• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: پناہ گزین خاندان شمسی توانائی کی مدد سے پنکھا چلانے اور رات میں بچوں کو پڑھانے کے قابل

Updated: October 27, 2026, 2:31 PM IST | Dhaka

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے طور پر تقسیم کی جانے والی پورٹیبل سولر کٹس پناہ گزین کیمپوں اور آفت زدہ علاقوں کے لوگوں کو ٹھنڈک، رابطے میں رہنے اور کام اور تعلیم حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اسٹاک ہوم انوائرنمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ فیلو سارہ روزنبرگ-جینسن نے کہا کہ گرڈ سے آزاد ان کٹس کو فوری طور پر نصب کیا جا سکتا ہے، جو سیلاب کے پانی میں اضافے، فرنٹ لائنز کی تبدیلی یا تباہ شدہ سڑکوں کی وجہ سے آمدورفت مسدود ہونے کی صورت میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے طور پر تقسیم کی جانے والی پورٹیبل سولر کٹس پناہ گزین کیمپوں اور آفت زدہ علاقوں کے لوگوں کو ٹھنڈک، رابطے میں رہنے اور کام اور تعلیم حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ روزانہ، محمد صابر بانس اور ترپال سے بنی جھونپڑی کی چھت پر ایک سولر پینل رکھتے ہیں جہاں ان کا خاندان ۲۰۱۷ء میں روہنگیا کے خلاف میانمار کی فوج کے کریک ڈاؤن سے فرار ہونے کے بعد سے رہ رہا ہے۔ ۶ سال قبل ملنے والا یہ پینل بنگلہ دیش کے ٹیکناف کیمپ میں ان کیلئے بجلی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ۳۵ سالہ صابر نے بتایا کہ ”اب ہم اپنے فون چارج کر سکتے ہیں، روشنی میں کھانا پکا سکتے ہیں، بچے رات کو پڑھ سکتے ہیں اور گرمیوں کے موسم میں پنکھے چلا سکتے ہیں۔ اس نے میرے خاندان کی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی حملے میں فلسطینیوں کے خیمے جل کر خاکستر، ۸۰۰؍ سے زائد بے آسرا

اسٹاک ہوم انوائرنمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ فیلو سارہ روزنبرگ-جینسن نے کہا کہ گرڈ سے آزاد ان کٹس کو فوری طور پر نصب کیا جا سکتا ہے، جو سیلاب کے پانی میں اضافے، فرنٹ لائنز کی تبدیلی یا تباہ شدہ سڑکوں کی وجہ سے آمدورفت مسدود ہونے کی صورت میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں سولر لالٹینوں اور گھریلو سسٹمز سے لے کر ہیٹنگ پیڈز اور الیکٹرک کک اسٹووز شامل ہیں۔ فوسل فیول کے برعکس، شمسی توانائی قیمتوں کے جھٹکوں یا آفت زدہ علاقوں تک مہنگی نقل و حمل کی محتاج نہیں ہے۔ گرتی ہوئی لاگت اور آسان ٹیکنالوجی نے اس تبدیلی کو فروغ دیا ہے۔ امریکہ میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ’ہوپ فار یوکرین‘ کے سی ای او یوری بویچکو نے کہا کہ ۷۵ سے ۸۰ سال کی عمر کے افراد بھی یہ کٹس حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صرف پلگ اینڈ پلے کا معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیکڑوں فلسطینی بے گھر

بڑھتا ہوا استعمال

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کراچی کے قریب شمسی توانائی سے چلنے والا تپِ دق (ٹی بی) کلینک چلا رہا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی نے سوڈان سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کیلئے جنوبی سوڈان کی رینک کاؤنٹی میں سولر واٹر فلٹریشن سسٹمز نصب کیے ہیں۔ نیپال میں اگست کے سیلاب، جس میں ۱۴۵۵ افراد ہلاک اور ۵۲۸۵ لاپتہ ہوگئے تھے، کے بعد آسٹریلیا میں قائم ’سولر بڈی‘ (SolarBuddy) سمیت مختلف تنظیموں کی جانب سے سولر کٹس تقسیم کی گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل سے۲۰۰۰؍ فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا اعتراف

اس سلسلے میں چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ امدادی ایجنسیاں اکثر طویل مدتی لیز پر ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کرتی ہیں اور تبدیلی کا مطلب نئے سسٹمز اور ڈسٹری بیوشن چینز پر اعتماد کرنا ہے۔ ’گلوبل پلیٹ فارم فار ایکشن‘ کی ایمی جینکس نے کہا کہ عطیہ دہندگان کی فنڈنگ میں کٹوتیوں نے نئے طریقوں کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”توانائی کے شعبے میں انسانی ہمدردی کے سیکٹر کی بیشتر تکنیکی مہارت کم ہو چکی ہے۔“ لاگت اب بھی بہت سے لوگوں کیلئ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بویچکو نے کہا کہ ان کا گروپ ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ۳۲۰۰ سے زائد کٹس تقسیم کر چکا ہوگا، لیکن فنڈنگ کی حدود کی وجہ سے اس میں دو سال لگے۔ ”ہمارے پاس تقریباً ۲۰۰۰۰ خاندانوں کی ویٹنگ لسٹ ہے۔ ہم مانگ کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK