• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی موسیقی کو فروغ دینے میں بپی لہری کا اہم کردار ہے

Updated: February 15, 2026, 11:31 AM IST | Mumbai

بالی ووڈمیں بپی لہری ان موسیقاروں میں شمارکیےجاتےہیں جنہوں نے فلمی موسیقی آلات کے استعمال کے ساتھ فلمی موسیقی میں مغربی موسیقی کو ملا کر’ڈسکو تھیک‘کی ایک نئی صنف تیار کی۔

Bappi Lahiri`s music still creates fun. Photo: INN
بپی لہری کی موسیقی آج بھی مستی پیدا کردیتی ہے۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ میں بپی لہری ان موسیقاروں میں شمارکیےجاتےہیں جنہوں نے فلمی موسیقی آلات کے استعمال کے ساتھ فلمی موسیقی میں مغربی موسیقی کو ملا کر’ڈسکو تھیک‘کی ایک نئی صنف تیار کی۔ بپی لہری کو بالی ووڈ کا راک اسٹار کہاجاتاہے ان کی پیدائش ۲۷؍نومبر ۱۹۵۲ءکو کلکتہ میں ہوئی ان کا حقیقی نام آلوکیش لہری تھا، وہ بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھے۔ انہوں نے ۳؍ سال کی عمرمیں ہی طبلہ بجانا شروع کر دیا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنے والدین سےموسیقی کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ 
بپی لہری نےبطور موسیقار اپنےکرئیر کاآغاز ۱۹۷۲ء میں ریلیز ہونےوالی بنگالی فلم’دادو‘سے کیا لیکن یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ اپنےخوابوں کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے ممبئی کا رخ کیا۔ ۱۹۷۳ء میں ریلیز فلم’ننھا شکاری‘بطور موسیقار ان کے کریئر کی پہلی ہندی فلم تھی لیکن بدقسمتی سے یہ فلم بھی ٹکٹ کھڑکی پر ناکام ثابت ہوئی۔ 
بپی لہری کی قسمت کا ستارہ ۱۹۷۵ءمیں فلم ’زخمی‘ سےچمکا۔ جس میں ’آؤتمہیں چاند پہ لے جائیں ‘ اور ’جلتا ہے جیا میرا بھیگی بھیگی راتوں میں ‘جیسے نغمے مقبول ہوئے۔ آج بھی ہولی کے موقع پر’زخمی دلوں کا بدلہ چکانے‘جیسا نغمہ اپنا ایک خاص مقام رکھتاہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فہد فاصل نے ’’آویشم ۲‘‘کے بنائے جانے کی تصدیق کردی

۱۹۷۶ءمیں بپی لہری کی میوزک ڈائریکشن میں بنی ایک اور سپرہٹ فلم ’چلتے چلتے‘ریلیز ہوئی۔ فلم میں کشور کمار کی آواز میں گانا’چلتے چلتے میری یہ گیت یاد رکھنا‘آج بھی سامعین میں اپنی شناخت بنائے ہوئے ہے۔ ۱۹۸۲ءکی فلم’نمک حلال‘کا شمار بپی لہری کے کرئیر کی اہم فلموں میں کیا جاتا ہے۔ 
۱۹۸۳ءمیں ریلیزہوئی فلم ڈسکو ڈانسر بپی لہری کےفلمی کرئیر میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ بی سبھاش کی ڈائریکشن میں متھن چکرورتی کی اداکاری والی اس فلم میں بپی لہری کی موسیقی کا ایک نیا انداز دیکھنے کو ملا۔ آئی ایم اے ڈسکو ڈانسر، جمی جمی جمی آجا آجاجیسے ڈسکو گانوں نے ناظرین کو جھومنے پر مجبور کردیا۔ بپی لہری اس فلم کی کامیابی کے بعد ڈسکو کنگ کے طور پر مشہور ہوگئے۔ 
۱۹۸۴ءمیں بپی لہری کےفلمی سفر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’شرابی‘ منظرعام پر آئی۔ اس فلم میں انہیں ایک بار پھر پروڈیوسر پرکاش مہرا اور سپر اسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ بپی لہری نے فلم میں اپنے میوزیکل سپر ہٹ نغموں دے دے پیار دے، منزلیں اپنی جگہ ہیں سے سامعین کو مسحور کردیا اور انہیں اپنے کرئیرمیں پہلی بار بہترین میوزک ڈائریکٹر کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ ۹۰ءکی دہائی میں بپی لہری کی فلموں کو متوقع کامیابی نہیں ملی۔ حالانکہ وہ ۱۹۹۳ءمیں آنکھیں اور دلال کے ذریعے فلم انڈسٹری میں واپس آئےلیکن اس کے بعد ان کی فلمیں زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ بپی لہری نےکئی فلموں میں اپنی گلوکاری سے بھی سامعین کو دیوانہ بنایا ہے، ان کے گائے ہوئے گانوں کی طویل فہرست میں بمبئی سے آیا میرا دوست، دیکھا ہےمیں نے تجھے پھر سے پلٹ کے، تو مجھے جان سے بھی پیارا ہے، یاد آرہا ہےتیرا پیار، سپر ڈانسر آئے ہیں آئے ہیں، جینا بھی کیا ہے جینا، یار بنا چین کہاں رے، تمہ تمہ لوگے، دل میں ہو تم خوابوں میں تم، او لالا اولالا وغیرہ شامل ہیں۔ بپی لہری نے ۱۵؍فروری ۲۰۲۲ءکو اس دار فانی کو الوداع کہا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK