• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی اعداد و شمار پر قائم

Updated: September 02, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi

حکومت نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون ۲۰۲۶ء) میں اقتصادی ترقی کے تخمینی اعداد و شمار پر جاری بحث کے درمیان بدھ کو ان سے متعلق مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اعداد و شمار کا دفاع کیا اور کہا کہ اعداد و شمار کا موازنہ ایک جیسے اور تازہ ترین قابلِ تقابل اعداد و شمار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

GDP.Photo:INN
جی ڈی پی۔ تصویر:آئی این این

حکومت نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون ۲۰۲۶ء) میں اقتصادی ترقی کے تخمینی اعداد و شمار پر جاری بحث کے درمیان بدھ کو ان سے متعلق مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اعداد و شمار کا دفاع کیا اور کہا کہ اعداد و شمار کا موازنہ ایک جیسے اور تازہ ترین قابلِ تقابل اعداد و شمار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
حکومت نے ان تنقیدوں کو مسترد کر دیا ہے کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی تخمینے کو بہتر ظاہر کرنے کے لیے گزشتہ سال کے اعداد و شمار کو کم کر دیا گیا۔پیر کو جاری کردہ  اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو ۸ء۷؍ فیصد اور موجودہ قیمتوں پر شرح نمو ۳۰ء۱۰؍ فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بعض ناقدین نے ان اعداد و شمار پر سوال اٹھائے ہیں۔ وزارت خزانہ میں کام کر چکے ایک سابق افسر نے دلیل دی ہے کہ اگر گزشتہ سال موجودہ قیمتوں پر مبنی جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں ترمیم نہ کی جاتی تو پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو ۶ء۲؍ فیصد بنتی۔ بعض ناقدین نے قومی حساب کتاب کے طریقہ کار میں حقیقی جی ڈی پی کا اندازہ لگانے کے لیے دوہری افراطِ زر ایڈجسٹمنٹ (ڈبل ڈیفلیشن) کا فارمولہ استعمال کرنے کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ایسی تنقیدوں کے درمیان وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد نے معلومات جاری کرتے ہوئے گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے موجودہ قیمتوں پر مبنی اعداد و شمار میں ترمیم کی وجہ واضح کی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مالی سال  ۲۶۔۲۰۲۵ءکی پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی کے تخمینے ۲۹؍ اگست ۲۰۲۵ء کو جاری کیے گئے تھے، جو  ۱۲۔۲۰۱۱ءکی قیمتوں پر مبنی تھے۔ اس وقت موجودہ قیمتوں پر سہ ماہی جی ڈی پی کا تخمینہ  ۰۵ء۸۶؍ لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:سوَرا بھاسکر کا وضاحتی بیان: ’’میں نے رانی پدماوتی کو کبھی بزدل نہیں کہا‘‘

اس سال ۲۳۔۲۰۲۲ء کو بنیادی سال بنا کر جی ڈی پی کی نئی سیریز شروع کی گئی، جس میں پوری ٹائم سیریز میں وسیع پیمانے پر ترمیم کی گئی۔ اس کی بنیاد پر  ۲۶۔۲۰۲۵ء کی پہلی سہ ماہی کے لیے موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کو نظرثانی کرکے  ۳۲ء۸۰؍ لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اس کے بعد ۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو  ۲۶۔۲۰۲۵ءکے جی ڈی پی کے عارضی تخمینے جاری کیے گئے تو اس نئے اعداد و شمار کو دوبارہ نظرثانی کرکے  ۴۴ء۸۰؍ لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اس کے بعد صنعتی پیداوار اشاریہ اور مصنوعات کی قیمتوں کے اشاریے (پی پی آئی) کی نئی سیریز جاری ہونے اور انہیں جی ڈی پی کے حساب میں شامل کرنے کے بعد یہ اعداد و شمار  ۰۰ء۸۰؍ لاکھ کروڑ روپے ہو گئے۔ وزارت نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے موجودہ قیمتوں پر مبنی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کا ۰۵ء۸۶؍ لاکھ کروڑ روپے سے کم ہو کر۰۰ء۸۰؍ لاکھ کروڑ روپے ہونا  بنیادی سال میں تبدیلی، بہتر اعداد و شمار کے ذرائع کو شامل کرنے، بہتر طریقۂ کار کے استعمال اور دستیاب اشاریوں کو تازہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ موجودہ سال کی شرح نمو کو مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے گزشتہ سال کے جی ڈی پی کو جان بوجھ کر کم کیا گیا۔ 
حکومت نے کہا، اس لیے ۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کے ۲۷ء۸۸؍ لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے کا متعلقہ موازنہ ۲۶۔۲۰۲۵ء کی پہلی سہ ماہی کے ۳۲ء۸۰؍ لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ پرانی سیریز کے ۰۵ء۸۶؍ لاکھ کروڑ روپے کے جی ڈی پی تخمینے سے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسالنکا وہائٹ بال ٹیم کا نائب کپتان مقرر، انگلینڈ کے خلاف ٹی ۲۰؍ سیریز میں واپسی

موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں موجودہ اور مستقل دونوں قیمتوں پر جی ڈی پی میں بہت زیادہ شماریاتی تضاد کے بارے میں وزارت نے کہا کہ یہ فطری ہے۔ ایسا تضاد پیداوار اور اخراجات کے طریقۂ کار سے تیار کیے گئے جی ڈی پی تخمینوں کے درمیان فرق سے پیدا ہونے والی ایک شماریاتی توازنی مد ہے۔ اس لیے صرف تضاد میں تبدیلی کو خود بخود اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ رپورٹ کیا گیا جی ڈی پی کم یا زیادہ اندازہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK