• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ارجنٹائنا نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبے روک دیا

Updated: January 12, 2026, 2:42 PM IST | Jerusalem

ارجنٹائنا نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبہ حالیہ سیاسی تناؤ کے باعث مؤخر کر دیا ہے۔ یہ کشیدگی فاکلینڈ جزائر کے قریب اسرائیلی کمپنی کی تیل کھدائی کے منصوبے پر اختلافات کے بعد سامنے آئی ہے۔

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu with Argentine President Javier Milei. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ارجنٹائنا کے صدر جیویر میلی کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل کے چینل’۱۲‘ کی خبر کے مطابق ارجنٹائنا نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے منصوبے حالیہ کشیدگی کے بعد معطل کر دیئے ہیں جو اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو اور ارجنٹائنا کے صدر خاویئر میلی کے درمیان پیدا ہوئی۔ چینل’۱۲‘ کے مطابق، جس کا حوالہ ٹائمز آف اسرائیل نے دیا، یہ تناؤ اسرائیلی ملکیتی کمپنی نویٹاس پیٹرولیم کے منصوبوں سے جڑا ہے، جو فاکلینڈ جزائر کے قریب سمندر میں تیل کی کھدائی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان منصوبوں کے مطابق آپریشنز ۲۰۲۸ءمیں شروع ہونے ہیں۔ فاکلینڈ جزائر برطانیہ کے زیرِانتظام ایک سمندر پار علاقہ ہیں، تاہم، ارجنٹائنا ان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے اور انہیں اسلاس مالویناس کہتا ہے۔ 
دسمبر میں ارجنٹائنا نے نویٹاس اور برطانیہ میں قائم کمپنی راک ہوپر ایکسپلوریشن پر تنقید کی، جب کمپنیوں نے جزائر کے قریب تقریباً ۱ء۲؍ارب ڈالر مالیت کے ایک آف شور تیل منصوبے کا اعلان کیا، جسے بیونس آئرس نے غیر قانونی قرار دیا۔ ارجنٹائنا کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کیلئے اس کی منظوری حاصل نہیں کی گئی، اس لئےیہ برطانیہ کی جانب سے یکطرفہ فیصلہ ہے۔ ارجنٹائنا نے مؤقف اختیار کیا کہ منظوری نہ ہونے کے باعث یہ منصوبہ برطانوی حکومت کا ایک ’یکطرفہ فیصلہ‘ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا کیوبا کو سخت انتباہ، وینزویلا سے تیل اور امداد بند کرنے کا اعلان

غیر قانونی کارروائی
راک ہوپر کو ۲۰۱۳ءسے ارجنٹائنا میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے، جب اس کی سرگرمیوں کو مجرمانہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ نویٹاس پر بھی ۲۰۲۲ءمیں بغیر اجازت کھدائی کرنے کے باعث پابندی عائد کی گئی تھی۔ ۱۹۷۶ءکی ایک اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق، خودمختاری کے مذاکرات جاری رہنے کے دوران نہ ارجنٹائن اور نہ ہی برطانیہ کو اس علاقے کے حوالے سے یکطرفہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون ساعر نے ارجنٹائنا کے حکام کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیل کا نویٹاس کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس عوامی طور پر درج شدہ کمپنی کو کنٹرول نہیں کرتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہم وینزویلا کو امیراور محفوظ بنا رہے ہیں: ٹرمپ

ان کوششوں کے باوجود، نشریاتی ادارے نے صدر میلی کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس تنازع نے عملاً سفارت خانے کی منتقلی روک دی ہے اور یہ دوطرفہ تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ اس سے قبل ارجنٹائنا کو میلی کے دور میں اپنے قریبی اتحادیوں میں سے ایک قرار دے چکی ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور مسلسل رابطہ برقرار ہے۔ میلی نے پہلی بار فروری۲۰۲۴ء میں اسرائیل کے دورے کے دوران سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور نومبر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ نئی سفارتی عمارت کا افتتاح بہار میں کیا جائے گا۔ اسرائیل حکومتوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے سفارتی مشن تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں۔ اگر ارجنٹائنا ایسا کرتا ہے تو وہ ایسا کرنے والا نواں ملک ہوگا، جو امریکہ، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، پیراگوئے، فجی، ساموا، کوسووو اور پاپوا نیو گنی میں شامل ہو جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK