• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظاہرین ہمیشہ کیلئے کسی مقام پر قبضہ نہیں جما سکتے، دیہاڑی مزدوروں کا روزگار بھی اہم: سپریم کورٹ

Updated: November 03, 2026, 7:39 PM IST | New Delhi

تاجروں کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں کی وجہ سے ۲ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کیلئے نامزد کردہ مقام رام لیلا میدان، گنجان آباد بازاروں اور تقریباً ۵۰ لاکھ لوگوں کے گھروں کے قریب ہے۔ انہوں نے حکومت سے دہلی اور دیگر ریاستی دارالحکومتوں کیلئے ایک اسکیم وضع کرنے کی درخواست کی۔

Supreme Court. Photo: X
سپریم کورٹ۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے منگل کے روز مشاہدہ کیا کہ مظاہرین ہمیشہ کیلئے کسی احتجاجی مقام پر قابض نہیں رہ سکتے۔ عدالت نے کہا کہ کسی مقام کو صرف ایک مقررہ مدت کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ دیگر گروپوں کو بھی اسے استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں اکتوبر کے مظاہروں پر داخل کردہ درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ چیف جسٹس کانت نے سوال کیا کہ اگر ایک ہی گروہ کسی جگہ پر ہمیشہ کیلئے قابض رہے گا تو کسان، مزدور، ٹریڈ یونینز اور بے گھر افراد کہاں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا حق ایک آئینی حق ہے لیکن تجارت اور کاروبار کرنے کا حق بھی آئینی ہے۔ انہوں نے دیہاڑی مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے بھی پوچھا کہ ایسا شخص اپنی روزی روٹی کیلئے کہاں جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ریاست کی کئی عدالتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی سے سنسنی پھیل گئی

سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کو جولائی میں صرف ایک دن کے احتجاج کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہ ۱۷ دن تک وہاں ڈٹے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گروہ نے بعد میں بغیر اجازت پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا۔ ان کے مطابق، مظاہرین منظوری کے بغیر پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ نہیں جا سکتے۔

تاجروں کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں کی وجہ سے ۲ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کیلئے نامزد کردہ مقام رام لیلا میدان، گنجان آباد بازاروں اور تقریباً ۵۰ لاکھ لوگوں کے گھروں کے قریب ہے۔ انہوں نے حکومت سے دہلی اور دیگر ریاستی دارالحکومتوں کیلئے ایک اسکیم وضع کرنے کی درخواست کی۔

یہ بھی پڑھئے: مودی غیر ملکی مدد سے وزیراعظم بنے اور اسی کے سہارے اقتدار میں ہیں: راہل گاندھی

جسٹس باگچی نے سوال کیا کہ کیا کاروباری نقصانات کا ذمہ دار صرف مظاہرین کو ٹھہرایا جا سکتا ہے، کیونکہ بیریکیڈز اور کمزور معیشت بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سینئر وکیل این ہری ہرن نے کہا کہ جنتر منتر کے احتجاج کو رام لیلا میدان منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ اب لوگ کہاں احتجاج کریں۔

وکیل پرشانت بھوشن نے اس موقع پر نگرانی اور رازداری کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو وضاحت کرنی چاہئے کہ کس قانون کے تحت اور کس قسم کی نگرانی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر بھی پرائیویسی کا حق موجود ہوتا ہے۔ مہتا نے جواب دیا کہ صرف سی سی ٹی وی کا استعمال کیا گیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عوامی مقام پر انسان صرف ایک مناسب حد تک ہی پرائیویسی کی توقع کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK