Updated: November 03, 2026, 10:44 AM IST
| London
وہاٹس ایپ، ای میل اور سوشل میڈیا کے فوری پیغامات کے زمانے میں ہاتھ سے خط لکھنا بظاہر ایک پرانی روایت محسوس ہوتا ہے، لیکن امریکی ماہرِ خط نویسی فریش برانڈٹ کے نزدیک ایک خط وہ بات کہہ سکتا ہے جسے برسوں کی خاموشی، جھجک یا ناراضی نے دل میں دبا رکھا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ معافی، محبت، تشکر یا الوداع کے چند سچے الفاظ نہ صرف کسی ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش بن سکتے ہیں بلکہ خط لکھنے والے کو بھی ذہنی سکون اور ادھورے معاملات سے آگے بڑھنے کا موقع دے سکتے ہیں۔
فریش برانڈٹ۔ تصویر: آئی این این
برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ میں یکم نومبر ۲۰۲۶ء کو شائع ہونے والی صحافی ہیلن کافی کی رپورٹ میں فریش برانڈٹ سے گفتگو کی گئی ہے، جو خود کو ’لیٹر مڈوائف‘ کہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کے دل میں ایسی باتیں موجود ہوتی ہیں جنہیں وہ کسی دوسرے شخص تک پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں الفاظ میں ڈھالنے یا کاغذ پر لکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ برانڈٹ ایسے افراد کو اپنے خیالات کی شکل دینے اور خط مکمل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ وہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں خط نویسی کی تعلیم بھی دیتی ہیں اور مختلف اداروں اور افراد کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ برانڈٹ کا یہ کام ہاسپس اور زندگی کے آخری مرحلے میں مریضوں کی نگہداشت کے تجربے سے شروع ہوا۔ وہاں انہوں نے محسوس کیا کہ کئی افراد کے پاس اپنے عزیزوں سے کہنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے یا زندگی ختم ہونے کے قریب پہنچنے پر وہ باتیں زبان پر لانا مشکل ہوجاتا ہے۔ کسی کو معافی مانگنی ہوتی ہے، کسی کو بتانا ہوتا ہے کہ وہ اسے یاد کرتا ہے، کسی کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے یا کسی سے اپنی محبت کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ بعض افراد کے لیے سب سے اہم بات الوداع کہنا ہوتی ہے۔ برانڈٹ کے مطابق خط ان جذبات کو الفاظ دینے اور زندگی کے ادھورے معاملات کو سمیٹنے کا ایک فطری ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی
اسی تجربے کو انہوں نے اپنی کتاب ’Unfinished Business: How to Write the Five Essential Letters of Your Life‘ میں سمویا ہے، جو ۲۷؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو شائع ہوئی۔ کتاب میں پانچ بنیادی خطوط پر توجہ دی گئی ہے: شکریے کا خط، معافی کا خط، کسی کو یاد کرنے کا خط، محبت کے اظہار کا خط اور الوداع کا خط۔ برانڈٹ ہر قسم کے خط کے لیے عملی رہنمائی اور ایسے سوالات فراہم کرتی ہیں جو لکھنے والے کو اپنے اصل احساسات تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مقصد ادبی زبان یا کامل تحریر تخلیق کرنا نہیں بلکہ اپنے دل کی بات اپنی زبان میں بیان کرنا ہے۔ وہ واضح کرتی ہیں کہ ’’یہ کامل خط لکھنے کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنا خط لکھنے کے بارے میں ہے۔‘‘ جن لوگوں کو خط کا آغاز کرنے میں مشکل پیش آتی ہے، ان کے لیے برانڈٹ چند آسان طریقے تجویز کرتی ہیں۔ کوئی پسندیدہ شعر، نظم یا گیت کا اقتباس تحریر کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ اسی طرح پہلے اپنے خیالات کو آواز کی صورت میں ریکارڈ کرکے بعد میں تحریر میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے مناسب اقتباسات تلاش کرنے یا خیالات کو ترتیب دینے میں مدد لی جاسکتی ہے، لیکن خط لکھنے کا بنیادی جذباتی اور ذہنی عمل مشین کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اس کی مثال ورزش سے دیتی ہیں کہ صرف ورزش کی ویڈیو دیکھنے سے جسم مضبوط نہیں ہوتا؛ اسی طرح خط نویسی کا فائدہ بھی تبھی حاصل ہوتا ہے جب انسان خود اپنے خیالات پر غور کرکے انہیں الفاظ میں ڈھالتا ہے۔
برانڈٹ کے نزدیک خط کی اہمیت اس کے کاغذ پر لکھے جانے تک محدود نہیں رہتی۔ ایک خط کسی خاص وقت، احساس اور تعلق کی یادگار بن سکتا ہے۔ وہ ڈجیٹل پیغامات اور خط کے فرق کو فوری طور پر ملنے والے کھانے اور محبت و توجہ سے تیار کیے گئے کھانے سے تشبیہ دیتی ہیں۔ وہاٹس ایپ، ای میل اور سوشل میڈیا پیغامات رابطے کو تیز ضرور بناتے ہیں، لیکن ان میں وہ ٹھہراؤ اور ذاتی توجہ کم محسوس ہوتی ہے جو کسی کے لیے قلم اور کاغذ لے کر بیٹھنے میں شامل ہے۔ خط وصول کرنے والے کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ کسی نے اس کے لیے وقت نکالا، الفاظ منتخب کیے اور اپنی بات پہنچانے کی باقاعدہ کوشش کی۔ رپورٹ میں ایک ایسی خاتون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو زندگی کے آخری مرحلے میں اپنے والدین سے دوبارہ تعلق قائم کرنا چاہتی تھیں۔ وہ پہلے کئی مرتبہ ان سے رابطے کی کوشش کرچکی تھیں، لیکن والدین نے جواب نہیں دیا تھا۔ کرسمس کے موقع پر نیویارک میں ان کے گھر اچانک پہنچنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ آخرکار انہوں نے برانڈٹ سے مدد لے کر والدین کو خط لکھا۔ اتفاق سے برانڈٹ چند ہفتوں بعد نیویارک جارہی تھیں، اس لیے انہوں نے خط خود پہنچانے کی پیشکش کی۔ تقریباً ۴۰؍ منٹ بعد خاتون کو والدین کی جانب سے محبت بھرا ای میل موصول ہوا۔ برانڈٹ کے مطابق خاتون نے اسے اپنی زندگی کے خوش ترین دنوں میں سے ایک قرار دیا۔ تاہم اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی اہم تھا: اگر والدین جواب نہ دیتے تب بھی خط لکھنے سے خاتون کو یہ اطمینان حاصل ہوگیا تھا کہ انہوں نے وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:`امریکہ: ٹرمپ کا ایرانی جوہری تنصیبات کو۱۰؍ منٹ میں ختم کردینے کا دعویٰ
اخبار کی صحافی ہیلن کافی نے بھی اس تجربے کو اپنی زندگی میں آزمایا۔ انہوں نے ایک ایسے دوست کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جسے مشکل وقت میں ان کی عدم موجودگی سے تکلیف پہنچی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ معافی مانگنے کی جھجک بڑھتی گئی اور انہیں محسوس ہوا کہ ایک مختصر پیغام اس احساس کی گہرائی بیان نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے برانڈٹ کی کتاب میں معافی کے خط سے متعلق رہنمائی پڑھی، خط لکھنے کا کاغذ خریدا اور اپنے خیالات تحریر کردیے۔ ان کے مطابق خط مکمل کرنے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے کئی ماہ سے اٹھایا ہوا کوئی بھاری بوجھ آخرکار زمین پر رکھ دیا ہو۔ اس عمل نے انہیں نہ صرف دوست سے معذرت کرنے کا موقع دیا بلکہ دوسرے ایسے افراد کا بھی خیال دلایا جنہیں وہ شکریہ کہنا یا اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتی تھیں۔ رپورٹ میں تنہائی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو بھی خط نویسی کی اہمیت سے جوڑا گیا ہے۔ برطانیہ کے آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس (ONS) کے جنوری کے سروے کے مطابق تقریباً ۲۳؍ فیصد بالغ افراد نے اکثر، ہمیشہ یا بعض اوقات تنہائی محسوس کرنے کی اطلاع دی۔ اسی طرح AXA Mind Health Report کے مطابق برطانیہ میں ۳۴؍ سال سے کم عمر افراد کے تنہائی کا تجربہ کرنے کا امکان ۵۵؍سال سے زیادہ عمر کے افراد کے مقابلے میں دوگنا تھا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رابطے کے بے شمار ڈجیٹل ذرائع موجود ہونے کے باوجود حقیقی انسانی تعلق اور جذباتی قربت کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔
برانڈٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ محبت، معافی یا تشکر کے اظہار کے لیے زندگی کے آخری لمحات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ انسان اکثر یہ سوچ کر بات مؤخر کرتا رہتا ہے کہ ابھی وقت موجود ہے، لیکن بعض اوقات اچانک پیش آنے والے حالات اسے وہ الفاظ کہنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک خط لکھنے کا فائدہ صرف اسے وصول کرنے والے تک محدود نہیں؛ یہ عمل لکھنے والے کو بھی اپنے جذبات سمجھنے، پرانی ناراضی سے آگے بڑھنے اور تعلقات کو نئی نظر سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک خط کا جواب ملے یا نہ ملے، بعض اوقات اسے لکھ دینا ہی زندگی کے کسی ادھورے باب کو مکمل کرنے کی پہلی کوشش بن جاتا ہے۔