فلم ساز انو راگ کشیپ نے کہا ہے کہ فلم ’’دھرندھر‘‘ پر منفی جائزے دینے والے ناقدین کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والا ردعمل فطری نہیں بلکہ منظم مہم کا حصہ تھا۔ ان کے بیان کے بعد فلمی حلقوں میں اظہارِ رائے کی آزادی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 9:04 PM IST | Mumbai
فلم ساز انو راگ کشیپ نے کہا ہے کہ فلم ’’دھرندھر‘‘ پر منفی جائزے دینے والے ناقدین کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والا ردعمل فطری نہیں بلکہ منظم مہم کا حصہ تھا۔ ان کے بیان کے بعد فلمی حلقوں میں اظہارِ رائے کی آزادی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
معروف فلم ساز انو راگ کشیپ نے کہا ہے کہ فلم ’’دھرندھر‘‘ کے منفی جائزے لکھنے والے فلم ناقدین کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید اور ذاتی حملے ’’منظم‘‘ تھے۔ ٹیلی گراف کے مطابق یہ بات انہوں نے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہی ہے۔ یاد رہے کہ فلم ’’دھرندھر‘‘ کی ریلیز کے بعد بعض ناقدین نے اس کے موضوع اور پیشکش پر منفی رائے دی۔ اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ان ناقدین کو سخت تنقید، ٹرولنگ اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انو راگ کشیپ کا مؤقف
انو راگ کشیپ کے مطابق اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مخصوص انداز میں منظم حملے فطری ردعمل نہیں لگتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض مداحوں کا جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک مربوط مہم محسوس ہوتی ہے جس کا مقصد ناقدین کو دباؤ میں لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وودرِنگ ہائٹس‘‘ پر شدید تنقید، سوشل میڈیا صارفین برہم
فلم کریٹکس گلڈ کا ردعمل
اس معاملے پر فلم کریٹکس گلڈ آف انڈیا نے بھی بیان جاری کیا تھا، جس میں ناقدین کے خلاف ذاتی حملوں کی مذمت کی گئی۔ گلڈ کا کہنا تھا کہ پیشہ ورانہ رائے کے اظہار پر کسی کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہئے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد نئی بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے کشیپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تنقید جمہوری معاشرے کا حصہ ہے۔ دوسری جانب بعض افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ناقدین سخت الفاظ استعمال کریں گے تو عوامی ردعمل بھی سامنے آئے گا۔ یہ معاملہ بالی ووڈ میں فن، تنقید اور سوشل میڈیا کے کردار پر ایک بار پھر سوال اٹھا رہا ہے۔ فلمی ماہرین کے مطابق ڈجیٹل دور میں رائے اور ردعمل کے درمیان حدیں دھندلا گئی ہیں، جس سے پیشہ ورانہ تنقید اکثر ذاتی حملوں میں بدل جاتی ہے۔ فی الحال معاملہ سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں زیر بحث ہے، اور یہ بحث اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ داری کے توازن پر مرکوز ہے۔