ناسک میں واقع یہ قدیم اور تاریخی پہاڑی قلعہ مشہور ترمبک پہاڑی سلسلےکا حصہ ہے اور سطح سمندر سے تقریباً ۳۵۰۰؍فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔
بھاسکر گڑھ کا قلعہ دور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این
بھاسکر گڑھ قلعہ، جسے مقامی طور پر بس گڑھ بھی کہا جاتا ہے، مہاراشٹرکے ضلع ناسک میں واقع ایک قدیم اور تاریخی پہاڑی قلعہ ہے۔یہ قلعہ مشہور ترمبک پہاڑی سلسلےکا حصہ ہے اور سطح سمندر سے تقریباً ۳۵۰۰؍فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اپنی دشوار گزار چڑھائی اورچٹانوں کو تراش کر بنائی گئی سیڑھیوں کی وجہ سے یہ کوہ پیماؤں اور تاریخ دانوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
تاریخی پس منظر
بھاسکر گڑھ کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔قلعے کی ساخت اور چٹانی نقوش سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد ستواہن خاندان کے دور میں رکھی گئی تھی۔باقاعدہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یہ۱۲؍ویں صدی میں دیوگیری کے یادو بادشاہوں کے زیرِ اثر رہا۔۱۴؍ویں سے ۱۷؍ویں صدی کے دوران یہ قلعہ بہمنی سلطنت، نظام شاہی اور پھر مغلوں کے قبضے میں رہا۔ ۱۶۲۹ء میںشاہ جی راجےنےبیجاپور کے محمدعادل شاہ کے خلاف بغاوت کر کے قلعہ فتح کیا۔لیکن بعد میںشاہ جی مہوباکے قلعہ میںعادل شاہ سے ہار گئے۔اس کے بعد ۱۶۳۳ء میں یہ قلعہ مغلوں کے قبضہ میں چلا گیا۔۱۶۷۰ء میںموروپنت پنگلے (شیواجی مہاراج کےسپہ سالار)نےمغلوں سے واپس لےلیا لیکن ۱۶۸۸ء میں مغل دوبارہ اس پر قابض ہوگئے۔کولی قبیلے نے۱۷۳۰ءمیں بغاوت کر کے اس قلعہ کو فتح کیا۔پیشواؤں کے دور تک یہ قلعہ ان کے پاس رہا۔آخر کار ۱۸۱۸ء میں کیپٹن برِگْز (ایسٹ انڈیا کمپنی) نے اس پر قبضہ کرلیا۔آج یہ قلعہ ایک سیاحتی مرکز بن چکا ہے اور دور دور سے سیاح یہاں ٹریکنگ کرنے آتے ہیں۔
محل وقوع
یہ قلعہ ناسک سے تقریباً۴۸؍کلومیٹر دور اگت پوری کے قریب واقع ہے۔ قدیم زمانے میں اسے’گوندا گھاٹ‘ کی حفاظت کے لیے ایک واچ ٹاور کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جو کہ ساحلی علاقوں سے ناسک کی طرف جانے والا ایک اہم تجارتی راستہ تھا۔
طرز تعمیر اور قلعہ بندی
قلعے کی فنِ تعمیر کا سب سے حیرت انگیز حصہ اس کی سیڑھیاں ہیں۔قلعے تک پہنچنے کے لیے پہاڑ کی اصل چٹان کو ہیلیکل شکل میں تراش کر سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔قلعے کا مرکزی دروازہ اب بھی موجود ہے،جسے مٹی اور پتھروں نے جزوی طور پر ڈھانپ لیا ہے، جس کی وجہ سے اندر داخل ہونے کے لیے جھک کر یا رینگ کر جانا پڑتا ہے۔ چوٹی پر چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے پانی کے تقریباً۷؍ سے۸؍ ٹینک موجود ہیں، جو قدیم انجینئرنگ کا شاہکار ہیں۔قلعےمیں موجود کچھ مکانات کے کھنڈرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
موجودہ حالت
آج کل بھاسکر گڑھ ایک مقبول ٹریکنگ سائٹ بن چکا ہے۔ اسے درمیانی درجےکا ٹریک سمجھا جاتا ہے۔یہاں کیلئےٹریک کا آغازنرگڈپاڑہ یا دھلے پاڑہ گاؤں سے ہوتا ہے۔چوٹی سے ہری ہر قلعہ اور برہمگیری کے دلکش نظارے دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ریل کےذریعہ :ٹرین کے ذریعہ یہاں پہنچنا سب سے سستا اور آسان ہے کیوں کہ یہ لوکل ٹرین سے جڑا ہوا ہے۔یہاں پہنچنے کیلئے آپ کو سینٹرل ریلوے کے کسی بھی اسٹیشن یعنی سی ایس ایم ٹی، دادر یا کلیان ٹرین میں سوار ہوکر کسارا اسٹیشن پہنچنا ہوگا۔ کسارا اسٹیشن سے باہر نکل کر نجی جیپ یا شیئرنگ ٹیکسی کے ذریعےکھوڈالہ پہنچیں اور پھر وہاں سے قلعے کے دامن میں واقع گاؤںنرگڈپاڑہ پہنچیں۔
سڑک کےراستے :اگر آپ اپنی گاڑی یا ٹیکسی وغیرہ سے سڑک کے راستے یہاں جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ممبئی-ناسک ہائی وے(این ایچ ۱۶۰)پرسفر کرتے ہوئے گھوٹی پہنچنا ہوگا۔ یہاں سے ترمبک روڈ کی طرف مڑیں تو آپ نرگڈپاڑہ پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ کو ٹریکنگ کرتے ہوئے جانا ہوگا۔ممبئی سے نرگڈپاڑہ تک کا فاصلہ تقریباً ۱۷۰؍تا ۱۹۰؍کلومیٹر ہے جسےطےکرنےمیں۴؍ گھنٹے تک لگ سکتے ہیں