اقوام متحدہ میں روس نے ایران پر ہوئے حملے کو ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ، ساتھ ہی اسے کھلی جارحیت سے تعبیر کیا۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 9:05 PM IST | New York
اقوام متحدہ میں روس نے ایران پر ہوئے حملے کو ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ، ساتھ ہی اسے کھلی جارحیت سے تعبیر کیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے’’ کھلی جارحیت‘‘ قرار دیا ہے۔ روسی سفیرنے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف یہ فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے سبب خطہ ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔روسی نمائندےنے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر جوہری ہتھیارسازی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔‘‘ بعد ازاں روسی نمائندے نے یاد دلایا کہ ماضی میں عراق پر حملے کے لیے بھی اسی طرح کے من گھڑت دعوے کیے گئے تھے۔ انہوں نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں شامل ایرانی شخصیات پر حملوں کی مذمت نہ کرنا افسوسناک اور جانبدارانہ رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔جبکہ اجلاس کے دوران فرانس کے نمائندے نے روس کے برعکس موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کو موجودہ کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ فرانسیسی سفیر نے کہا کہ ’’ ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور اسے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر فی الفور مذاکرات کرنے چاہئیں۔‘‘تاہم انہوں نے خطے کے دیگر ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور نیتن یاہو نے دوران مذاکرات ایران پر حملے کی خفیہ سازش رچی:جانئے تفصیل
علاوہ ازیںچینی نمائندےنے اجلاس میں تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ چین نے خاص طور پر شہری آبادیوں اور اسکولوں کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بیجنگ نے مذاکرات پر زور دیا۔دریں اثناء سلامتی کونسل کے اس ہنگامی اجلاس نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے معاملے پر عالمی طاقتیں دو خیموں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ ایک طرف روس اور چین تہران کی حمایت اور خودمختاری کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف امریکہ اور یورپی ممالک اسرائیل کے دفاع اور ایران پر پابندیوں کے حق میں ہیں۔