Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیت ’کھئی کے پان‘ کیلئے پان چبانے سے امیتابھ کے منہ میں زخم ہو گئے تھے

Updated: June 26, 2026, 10:03 AM IST | Mumbai

جس اسکرپٹ کو دیو آنند، پرکاش مہرا اور جتیندر جیسے بڑے ستارے مسترد کر چکے ہوں، جس گانے کو دیو آنند کی فلم سے نکال دیا گیا ہو، وہی فلم اور گانا بعد میں تاریخ رقم کر دیں، تو اسے قسمت کا کھیل ہی کہا جائے گا۔

Amitabh Bachchan. Photo: INN
امیتابھ بچن۔ تصویر: آئی این این

جس اسکرپٹ کو دیو آنند، پرکاش مہرا اور جتیندر جیسے بڑے ستارے مسترد کر چکے ہوں، جس گانے کو دیو آنند کی فلم سے نکال دیا گیا ہو، وہی فلم اور گانا بعد میں تاریخ رقم کر دیں، تو اسے قسمت کا کھیل ہی کہا جائے گا۔ تقریباً ۴۸؍برس قبل ریلیز ہونے والی ایک فلم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ ایک مستردشدہ اسکرپٹ پر پروڈیوسرنےخطرہ مول لیا، لیکن فلم کی تیاری کے دوران ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ہدایت کار نے قرض لے کر فلم مکمل کی۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو ابتدائی ۳؍ دن تک سینما گھروں میں سناٹا چھایا رہا، مگر پھر حالات نے ایسا رخ بدلا کہ یہی فلم اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی۔ ایک ٹوٹے پھوٹے سیٹ پر فلمایا گیا گانا امر ہو گیا اور فلم ’ڈان‘نے تاریخ میں اپنا نام درج کر لیا۔ اسی فلم کے لیے امیتابھ بچن کو بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا تھا۔فلم کے پروڈیوسر نریمن ایرانی دراصل ایک کیمرہ مین تھے۔ انہوں نے بطور پروڈیوسر ’’زندگی زندگی‘‘(۱۹۷۲ء)کےنام سے ایک فلم بنائی تھی، جو بری طرح ناکام رہی اور ان پر ۱۲؍لاکھ روپے کا قرض چڑھ گیا۔ انہی دنوں وہ منوج کمار کی فلم ’روٹی کپڑا اور مکان‘ میں کام کر رہے تھے۔ امیتابھ بچن، زینت امان اور پران نے انہیں ایک نئی فلم بنانے کا مشورہ دیا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ بغیر معاوضے کے اس میں کام کریں گے۔نریمن ایرانی اسکرپٹ رائٹر جوڑی سلیم جاوید کے پاس پہنچے اور وہاں سے’ڈان‘ کی تیار شدہ اسکرپٹ لے آئے۔ اس اسکرپٹ کو اس سے پہلے دیو آنند، جتیندر اور پرکاش مہرا مسترد کر چکے تھے۔ اس وقت اس اسکرپٹ کا کوئی نام بھی نہیں تھا۔چندرا باروٹ کی ہدایت کاری میں فلم بن رہی تھی کہ اسی دوران نریمن ایرانی ایک حادثے کا شکار ہو گئے اور ان کا انتقال ہو گیا۔ اس مشکل وقت میں چندرا باروٹ نے اپنی بہن سے ۴۰؍ہزار روپے قرض لے کر کسی نہ کسی طرح فلم مکمل کی۔ فلم بغیر کسی تشہیری مہم کے ریلیز کی گئی۔ ابتدائی ایک ہفتے تک شائقین سینما گھروں کا رخ نہیں کر رہے تھے، لیکن پھر زبانی تشہیر کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔’’ڈان‘ کو ۳؍فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا گیا۔ کشور کمار کو ’’کھئی کے پان بنارس والا‘‘ کے لیے بہترین گلوکار کا ایوارڈ ملا، جبکہ آشا بھوسلے کو ’’یہ میرا دل پیار کا دیوانہ‘‘ کے لیے بہترین گلوکارہ کا اعزاز حاصل ہوا۔ امیتابھ بچن کو بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا، جسے انہوں نے مرحوم پروڈیوسر نریمن ایرانی کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا تھا۔’ڈان‘ کی موسیقی غیرمعمولی حد تک مقبول ہوئی۔ فلم کا سب سے مشہور گانا ’کھئی کے پان بنارس والا‘ امیتابھ بچن کی شناخت بن گیا۔ اس وقت ہدایت کار چندرا باروٹ شدید مالی مشکلات سے دوچار تھے، اس لیے انہوں نے اس گانے کی شوٹنگ ممبئی کے ایک مویشی خانے میں کی۔ اس گانے کے بول انجان نے لکھے تھےپورا گانا تین سے چار دن میں فلمایا گیا تھا اور اس کے لیے تقریباً ۴۰؍سے ۵۰؍ ٹیک لیے گئے تھے، جن میں سے ہر ایک کے ۳؍، ۴؍ری ٹیک بھی ہوئے تھے۔ امیتابھ بچن خود پان کھانے کے عادی نہیں تھے، لیکن اس گانے کی شوٹنگ کے دوران انہیں کئی مرتبہ پان چبانا پڑا۔ کتھے اور چونے کی وجہ سے ان کے منہ میں کئی زخم ہوگئے تھے اور انہیں مکمل صحت یاب ہونے میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگ گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK