ترقی میں مینوفیکچرنگ شعبے کی ۷ء۶؍ فیصد نمو اور بجلی و گیس کی فراہمی کے شعبے میں ۲ء۱۱؍ فیصد اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، اگست ۲۰۲۶ء میں صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو ۸؍فیصد تھی، جس کے مقابلے میں ستمبر کے دوران ترقی کی رفتار کچھ سست رہی۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi
ترقی میں مینوفیکچرنگ شعبے کی ۷ء۶؍ فیصد نمو اور بجلی و گیس کی فراہمی کے شعبے میں ۲ء۱۱؍ فیصد اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، اگست ۲۰۲۶ء میں صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو ۸؍فیصد تھی، جس کے مقابلے میں ستمبر کے دوران ترقی کی رفتار کچھ سست رہی۔
ہندوستان کے صنعتی شعبے نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ۷ء۶؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بدھ کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس ترقی میں مینوفیکچرنگ شعبے کی ۷ء۶؍ فیصد نمو اور بجلی و گیس کی فراہمی کے شعبے میں ۲ء۱۱؍ فیصد اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، اگست ۲۰۲۶ء میں صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو ۸؍فیصد تھی، جس کے مقابلے میں ستمبر کے دوران ترقی کی رفتار کچھ سست رہی۔
وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ کی جانب سے جاری ابتدائی تخمینوں کے مطابق، ستمبر ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کا صنعتی پیداوار کا اشاریہ بڑھ کر۳ء۱۲۴؍ ہوگیا، جبکہ ستمبر۲۰۲۵ء میں یہ۵ء۱۱۶؍ تھا۔ یہ اضافہ ملک میں صنعتی سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیت میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ شعبہ وار اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں کان کنی اور کھدائی کا اشاریہ۴ء۹۰؍ مینوفیکچرنگ کا۰ء۱۲۸؍ ، بجلی و گیس کی فراہمی کا۶ء۱۲۸؍ اور پانی کی فراہمی، سیوریج اور فضلہ انتظام کا اشاریہ ۴ء۱۴۶؍ رہا۔ مینوفیکچرنگ شعبے میں شامل ۲۳؍ صنعتی گروپوں میں سے ۱۷؍ نے ستمبر کے دوران مثبت نمو درج کی۔ موٹر گاڑیوں، ٹریلرز اور نیم ٹریلرز کی تیاری کے شعبے میں ۱۹؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برقی آلات کی تیاری میں ۹ء۳۳؍ فیصد اور ربڑ و پلاسٹک کی مصنوعات کی پیداوار میں ۹ء۱۹؍فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔موٹر گاڑیوں کے شعبے میں گاڑیوں کے پرزوں، اسپیئر پارٹس، لوازمات، مسافر گاڑیوں اور تجارتی گاڑیوں کی پیداوار نے ترقی کو سہارا دیا۔ دوسری جانب، برقی آلات کے شعبے میں سوئچ گیئر، سرکٹ بریکر، کنٹرول اور میٹر پینل، یو پی ایس نظام اور آپٹیکل فائبر کنیکٹرز جیسے آلات کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑیوں کی صنعت، برقی آلات اور ربڑ و پلاسٹک مصنوعات جیسے شعبے صنعتی ترقی میں اہم حصہ ڈال رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مارول کا ہندوستانی مداحوں کے لیے دیوالی تحفہ،’ ’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘ جلد ریلیز ہوگی
استعمال کی بنیاد پر صنعتی پیداوار کی درجہ بندی کے مطابق، ستمبر ۲۰۲۶ء میں بنیادی اشیا کا اشاریہ ۶ء۱۱۱ ، سرمایہ جاتی اشیا کا۴ء۱۵۳ ، درمیانی اشیا کا ۷ء۱۳۱؍ اور بنیادی ڈھانچے و تعمیراتی اشیا کا اشاریہ ۰ء۱۳۳؍ رہا۔ اسی دوران، پائیدار صارف اشیا کا اشاریہ۱ء۱۳۳؍ اور غیر پائیدار صارف اشیا کا اشاریہ ۸ء۱۱۱؍ درج کیا گیا۔ صنعتی پیداوار میں درمیانی اشیا، بنیادی اشیا اور سرمایہ جاتی اشیا کی اہمیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ سرمایہ کاری اور پیداواری عمل بھی معاشی کارکردگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سرمایہ جاتی اشیا میں مشینری اور صنعتی آلات شامل ہوتے ہیں، جو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ درمیانی اشیا وہ مصنوعات ہیں جو دوسری مصنوعات تیار کرنے میں خام مال یا اجزا کے طور پر کام آتی ہیں۔ وزارتِ شماریات نے اعلان کیا ہے کہ قیمت کی بنیاد پر پیداوار کا حساب لگانے کے لیے بعض مصنوعات کے گروپوں میں تھوک قیمت اشاریے کی جگہ آؤٹ پٹ پروڈیوسر پرائس انڈیکس کو قیمتوں میں تبدیلی کا اثر ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:راشد اور احمد زئی کی شاندار کارکردگی، افغانستان نے سیریز کا پہلا میچ جیت لیا
اس تبدیلی کا اطلاق صنعتی پیداوار کے اشاریے میں شامل ۴۶۳؍ میں سے ۲۳۴؍ مصنوعات کے گروپوں پر ہوگا، جن کا مجموعی وزن تقریباً ۳۶؍ فیصد ہے۔ اس اقدام کا مقصد متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں اور حقیقی پیداواری تبدیلیوں کے حساب کو بہتر بنانا ہے۔ وزارت نے یکم جون ۲۰۲۶ء کو صنعتی پیداوار کے قومی اشاریے کی نئی سیریز بھی جاری کی تھی، جس کی بنیادی مدت ۲۳۔۲۰۲۲ء مقرر کی گئی ہے۔ صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار میں یہ تبدیلیاں اقتصادی سرگرمیوں کی زیادہ مؤثر پیمائش کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ستمبر ۲۰۲۶ء کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود بھارت کے مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں نمو جاری ہے۔ بجلی و گیس کی فراہمی، گاڑیوں کی تیاری، برقی آلات اور دیگر صنعتی مصنوعات کی بہتر کارکردگی نے مجموعی صنعتی پیداوار میں اضافے کو سہارا دیا۔ اگرچہ ستمبر میں صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو اگست کے مقابلے میں کم رہی، لیکن سالانہ بنیاد پر ۷ء۶؍ فیصد اضافہ بھارتی معیشت میں صنعتی سرگرمیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں صنعتی پیداوار کی رفتار کا انحصار طلب، سرمایہ کاری، خام مال کی دستیابی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معاشی حالات پر ہوگا۔