• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زیوریو کا عالمی ٹینس کی چوٹی تک پہنچنے کا سفر، مگر کامیابی کے ساتھ تنازعات اور سخت تنقید بھی

Updated: November 03, 2026, 9:03 PM IST | London

جرمنی کے معروف ٹینس کھلاڑی الیگزینڈر زیوریو نے عالمی مردوں کی ٹینس میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے اپنے کریئر کی ایک بڑی منزل تو طے کرلی ہے، لیکن ان کی اس کامیابی کا خیرمقدم ہر حلقے میں یکساں جوش و خروش سے نہیں کیا جا رہا۔

Alexander Zverev.Photo:X
الیگزینڈر زیوریو-تصویر:ایکس

جرمنی کے معروف ٹینس کھلاڑی الیگزینڈر زیوریو نے عالمی مردوں کی ٹینس میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے اپنے کریئر کی ایک بڑی منزل تو طے کرلی ہے، لیکن ان کی اس کامیابی کا خیرمقدم ہر حلقے میں یکساں جوش و خروش سے نہیں کیا جا رہا۔ ایک طرف زیوریو نے ۲۰۲۶ء میں دو گرینڈ سلیم خطاب جیت کر برسوں سے ان کے ساتھ جڑے اس تاثر کو ختم کیا ہے کہ وہ بڑے مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو دوسری طرف ان کی عالمی نمبر ایک بننے کی کامیابی پر کھیل کی دنیا میں کئی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان سوالات کی وجہ صرف ان کی کھیل کی کارکردگی نہیں بلکہ ماضی کے تنازعات اور ان کے خلاف سامنے آنے والے سنگین الزامات بھی ہیں۔
۲۹ ؍سالہ زیوریو نے رواں سال جون میں فرنچ اوپن کا خطاب جیت کر اپنے کریئر کا پہلا گرینڈ سلیم ٹائٹل حاصل کیا۔ اس کے بعد ستمبر میں انہوں نے یو ایس اوپن کے فائنل میں امریکی کھلاڑی بین شیلٹن کو شکست دے کر دوسرا بڑا خطاب بھی اپنے نام کرلیا۔ اس کے علاوہ وہ ومبلڈن کے فائنل تک پہنچے، جہاں انہیں اٹلی کے یانک سنر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آسٹریلین اوپن کے سیمی فائنل میں بھی جگہ بنائی۔ ان کامیابیوں کے نتیجے میں زیوریو ۲؍ نومبر کو جاری ہونے والی عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گئے اور سال کے اختتام پر بھی عالمی نمبر ایک رہنے کی پوزیشن مستحکم کرلی۔ وہ مردوں کی ٹینس کی تاریخ میں عالمی نمبر ایک بننے والے ۳۰؍ویں کھلاڑی ہیں اور ۱۹۷۴ء کے بعد پہلی مرتبہ اس مقام تک پہنچنے والے سب سے زیادہ عمر کے کھلاڑی بھی ہیں۔ رواں سیزن میں ان کا جیت اور ہار کا ریکارڈ ۶۵-۱۷ رہا ہے۔ 


زیوریو کی کامیابی پر تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ رواں سیزن میں ان کے دو بڑے حریف،  یانک  سنر اور کارلوس الکاراز، مختلف اوقات میں انجری اور جسمانی مسائل سے دوچار رہے۔ سنر نے ومبلڈن کے فائنل میں زیوریو کو شکست دینے کے بعد گھٹنے کی سوزش کے باعث اپنا سیزن قبل از وقت ختم کرنے کا اعلان کردیا، جبکہ الکاراز بھی انجری اور تھکاوٹ کے سبب کئی اہم مقابلوں سے باہر رہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کی غیر موجودگی نے زیوریو کے لیے عالمی نمبر ایک تک پہنچنے کی راہ نسبتاً آسان بنائی۔ بعض مبصرین نے ان کی ٹاپ ٹین کھلاڑیوں کے خلاف کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ تاہم زیوریو کے حامیوں کا موقف ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو ان مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کا پورا کریڈٹ ملنا چاہیے جن میں اس نے حصہ لیا ہو، اور عالمی درجہ بندی پورے سیزن کی کارکردگی کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مکیش امبانی کی دولت میں ایک ہی دن میں ۵ء۸؍ ارب ڈالر کا اضافہ

زیوریو کی عالمی نمبر ایک بننے کی کامیابی پر ہونے والی بحث کا ایک اہم پہلو ان کی نجی زندگی سے متعلق تنازعات ہیں۔ ان کی دو سابقہ ساتھیوں نے ان پر جسمانی تشدد کے الزامات عائد کیے تھے، جن کی زیوریو مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔ سابق ساتھی اولگا شریپووا نے ۲۰۲۰ء میں ان کے خلاف جسمانی اور جذباتی بدسلوکی کے الزامات لگائے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد اے ٹی پی نے جنوری ۲۰۲۳ء میں کہا تھا کہ دستیاب شواہد الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔دوسری جانب ان کی سابقہ ساتھی برینڈا پٹیا سے متعلق معاملہ جرمنی کی عدالت تک پہنچا تھا۔ زیوریو کو ۲۰۲۳ء میں جرمنی کی عدالت کی جانب سے جرمانے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ جون ۲۰۲۴ء میں دونوں فریقوں کے درمیان تصفیہ ہونے کے بعد عدالتی کارروائی ختم کردی گئی۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ کارروائی ختم ہونے کا فیصلہ نہ تو جرم ثابت ہونے کا فیصلہ ہے اور نہ ہی بے گناہی کا۔ زیوریو نے الزامات کو مسترد کیا ہے، لیکن ان معاملات کے باعث ٹینس شائقین اور مبصرین کے ایک حلقے میں ان کے بارے میں تحفظات برقرار ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی شاہ رخ خان کو سالگرہ پر خاص مبارکباد، ’ہمیشہ جوان رہو‘ کی دعا کی

زیوریو کے کھیل کے علاوہ ان کے رویے پر بھی ماضی میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ۲۰۲۲ء میں میکسیکو اوپن کے دوران ڈبلز مقابلے میں شکست کے بعد انہوں نے غصے میں امپائر کی کرسی پر بار بار ریکٹ مارا تھا، جس کے نتیجے میں انہیں ٹورنامنٹ سے باہر کردیا گیا۔ اے ٹی پی نے اس واقعہ پر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے آٹھ ہفتوں کی معطل پابندی بھی عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ بعض مقابلوں میں ان کے کھیل کے انداز اور سرو کرنے سے پہلے غیر معمولی تاخیر پر بھی حریف کھلاڑیوں اور مبصرین نے اعتراض کیا ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ واقعات ان کے کھیل کے ساتھ ساتھ ان کے طرزِ عمل پر بھی بحث کو جنم دیتے ہیں۔ زیوریو کی کہانی کا دوسرا رخ ان کی جدوجہد اور ثابت قدمی سے جڑا ہے۔ انہیں چار سال کی عمر میں ٹائپ ون ذیابیطس کی تشخیص ہوئی تھی اور پیشہ ورانہ ٹینس کھیلتے ہوئے انہیں باقاعدگی سے انسولین لینا پڑتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنائی۔ ۲۰۲۲ء کے فرنچ اوپن کے سیمی فائنل میں رافیل نڈال کے خلاف کھیلتے ہوئے انہیں ٹخنے میں شدید چوٹ لگی تھی، جس کے باعث انہیں وہیل چیئر پر کورٹ سے باہر لے جانا پڑا۔ اس انجری کے بعد واپسی اور پھر گرینڈ سلیم خطاب جیتنا ان کے کریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ اس سے پہلے دو مرتبہ اے ٹی پی فائنلز اور ٹوکیو اولمپکس میں طلائی تمغہ بھی جیت چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK