Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کوئی لاک ڈائون نہیں لگ رہا ہے، شہری افواہوں پر دھیان نہ دیں ‘‘

Updated: March 28, 2026, 9:27 AM IST | New Delhi

مرکزی وزراء نرملا سیتا رمن، کرن رجیجو اور ہردیپ سنگھ پوری نے بالکل واضح طور پر کہا کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Nirmala Sitharaman. Photo: INN.
نرملا سیتا رمن۔ تصویر: آئی این این

مغربی ایشیاء میں جاری جنگ اور اس کے عالمی اثرات کے درمیان ملک میں لاک ڈاؤن کی افواہوں نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے تاہم مرکزی حکومت نے ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کا ملک میں کسی بھی طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ افواہیں اس وقت زور پکڑ گئی تھیں جب وزیر اعظم مودی نے چند روز قبل پارلیمنٹ میں عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے اثرات طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں اور دنیا کو کورونا جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو بعض حلقوں نے ممکنہ لاک ڈاؤن سے جوڑ دیا، جس کے بعد مختلف شہروں میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۳۹؍ اراکین اسمبلی اشوک کھرات سے ملا کرتے تھے

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے لاک ڈائون کے سوال پر کہا کہ بعض سیاسی افراد کی جانب سے ایسی بے بنیاد باتیں پھیلانا تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران جیسے حالات تھے، ویسا کوئی لاک ڈاؤن اب نہیں لگایا جائے گا، اس لئے عوام کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے اور نہ ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ اس لئے عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ 
اسی سلسلے میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ایسی افواہیں کون پھیلا رہا ہے جبکہ وزیر اعظم پہلے ہی عوام سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ ذخیرہ اندوزی کو ہر حال میں روکا جائے اور ایسی کوئی صورتحال پیدا نہ ہونے دی جائے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاک ڈائون جیسی کوئی بات حکومت کے ذہن میں نہیں ہے اور نہ یہ لگایا جارہا ہے۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بھی یہی باتیں دہرائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK