پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے سلامی بلے باز امام الحق کو لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں انکوائری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 5:02 PM IST | Karachi
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے سلامی بلے باز امام الحق کو لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں انکوائری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے سلامی بلے باز امام الحق کو لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں انکوائری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک انٹرویو میں عاقب جاوید نے امام کی انجری پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بائیں پنڈلی میں معمولی درجے کی چوٹ کے باعث کسی کھلاڑی کا دونوں اننگز میں بالکل بیٹنگ نہ کرنا ایک بڑا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کھلاڑی زخمی ہونے کے باوجود کھیلنے کی کوشش کرتے تھے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ امام نے چوٹ کا بہانہ بنایا، لیکن معمولی مسلز پل کی وجہ سے کسی کھلاڑی کا مکمل طور پر بیٹنگ سے باہر ہو جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہیں کوشش کرنی چاہیے تھی اور مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔ اس معاملے کی انکوائری ہوگی۔ امام الحق ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد پی سی بی نے وطن واپس بلا لیا۔ میچ کے دوسرے دن پی سی بی نے بتایا تھا کہ امام کی بائیں پنڈلی میں انجری ہوئی ہے اور ان کی مزید شرکت طبی رائے سے مشروط ہوگی۔ تاہم چوتھے دن انہیں ٹیم کے ساتھ وارم اپ کرتے دیکھا گیا، جس پر سابق کرکٹرز اسٹورٹ براڈ اور ڈیوڈ وارنر نے بھی تنقید کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:کانسرٹس اور فلم فیسٹیول کے باعث سرائیو میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد، معیشت کو فائدہ
عاقب جاوید نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دو ٹیسٹ میچ گزرنے کے باوجود پاکستان ٹیم مقابلہ نہیں کر سکی، اس لیے کچھ سخت فیصلے ضروری تھے۔ انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کے انتخاب پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عبید شاہ جیسے تیز گیندباز اور ایک آل راؤنڈر کو موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ٹاپ سات بلے بازوں میں کوئی باقاعدہ گیندباز نہیں ہے اور ٹیم کے لیے درست کمبی نیشن منتخب کرنا ضروری تھا۔ ان کے مطابق عبید شاہ تقریباً ۱۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہیں اور ایک تیز رفتار بولر پوری بولنگ اٹیک کی ساخت تبدیل کر سکتا ہے۔
امام الحق کے علاوہ دیگر چھ کھلاڑیوں کو بھی انگلینڈ سے واپس بلا لیا گیا جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ عاقب جاوید نے کہا کہ واپس بلائے گئے کھلاڑیوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اہم دوروں پر انہیں اپنے کھیل کا معیار بلند کرتے ہوئے بھرپور مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے ٹیم کے کپتان بابر اعظم، کوچ اور مینجمنٹ کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دورے کے دوران میچ کے لحاظ سے درست کمبی نیشن منتخب کرنا ٹیم انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سادھنا کی زلفوں کا انداز مختلف تھاجو’سادھناکٹ‘کےنام سے پوری دنیا میں مشہور تھا
عاقب جاوید نے نئے ٹیسٹ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صرف ایک میچ میں نتائج بدل جانا مشکل ہے، البتہ ان تبدیلیوں سے یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کرکٹ میں اب بھی باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ ۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ءسے ایجبسٹن میں شروع ہوگا۔