اور ۲۰؍ فیصد ری مکس  ہوا کرتے تھے، لیکن اب صورتحال اس کے بالکل برعکس ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں تقریباً ۲۰؍ فیصد اصل گانے اور۸۰؍ فیصد ری مکس  دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سمیع  نے کہا کہ انہیں پرانے گانوں کو نئے انداز میں پیش کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ری مکس اصل موسیقی کی جگہ لے لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بننے کے قریب

عدنان سمیع  نے اس رجحان کی بنیادی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ  کارپوریٹس نئے تجربات کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق یہی صورتحال صرف موسیقی تک محدود نہیں بلکہ فلموں میں بھی نظر آتی ہے، جہاں ریمیک، سیکوئل، پری کوئل اور اسپن آف کو زیادہ محفوظ کاروباری راستہ سمجھا جاتا ہے۔  انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی کامیاب کردار یا فرنچائز کو پہلے ہی کئی بار استعمال کیا جاچکا ہو تو بھی صنعت اسی محفوظ راستے پر چلتی رہتی ہے۔ انہوں نے’’بیٹ مین‘‘، ’’جوکر‘‘، ’’اسٹار وارس‘‘ اور ’’دی گاڈفادر‘‘   جیسی فرنچائزز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیکوئل ضرور بنتے تھے، لیکن یہ ہر فلم کے لیے معمول نہیں تھا۔ 
  میوزک لیبلز اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ری مکس اس لیے بنائے جاتے ہیں کیونکہ عوام انہیں پسند کرتی ہے۔ عدنان سمیع نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے ایک دلچسپ مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھوکے شخص کو صرف  سادہ خشک چاول  دیے جائیں تو وہ انہیں ہی کھائے گا۔ اگر اس سے پوچھا جائے کہ وہ خشک چاول کیوں کھا رہا ہے تو جواب ملے گا کہ ’’وہ یہی چاہتا ہے، دیکھو کتنے شوق سے کھا رہا ہے۔‘‘ سمیع کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ اسے  کھچڑی یا بریانی پیش ہی نہیں کی گئی ، اس لیے وہ دستیاب کھانا کھانے پر مجبور ہے۔ اسی طرح اگر میوزک انڈسٹری نیا اور اصل میوزک فراہم نہیں کرے گی تو سامعین دستیاب ری مکس ہی سنیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سابق ہندوستانی تیز گیند باز جواگل سری ناتھ نے بنگلورو میٹرو میں سفر کیا

بالی ووڈ کے معروف گلوکار عدنان سمیع نے خاص طور پر میوزک ڈائریکٹرز کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ری مکس بنانے کا الزام موسیقاروں پر ڈال دیا جاتا ہے، حالانکہ کئی مرتبہ انہیں کمپنیوں کی جانب سے ایسا کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی موسیقار بچپن میں یہ خواب نہیں دیکھتا کہ بڑا ہوکر پرانے گانوں کے ری مکس بنائے گا۔ سمیع  نے زور دیا کہ  موسیقاروں کے بجائے ان لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے جو انہیں زبردستی ریمکس بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔  عدنان سمیع نے اس رجحان کے ایک اور پہلو پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ہر نسل کے پاس ایسے گانے ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنی شناخت اور یادوں سے جوڑتی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ان کے والد اپنے دور کے گانے کو اپنا گانا سمجھتے تھے، جبکہ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں بڑے ہونے والے لوگ  ’’عاشقی‘‘ جیسے میوزک سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج کی نسل کے پاس ایسا کون سا نیا گانا ہے جسے وہ مستقبل میں ’’اپنے دور کا گانا‘‘ کہہ سکے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK