اکشے ونود کھنہ۲۸؍مارچ ۱۹۷۵ءکوممبئی میں اداکار اور سیاست دان وِنود کھنہ اور ان کی پہلی بیوی گیتانجلی تلیارکھان کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد پنجابی ہندو خاندان سے تھے اور ہندی سینما کے مشہور اداکار تھے۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 10:18 AM IST | Mumbai
اکشے ونود کھنہ۲۸؍مارچ ۱۹۷۵ءکوممبئی میں اداکار اور سیاست دان وِنود کھنہ اور ان کی پہلی بیوی گیتانجلی تلیارکھان کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد پنجابی ہندو خاندان سے تھے اور ہندی سینما کے مشہور اداکار تھے۔
اکشے کھنہ ہندوستانی سینما کے ان چند خوش نصیب اداکاروں میں سے ہیں جن کے بارے میں ناقدین بلا جھجھک یہ کہتے ہیں کہ وہ ہندی سینما کے بہترین اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے بالی ووڈ کے ایک ایسے ذمہ دار فنکار کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی جو غیر روایتی کہانیوں، پیچیدہ کرداروں اور طاقتور معاون کردار کا انتخاب کرتا ہے اور یہ کردار اکثر مرکزی کرداروں پر بھی بھاری پڑ جاتے ہیں۔
اکشے ونود کھنہ۲۸؍مارچ ۱۹۷۵ءکوممبئی میں اداکار اور سیاست دان وِنود کھنہ اور ان کی پہلی بیوی گیتانجلی تلیارکھان کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد پنجابی ہندو خاندان سے تھے اور ہندی سینما کے مشہور اداکار تھے جن کا ۲۰۱۷ءمیں انتقال ہوا، جبکہ والدہ ایک پارسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جو وکلاء اور تاجروں کا خاندان تھا، اور ان کا ۲۰۱۸ءمیں انتقال ہوا۔ اکشے کے بڑے بھائی راہل کھنہ بھی ہندی سینماکے اداکار ہیں۔ اکشے نے ممبئی کے بابل ناتھ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اوراوٹی کے لارنس اسکول سے بارہویں جماعت پاس کی۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے خود کہا کہ وہ تعلیم کے مقابلےکھیلوں میں بہتر تھے۔ بعد میں انہوں نے ممبئی کے کشور نمیت کپور ایکٹنگ انسٹیٹیوٹ میں اداکاری کی تربیت حاصل کی۔
۱۹۹۷ءمیں ۲۲؍سال کی عمر میں اکشے نے اپنے والد کی پروڈکشن ’ہمالیہ پتر‘سے فلمی دنیا میں قدم رکھا، تاہم یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے اسی سال جے پی دتّا کی جنگی ڈرامہ فلم ’بارڈر‘میں کام کیا جو ۱۹۷۱ءکی ہند پاک جنگ اور لانگے والا کی لڑائی پرمبنی تھی۔ اس میں اکشے نے حقیقی زندگی کے فوجی افسر دھرم ویر سنگھ بھان کاکردار ادا کیا۔ یہ فلم اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی اور اکشے کو فلم فیئر بہترین نئے چہرے کا ایوارڈ ملا۔
سبھاش گھئی کی فلم ’تال‘(۱۹۹۹ء)میں انہوں نے ایشوریہ رائے کے ساتھ کام کیا جو تجارتی اور تنقیدی لحاظ سے بہت کامیاب رہی۔ ۲۰۰۱ءمیں فرحان اختر کی کلٹ کلاسک فلم ’دل چاہتا ہے‘اکشے کے کریئرکا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس میں انہوں نے ایک حساس اور خاموش مزاج مصور سدھارتھ کا کردار ادا کیا جو ایک عمر رسیدہ خاتون سےمحبت کرتاہے۔ اس کردار کے لیے انہیں ۲۰۰۲ءمیں فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا اور اس فلم نے اکشے کھنہ اور سیف علی خان دونوں کے کیریئر کو نئی زندگی دی۔ عباس مستان کی ایکشن تھرلر ریس۲۰۰۸ءکی چوتھی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔ منفی کردار میں اکشے کی اداکاری نے انہیں بہترین ولن کے زمرے میں کئی ایوارڈز دلائے۔ جاسوسی ایکشن تھرلر دھرندھرمیں انہوں نے رحمان بلوچ کاخوفناک کردار ادا کیا۔ یہ فلم ۲۰۲۵ءکی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی اور اکشے کے کریئر کو نئی بلندی پر لے گئی۔ اکشے کھنہ ۲؍فلم فیئر ایوارڈزجیت چکےہیں۔ انہیں فلم بارڈر کیلئے فلم فیئر بہترین نئے چہرے کا ایوارڈ اور دل چاہتا ہے کیلئے فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈملا۔ اس کے علاوہ گاندھی مائی فادر کیلئے آسٹریلین انڈین فلم فیسٹیول میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ اور دل چاہتا ہے کیلئےاسکرین ایوارڈ خصوصی جیوری ایوارڈ بھی ان کی جھولی میں آیا۔