نیپال میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گزشتہ سال کے مہلک کریک ڈاؤن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ اقدام۲۰۲۵ء کی بغاوت کے بعد قائم نئی حکومت کے تحت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 11:59 AM IST | Kathmandu
نیپال میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گزشتہ سال کے مہلک کریک ڈاؤن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ اقدام۲۰۲۵ء کی بغاوت کے بعد قائم نئی حکومت کے تحت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کے ساتھ گزشتہ سال مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن میں مبینہ کردار کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے سنیچر کو اس کی تصدیق کی۔ کٹھمنڈو ویلی پولیس کے ترجمان اوم ادھیکاری نے کہا:’’انہیں آج صبح گرفتار کیا گیا ہے، اور قانونی کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھے گی۔ ‘‘یہ گرفتاریاں ایک دن بعد سامنے آئیں جب وزیر اعظم بالیندر شاہ کی قیادت میں نئی حکومت نے حلف اٹھایا۔ یہ حکومت۲۰۲۵ء کی بغاوت کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی جس نے اولی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: بالیندر شاہ نے بطور وزیر اعظم حلف لیا
کریک ڈاؤن جس نے غصے کو بھڑکا دیا
یہ معاملہ ۸؍ اور۹؍ ستمبر کے مظاہروں سے جڑا ہے، جب نوجوانوں کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔ یہ احتجاج ابتدا میں سوشل میڈیا پر عارضی پابندی کے خلاف غصے سے شروع ہوا، لیکن جلد ہی مہنگائی، بے روزگاری اور حکمرانی کے مسائل کے خلاف وسیع احتجاج میں بدل گیا۔ اس بدامنی کے دوران کم از کم ۷۷؍افراد ہلاک ہوئے۔ پہلے دن ہی کم از کم۱۹؍ نوجوان مظاہرین اس وقت مارے گئے جب سیکوریٹی فورسیز نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اگلے دن تک مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے۔ سرکاری عمارتوں اور پارلیمنٹ کے دفاتر کو آگ لگا دی گئی، اور بالآخر اس صورتحال نے اولی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔
یہ بھی پڑھئے: خلیجی ممالک میں شدید بارش سےمعمولات زندگی مفلوج
تحقیقات کے نتائج
حکومت کی حمایت یافتہ تحقیقاتی رپورٹ نے اس تشدد کے سلسلے میں اولی اور دیگر حکام کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش کی۔ رپورٹ میں یہ واضح طور پر ثابت نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کا براہِ راست حکم دیا گیا تھا، لیکن اس نے اعلیٰ سطح پر ناکامی کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق:’’یہ ثابت نہیں ہوا کہ فائرنگ کا حکم دیا گیا تھا، لیکن فائرنگ کو روکنے یا قابو کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، اور ان کی غفلت کے باعث کم عمر افراد بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ‘‘