لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ ہم اپنی سرزمین سے ہر قسم کی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور مکمل خودمختاری سے کم کسی حل کو قبول نہیں کریں گے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 10:52 AM IST | Washington
لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ ہم اپنی سرزمین سے ہر قسم کی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور مکمل خودمختاری سے کم کسی حل کو قبول نہیں کریں گے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی اور طویل مدتی سیکوریٹی و سیاسی مفاہمت کی کوششوں کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور واشنگٹن میں شروع ہوگیا، تاہم اسرائیلی انخلا اور حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے حکام امریکی سرپرستی میں شریک ہیں، جبکہ واشنگٹن جنوبی لبنان میں مستقل استحکام اور سیکوریٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیاہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پانچویں دور کے دوسرے روز کا ماحول پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہا اور جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور مجوزہ سیکوریٹی انتظامات کے نفاذ کے طریقہ کار پر پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنانی وفد جنوبی لبنان میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اس کے لیے واضح ٹائم فریم کے مطالبے پر قائم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۶؍ ماہ بعد رہا ہونے والے فلسطینی صحافی کی حالت غیر، حقوق تنظیم نے سوال اٹھائے
دوسری جانب مذاکرات میں ممکنہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کے لیے انتظامی اور عملی طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا جا رہا ہے، جہاں بات چیت عمومی اصولوں سے آگے بڑھ کر جنگ بندی، نگرانی اور انخلا کے عملی مراحل تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق لبنانی فوج کو نئے سکیورٹی انتظامات نافذ کرنے کے لئے حکومتی حمایت حاصل ہے اور واشنگٹن لبنانی فوج کو ان علاقوں کی سکیورٹی سنبھالنے کیلئے مرکزی ادارہ تصور کرتا ہے جہاں سے اسرائیلی افواج مستقبل میں انخلا کر سکتی ہیں۔
اس سے قبل لبنانی صدر جوزف عون نے واضح کیا تھا کہ لبنان اپنی سرزمین سے ہر قسم کی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور مکمل خودمختاری کی بحالی سے کم کسی حل کو قبول نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: چین میں متنازع اشتہار پر ڈیٹول کی معافی، خواتین سے متعلق پیغام پر شدید ردعمل
اسرائیل کی ہٹ دھرمی
بدھ کو ایک بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور شام میں قائم اپنے سیکورٹی زونز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خواہ امریکہ ہی اس کا مطالبہ کیوں نہ کرے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک کانفرنس سے خطاب میں کاٹز نے مذکورہ باتیں کہی ہیں ۔